Al-Risala · August 2003

İNSAN VE UYUM

Al-Risala, August 2003, pp. 33–37

By Maulana Wahiduddin Khan

مغرب میں مقیم ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ میڈیا مسلمانوں کے معاملہ میں ہمیشہ تعصب انہوں نے میڈیا کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کیوں ہے کہ یہودی جب فلسطینیوں کے خلاف متشددانہ حملہ کرتے ہیں تو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلیوں نے ایسا اور ایسا کیا۔ مگر ایسے موقع پر ایسا نہیں کہا جاتا کہ یہودیوں نے ایسا کیا۔ اس نے کہا کہ یہی معاملہ آئر لینڈ کی آئی آر اے (IRA) ان کے اس قسم کے عمل کو عیسائیوں کا عمل نہیں بتایا جاتا مگر مسلمان جب کسی متشددانہ عمل میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس وقت مغربی میڈیا اس کو اسلام کی طرف منسوب کر کے مسلمانوں کے مذہب کی مذمت کرنے لگتا ہے:

Why is it that when the Jews commit a terrorist act against the Palestinians it is only said that the Israelis have done this or that, but it is not said that the Jews did it. The same is of the IRA in

مغربی میڈیا کے خلاف یہ اعتراض غلط ہے۔ رپورٹنگ کا مذکورہ فرق ایک فطری فرق ہے۔ اسرائیل اور آئرلینڈ کے لوگ جو تشد دکرتے بیس وہ قومی نام پر کرتے بیس اس لیے وہ ان کی قوم کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مسلم ”مجاہدین“ اپنا تشدد اسلام اور اسلامی جہاد کے نام پر کرتے ہیں اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ اُن کا تشدد اسلام کے نام سے رپورٹ کیا جائے۔ میرا یہ سفر ایک ہفتہ کا سفر تھا۔ اس سفر میں میں نے انڈیا سے لے کر یورپ تک ہر قسم کے مناظر مگر ہر جگہ صرف مادی سرگرمیاں نظر آئیں۔ میں نے سوچا کہ انسان کی دو ضرورتیں ہیں، مادی ضرورتیں (material needs) اور روحانی ضرورتیں (spiritual needs)۔ موجودہ دنیا میں تمام انسانی سرگرمیاں مادی ضرورتوں کی بنیاد پر چل رہی ہیں۔ روحانی ضرورتوں کی بنیاد پر حقیقی معنوں میں کوئی سرگرمی کہیں نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ مادی اعتبار سے ساری دنیا میں سامانِ حیات کی مگر روحانی اعتبار سے آج کا انسان فاقہ کی حالت سے دوچار ہو رہا ہے۔ دہلی میں میں محدود طور پر اسپرچول کونسلنگ کا کام کرتا ہوں۔ اس میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی شریک ہوتے ہیں۔ ایک ہندو خاتون دو دن میرے ”روحانی کلاس“ میں شریک ہوئیں۔ سے کافی متاثر ہوئیں وہ پچھلے ہیں سال سے روزانہ بلاناغہ مندر جایا کرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ ہیں سال میں سات ہزار سے زیادہ دن ہوتے ہیں۔ آپ سات ہزار دن تک مندروں میں گئیں اور ہماری کلاس میں صرف دو دن آئیں۔ آپ کے بیان کے مطابق، آپ کو ہماری کلاس میں روحانی غذا ملی۔ اب بتائیے کہ سات ہزار دن تک مندروں میں جانے سے آپ کو وہاں کتنی روحانی غذا ملی تھی۔ نے کہا کہ کچھ بھی نہیں۔ مندر میں تو صرف کچھ ظاہری قسم کے رسوم (rituals) ادا کیے جاتے ہیں۔ روحانی غذا یا فکری ترقی ملنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

میں نے کہا کہ یہی حال آج کل ہر مذہبی مقام کا ہے۔ مثلاً مسلمانوں کی درگاہوں میں بھی اسی

طرح صرف کچھ بے روح قسم کے مراسم ادا کیے جاتے ہیں۔ وہاں جانے والوں کو کسی قسم کی فکری اور روحانی ترقی نہیں ملتی۔ پھر میں نے کہا کہ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ وہی سرگرمی حقیقی معنوں میں مذہبی سرگرمی ہے، جس سے لوگوں کو روحانی خوراک ملے، جس سے لوگوں کو ذہنی ترقی ملتی ہو۔ بے روح رسوم و آداب کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں۔

۱۳ اکتوبر کو ملاقاتوں کے علاوہ ایک خاص پروگرام ”بوٹ پر لنچ“ کا تھا۔ ہم لوگ پارک ہوٹل سے کار کے ذریعہ سوئزرلینڈ کے ایک اور شہر لوسرن (Luzern) لے جائے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑی جھیل ہے جس کا نام لوسرن ہے۔ اس جھیل میں لوگ بوٹنگ کیا کرتے ہیں۔ ہمیں ایک جدید طرز کی بوٹ پر لے جایا گیا۔ اس دو منزلہ بوٹ میں کرسیوں پر بیٹھنے کا انتظام تھا۔ یہ بوٹ جھیل میں چل رہی تھی مگر اس کی رفتار کم رکھی گئی تھی تاکہ چاروں طرف کے خوبصورت مناظر کو لوگ دیکھ سکیں ۔ پرسکون طور پر چل رہی تھی کہ اس پر آسانی کے ساتھ لکھنے کا کام کیا جا سکتا تھا۔ میں نے اپنے سفر نامہ کے کچھ اجزاء اسی بوٹ پر تیار کئے ۔ بوٹ جھیل کے صاف شفاف پانی پر تیر رہی تھی ۔ چاروں طرف سرسبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ ماحول بے حد خوبصورت تھا۔ اسی قسم کے خوبصورت مناظر کو کشمیر میں دیکھ کر بابر نے کہا تھا:

اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است مگر میں نے جب سوئزرلینڈ میں فطرت کے مناظر دیکھے تو میرے دل نے کہا کہ خدا نے یہ خوبصورت مناظر دنیا میں اس لیے رکھے ہیں تاکہ انسان اس کے ذریعہ جنت کا ابتدائی تعارف حاصل کر سکے۔ کے یہ مناظر اُخروی جنت کا شوق پیدا کرنے کے لیے ہیں نہ کہ اس لیے کہ انہی کو جنت سمجھ کر اُن کے اندر اپنی خوشیوں کی دنیا بنانے کی کوشش کی جائے۔

بوٹ کے اوپر کرسیوں کے ساتھ میزیں بچھی ہوئی تھیں۔ لوگوں کو انہی میزوں پر لنچ دیا جدید طرز کی خوبصورت بوٹ پانی پر آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور لوگ اپنے کھانے پینے میں

بوٹ کے اوپر ایک سبق آموز منظر یہ دکھائی دیا کہ ہر مرد و عورت بار بار ہنس رہے تھے اور قہقہہ لگا رہے تھے۔ میں خود تو کسی قدر فاصلہ پر ایک الگ کرس پر خاموشی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ صاحب جو اُن لوگوں کے ساتھ شریک تھے، اُن سے میں نے پوچھا کہ وہ کون سی بات تھی جس پر یہ لوگ اتنا زیادہ ہنس رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر بات میں ایک تفریحی جملہ بول دیتے ہیں جس کو سن کر لوگ ہنس پڑتے ہیں۔ مثلاً اس بوٹ پر شطرنج (Chess) کے ایک مشہور کھلاڑی بھی موجود تھے۔ ایک صاحب نے ان کے ساتھ شطرنج کھیلا اور ہار اس پر ان کے ایک ساتھی نے لائٹ موڈ میں انہیں خطاب کرتے ہوئے کہا: میرے ہارنے والے دوست (My defeated friend)۔ یہ سن کر لوگ ہنس پڑے۔

یہ پڑھے لکھے لوگوں کی تفریح کا طریقہ ہے۔ وہ ہر بات میں ایک چھوٹا جملہ شامل کر دیتے ہیں جس کو سن کر لوگ ہنس پڑتے ہیں۔ یہ تفریح کلچر موجودہ زمانہ میں بہت عام ہو چکا ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ اس غیر سنجیدہ انداز نے تعلیم یافتہ لوگوں کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ لوگ اپنے مخصوص پروفیشن میں مادی تقاضے کی بنا پر تو ضرور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ وہاں وہ اپنے کو سنجیدہ انداز میں استعمال یہی وجہ ہے کہ آج کل کا ہر تعلیم یافتہ اپنے پروفیشن کے محدود دائرہ میں تو ایک صاحب علم انسان نظر آتا ہے مگر پروفیشن کے باہر دوسرے شعبوں کے اعتبار سے اس کی سوچ مقابلہً سطحی ہوتی اس کا سبب یہ ہے کہ دوسرے پہلوؤں میں اس کا ذہنی ارتقاء ہی نہیں ہوتا۔ میں اپنی زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملا ہوں۔ ان کی تقریریں سنی ہیں اور تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ موجودہ زمانہ کے بیشتر لوگ دہرا شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایک پہلو سے وہ آخری حد تک مکمل ہوتے ہیں اور دوسرے پہلو سے آخری حد تک ناقص۔ ایک پہلو وہ ہے جس سے ان کا دنیوی انٹرسٹ وابستہ ہو۔ اس معاملہ میں وہ آخری حد تک سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ پوری دقت نظر کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ اتنے ایکسپرٹ بن جاتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر ماہرانہ انداز میں گفتگو کر سکیں۔

اس کے بعد زندگی کے وہ دوسرے پہلو ہیں جن سے براہِ راست طور پر ان کا مادی انٹرسٹ وابستہ نہیں ۔ ان دوسرے موضوعات کو وہ ہمیشہ سرسری انداز میں لیتے ہیں ۔ وہ ان کے بارے میں زیادہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دوسرے موضوعات پر ان کے خیالات واضح نہیں ان دوسرے موضوعات پر ان کا دماغ کنفیوژن کا ایک جنگل ہوتا ہے ۔ ان دوسرے موضوعات پر وہ یا تو طفلانہ باتیں کرتے ہیں یا ایسی الجھی ہوئی باتیں جس سے سننے والے کو کچھ بھی حاصل نہ ہو ۔ اس معاملہ کا مزید تباہ کن پہلو یہ ہے کہ یہ تعلیم یافتہ افراد اپنی مذکورہ روش کی بنا پر اپنے مخصوص فن کو بخوبی طور پر جانتے ہیں اور ان پر ماہرانہ انداز میں کلام کر سکتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد (false sense of confidence) پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس جھوٹے اعتماد کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کی ملاقات کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جو دوسرے موضوعات کے معاملہ میں ان کی علمی اور فکری کمی کی تلافی کر سکے تو وہ اپنے فرضی اعتماد کی بنا پر اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دے پاتے ۔ وہ اس کو ناقابلِ لحاظ سمجھ کر اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اس کا یہ تباہ کن نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے اندر سیکھنے کا عمل رک جاتا وہ ایک قسم کے جہلِ مرکب کے مریض بن کر رہ جاتے ہیں ۔

بوٹ کے اس سفر میں ہمارے ساتھ لوسرن کے ایک ریٹائرڈ جنرل بھی تھے جن کا نام جنرل سرمان (Zimmermann) تھا۔ بوٹ سے اترنے کے بعد جھیل کے ساحل پر ان سے ملاقات انہوں نے کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں اور میں نے آپ کو پڑھا ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ دنیا میں اپنے قسم کے ایک ہی انسان ہیں:

Printed page