2003 است
Al-Risala, August 2003, pp. 29–33
By Maulana Wahiduddin Khan
New Delhi: The Supreme Court on Thursday asked the centre to consider linking all major rivers within 10 years-instead of the proposed 41 years—at a huge expenditure of Rs 560,000 crore at today's prices. While the Centre said it proposed to complete the linking job by 2043, the court said it should accomplish the plan by 2012 to effectively control flood and drought situations. A Bench comprising Chief Justice B N Kirpal, Justice Y K Sabharwal and Justice Arijit Pasayat said that a task force would work out the modalities for creating the National River Network (NRN). Attorney general Soli J Sorabjee said that the President and the Prime Minister both have given their personal attention to the issue and were in favour of the same being worked out at an early date. The Centre in its affidavit said that it woud be able to link the peninsular rivers by the year 2035 and the Himalayan rivers by the year 2043. However, the Bench said that the proposal was being considered for last two decades without anything happening and it would be in the interest of all that the task was completed in the next 10 years. The Bench asked Sorabjee to give the Centre's response to the court on December 16, the next date of hearing on the issue which was taken up suo moto by the court. (Times of India, November 2, 2002) مذکورہ بالا معلومات ڈاکٹر وائی ایس راجن (Scientific Secretary, New Delhi)
سے حاصل ہوئیں۔
فرانسیسی مفکر ژان ژاک روسو سوئز رلینڈ کے شہر جنیوا میں ۱۷۱۲ میں پیدا ہوا۔ وہ قومی آزادی کے فکری معماروں میں سمجھا جاتا ہے۔ اُس کی کتاب معاہدہ عمرانی (Contract Social) بہت
اُس نے اپنی آٹو بایا گرافی میں اپنے بارے میں یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک بڑا گنہگار (great sinner) تھا۔ اُس نے مادی مصلحت کے تحت کیتھولک مذہب کو چھوڑ کر پروٹسٹنٹ مذہب اختیار کر لیا اور پھر وہ دوبارہ کیتھولک بن گیا۔
روسو نے اپنی آٹو بایا گرافی میں لکھا ہے کہ ایک گھر جس میں وہ ۱۷۳۰ میں رہتا تھا، وہ ایک بشپ کی دعا کی وجہ سے معجزاتی طور پر آگ میں جل جانے سے بچ گیا:
A house in which he was living in 1730 had been miraculously saved from a fire by a bishop's prayers. (HWP/661)
اس قسم کا واقعہ ہمیشہ کسی نہ کسی معلوم یا غیر معلوم مادی سبب کے تحت ہوتا ہے۔ مگر معتقدین اِس کو اپنے بزرگ کی کرامت کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی غلط انتساب (attribute) ہے جو تمام کراماتی قصوں کا اصل ماخذ ہے۔
مشہور جرمن مفکر فریڈرش نشے (وفات ۱۹۰۰) کا آخری زمانہ زیادہ تر سوئزرلینڈ میں گذرا۔ اُس کی صحت اکثر خراب رہتی تھی۔ وہ ۱۸۸۸ میں دیوانہ (insane) ہو گیا۔ اور اسی دیوانگی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی۔
میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ کئی بڑے اسکالر اس قسم کے افسوس ناک انجام سے دوچار اس کا سبب کیا ہے۔ غالباً اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ اکثر ایک شدید قسم کے ذہنی تضاد میں مبتلا رہتے ہیں۔ تفگیری سطح پر وہ کسی یقینی صداقت کو دریافت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ باوجود وہ اپنی عالمانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے انسان کی حیثیت سے پیش کریں جس نے حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کیا فکری سطح پر یہی داخلی تضاد غالباً اُن کو آخر کار دیوانہ بنا دیتا ہے۔ کسی عالی دماغ انسان کے لیے بلاشبہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ وہ ایک ایسی سچائی کو دریافت کرے جس پر وہ پورے یقین کے ساتھ جی سکتا ہو۔ مذکورہ حادثہ اکثر اُن ذہین لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جن کی فکری جڑیں الہامی صداقت پر مبنی نہ ہوں۔
ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی ایک سفر کے دوران دسمبر ١٩٣١ میں سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا آئے یہاں انہوں نے وکٹری ہال میں ایک تقریر کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ سچائی خدا ہے : Truth is God فرانسیسی مصنف رومین رولاں (Romain Rolland) نے سچائی کے اس تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ سچائی خدا ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس میں خدا کی ایک اہم صفت کا ذکر موجود نہیں، اور وہ سرور ہے:
If it is correct, that “Truth is God”, it appears to me that it lacks one important attribute of God: Joy. (LMG: 293)
میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا کہ سچائی خدا ہے ، یہ خدا کے وجود کی نفی ہے۔ خدا ایک باشعور وجود ہے۔ اگر وہ باشعور وجود نہ ہو تو وہ خدا بھی نہیں۔ سچائی ایک مجرد صفت ہے، وہ کوئی زندہ وجود نہیں۔ خدا کے اعتراف کی یہ کوئی صحیح تعبیر نہیں کہ خدا سچائی ہے یا سچائی خدا ہے۔ سولہویں صدی کے یورپ میں چرچ کا غلبہ تھا۔ بہت سے لوگ چرچ کے حکم پر صرف اس لیے ہلاک کر دیے گئے کہ وہ چرچ کے مسلمہ عقائد پر کلام کرتے تھے۔ انہیں میں سے ایک میخائل سروٹس (Michael Servetus) ہے۔ اُس کو ۱۵۵۳ میں اسپینیوں کی ایک مذہبی عدالت نے پھانسی کا حکم اُس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ یہ کہتا تھا کہ تثلیث کا عقیدہ (trinity) بائبل میں موجود نہیں۔ کو جب مذہبی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تو وہ بھاگ کر سوئزرلینڈ آگیا۔ اس لیے کہ مذہبی عدالتیں کیتھولک چرچ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور سوئزر لینڈ اُس زمانہ میں کالون (Calvin) کے اثر سے پروٹسٹنٹ ملک بنا ہوا تھا۔
تثلیث کا عقیدہ مسیحی مذہب میں بنیادی اور مرکزی عقیدہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ تثلیث کی کوئی اصل بائبل میں موجود نہیں۔ ایک بار میں نے ایک یورپین پادری سے پوچھا کہ تثلیث کا عقیدہ بائبل میں کہاں ہے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹہ تک بائبل کا انگریزی ترجمہ اُلٹتے پلٹتے رہے۔
انہوں نے بعض آیتیں پیش کیں ۔ میں نے کہا کہ ان آیتوں میں صراحت کے ساتھ تثلیث کا عقیدہ مذکور نہیں اور کسی مذہب کا بنیادی عقیدہ صراحت کے ساتھ اُس کی مقدس کتاب سے نکلنا چاہئے، نہ کہ خود ساختہ تاویل کے ذریعہ ۔ آخر کار وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے خاموشی کے ساتھ چلے گئے ۔ جدید طرز کی گھڑیوں کے سلسلہ میں سوئزر لینڈ کو بہت زیادہ شہرت ملی ہے۔ اس سے پہلے قرون وسطی میں ترکی میں روایتی گھڑیاں بنتی تھیں۔ مسلم کاریگر انہیں بناتے تھے اور باہر کے ملکوں میں انہیں مارکیٹ کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد یورپ میں اسپرنگ دار گھڑیاں بننے لگیں۔ سوئزر لینڈ اس قسم کی گھڑیوں کی صنعت کا خاص مرکز تھا۔ ترکی (استنبول) کے کاریگر اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہ سکے : (After the) steady improvement in pendulum-clocks and spring-driven watches in Europe, with which the Istunbul-based clock makers were not able to keep pace. By the early years of the eighteenth century, watch making in Turkey virtually came to an end. (MDE/233)
موجود زمانہ میں مسلم قوموں کے ساتھ ہر شعبہ میں یہی معاملہ پیش آیا ہے۔ کے دور میں دمشق اور بغداد اور قرطبہ اور استنبول جیسے مسلم شہر مرکزی حیثیت حاصل کئے ہوئے تھے۔ مگر جب سائنٹفک صنعت کا دور آیا تو مسلمان اُس میں پچھڑ گئے۔ وہ جدید دور کا ساتھ نہ دے سکے۔ پسماندگی اتنی بڑھی کہ وہ فکری امور تک جا پہنچی۔ مثلاً موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور دانشور تشدد کو جہاد بتا کر اُسے گلوریفائی کرنے میں مشغول ہیں جب کہ جدید دنیا فکری اور نظری حیثیت سے تشدد کو دورِ قدیم کی چیز سمجھ کر ترک کر چکی ہے۔
سوئزرلینڈ میں مسلمان بہت کم ہیں۔ تاہم یہاں کے شہروں میں مسلمانوں کی ایک تعداد یہ مسلمان زیادہ تر عرب ملکوں سے یا ترکی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سوئزرلینڈ کے شہروں میں بہت سی مسجدیں ہیں۔ میں سفر کر کے چند مقامات پر پہنچا تا کہ یہاں کی مسجدوں کو دیکھوں مگر یہ مسجدیں زیادہ تر گھروں کے ایک حصہ کو عبادت کے مخصوص کر کے بنائی گئی سوئزرلینڈ میں بعض مستقل مسجدیں بھی ہیں مگر میں اُن کو دیکھ نہ سکا ۔ ان مسجدوں سے وابستہ کچھ
مسلمانوں سے ملاقات ہوئی مگر اُن سے کوئی قابل ذکر بات نہ ہوس۔ کیوں کہ وہ نہ انگریزی زبان جانتے تھے اور نہ عربی زبان۔ بعض ایسے افراد ملے جو ٹوٹی پھوٹی عربی بول سکتے تھے۔ اُن سے کچھ معمولی قسم کی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ سوئزر لینڈ میں مسلمانوں کے لیے دینی اعتبار سے کوئی مسئلہ
سوئزر لینڈ میں جو "مسجدیں" دیکھنے میں آئیں اُن میں سے ایک وہ مسجد تھی جس کو مقامی ترکوں نے قائم کیا ہے۔ اس مسجد میں چند ترک ملے۔ وہ غالباً لیبر کلاس کے لوگ تھے۔ وہ صرف ترکی زبان بول سکتے تھے اس لیے اُن سے کوئی گفتگو نہ ہوسکی۔ البتہ انہوں نے ۱۸ صفحہ کا ایک پمفلٹ دیا جو ترکی زبان میں تھا۔ اس کی چھپائی معمولی تھی۔ اس پمفلٹ کے آخر میں اُس کا نیو ر کا پتہ چھپا ہوا تھا۔ تعارف نامہ کے صفحہ اول پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد اُس کا عربی نام اس طرح درج تھا: الجمعية العليا لاتحاد الجمعيات الاسلامية فى سويسرا۔ اُس کے نیچے غالباً ترکی کی زبان میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: