Al-Risala · August 2003

Politics is the art of the possible.

Al-Risala, August 2003, pp. 38–45

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ میں نے اس مسئلہ کا گہرا جائزہ لیا ہے اور ۱۹۶۸ء سے میں ایک ہی بات کہتارہاہوں۔ یہ کہ لائن آف ایکچول کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد مان کر معاملہ کو ختم کردیا جائے۔ اس مسئلہ پر میں نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو ایک خط (۹ جولائی ۲۰۰۱) بھیجا تھا۔

اُن کا دوسرا سوال یہ تھا کہ فلسطین میں تشدد کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں فلسطینیوں کے سامنے میں ایک تجویز بار بار پیش کرتا رہا ہوں اور وہی آپ کو بھی بتاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی پالیسی کے بارے میں ایک روایت صحیح البخاری میں آئی ہے۔ اُس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کو جب بھی دو طریقوں میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے۔ اس حدیث کے مطابق فلسطینیوں کو چاہئے کہ وہ پُرتشدد طریقہ کار کو چھوڑ دیں اور اپنی جدوجہد کے لیے پُر امن طریقہ کار کو اختیار کر لیں۔ اس کے بعد تشدد اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ آخر میں انہوں نے اسلامی لٹریچر کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ انہیں چند انگریزی کتابیں دے دی گئیں۔ برگسٹاک ہوٹل ایک پہاڑی کے اوپر واقع ہے۔ ہماری کار لمبا پہاڑی راستہ طے کرکے وہاں انڈیا میں پہاڑی راستہ پر چلنا ایک مشکل سفر کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ مگر یہاں کی سڑکیں اور یہاں کی گاڑیاں اتنی معیاری ہیں کہ یہ پورا سفر نہایت آسانی کے ساتھ طے ہوگیا۔ برگسٹاک ہوٹل بالکل نئے تصور کے مطابق بنایا گیا ہے۔ وہ ایک سبزہ زار کے درمیان واقع یہاں ۱۳ اکتوبر کی شام کو رات کا کھانا کھایا گیا۔ اس ہوٹل میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک جیکب ون یوکس گل (Jakob von Uexkull) تھے۔ وہ ایک سینیئر جرنلسٹ ہیں۔ وہ سویڈن (Stockholm) کے رہنے والے ہیں۔ ان سے دیر تک تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے جدید

مغربی انسان کے بارے میں کہا کہ اس کا کیس معنویت کی تلاش (search for meaning) کا کیس وہ مادی تہذیب کے بارے میں اپنا یقین کھو چکا ہے۔ وہ ایک نئی چیز کی تلاش میں ہے۔ مگر وہ اب تک اسے نہ پاسکا۔

اس گفتگو کے دوران امریکی مصنف ہنٹنگٹن کی کتاب کلیش آف سو یلا ئزیشنز (Clash of Civilizations) کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ اس کتاب میں اسلام کی غلط نمائندگی کی گئی مصنف نے مسلمانوں کی قومی کوشش کو اسلامی جہاد کے ہم معنی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کی موجودہ قومی کوشش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد میں نے انہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات سے

برگنٹاک ہوٹل میں الفریڈ و یونس (Alfredo Sfeir Younis) سے ملاقات ہوئی۔ ایک جرمن ہیں اور اب وہ جنیوا میں رہتے ہیں۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے اپنا جو کارڈ دیا اس پر ان کی بابت یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے:

Special representative to the United Nations and the World Trade Organization, The World Bank Geneva. الفریڈ و یونس سے اسلام پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کی شکل یہ تھی کہ پہلے میں نے بار بار سوال کر کے ان کے اپنے شعبوں سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ تو صرف مجھ سے پوچھ رہے ہیں، خود کچھ نہیں بتاتے۔ اس طرح گفتگو کا موضوع اسلام بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ پڑھا ہے مگر اسلام کے بارے میں میری معلومات بہت کم ہیں۔ اس کے بعد میں نے تفصیل کے ساتھ انہیں اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ وہ نہایت غور کے ساتھ میری باتیں

۱۴ اکتوبر کی صبح کو مسٹر آندرے بیکوف سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس ملاقات کا انتظام انہوں نے پارک ہوٹل میں کرایا تھا۔ اس گفتگو میں مذہب اور روحانیت اور امن عالم جیسے سوالات پر مفصل تبادلہ

وہ نہایت ذہین آدمی ہیں۔ خود بھی گہری باتیں کرتے ہیں اور دوسرے کی بات کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں۔ وہ میری باتوں کو اپنے جیسی کمپیوٹر پر نوٹ کرتے رہے۔ انہوں نے ایک خاص بات یہ کہی کہ یروشلم کے ایک چرچ میں سال کے ایک دن ایک خاص تاریخ اور ایک خاص وقت میں آسمان سے روشنی آتی ہے۔ وہ چرچ کی چھت سے داخل ہو کر آتی ہے اور پورے ماحول کوروشن کر دیتی ہے۔ آندرے بیکوف نے بتایا کہ وہ اس مقدس روشنی کو دیکھنے کے لیے ہر سال یروشلم جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کی ویڈیو فلم بھی بنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ روشنی مسیح کی طرف سے آتی ہے۔ واپسی کے بعد انہوں نے ماسکو سے ٹیلی فون کر کے بتایا کہ اس سال یہ روشنی ایسٹر کے دن ۱۲ اپریل ۲۰۰۳ کو ظاہر ہوگی۔

اس قسم کے طلسماتی عقیدے ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔ لوگ ان کا تجزیہ نہیں کرتے اس لیے ان کے بارے میں ان کے یقین میں کوئی فرق نہیں آتا۔ مثلاً مذکورہ مسیحی روشنی پر غور کرتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ مسیح کے بعد چرچ نے ان کے اصل مذہب کو بدل ڈالا۔ پھر مسیح نے اصل مسیحیت کو انسان کے سامنے دوبارہ واضح کیوں نہیں کیا۔ حتیٰ کہ جس چرچ نے ان کے مذہب کو بدلا تھا اسی چرچ میں ہر سال مقدس روشنی بھیج کر وہ اس کو مستند بنانے(authentication) کا کام کر رہے ایسی حالت میں یہ روشنی، خواہ وہ جو بھی ہو، مگر وہ مسیحی روشنی ہرگز نہیں ہو سکتی۔ یہاں معلوم ہوا کہ سوئزرلینڈ میں ایک قانون کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ یہاں کے ۹۵ فیصد سے زیادہ گھروں میں اٹمک بنکر (Bunker) موجود ہیں۔ وہ اس لیے بنائے گئے ہیں تا کہ اگر کبھی ایٹمی حملہ ہو تو لوگ ان بنکروں میں پناہ لے کر اپنے آپ کو اس کی زد سے بچا سکیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ سوئزرلینڈ میں عام طور پر خدا لو گوں کا کُنسرن نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کو ہر چیز خدا کے بغیر ملی ہوئی ہے، پھر ہمیں خدا کی کیا ضرورت۔ شیطان نے یہ کیسا عجیب مغالطہ لوگوں کے دماغوں میں ڈال دیا ہے۔ سوئزرلینڈ کے لوگوں کو جھیل سے لے کر موٹر کار تک جو کچھ ملا ہوا ہے وہ سب مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے ذریعہ ہی انہوں نے اپنی موجودہ پر راحت زندگی کی بنیاد ڈالی ہے۔

الروالة 40 اگست 2003

تعمیر کی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ نعمت کو لے رہے ہیں مگر وہ منعم کا اعتراف نہیں کرتے۔ یہاں کویت کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام علی حسن ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ عربوں میں آج کل جو اسلام ہے وہ بڑا عجیب ہے۔ مثلاً اگر آپ ایک عرب سے پوچھیں کہ آج موسم کیسا ہے تو وہ ہر بات میں بار بار بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ اور سبحان اللہ بولے گا اور پھر جواب دے گا۔ یہ ان کا تکیہ کلام ہے، وہ کسی اسلامی اسپرٹ کا اظہار نہیں۔ میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں میں جو اسلام ہے وہ دین کے طور پر نہیں ہے بلکہ وہ ایک کلچر کے طور پر ہے، جیسا کہ دوسروں میں ہے۔ آج کل ہر مذہبی گروہ میں بظاہر مذہبی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ کلچرل سرگرمیاں ہیں، نہ کہ دینی سرگرمیاں۔

۱۴ اکتوبر کی شام کو ایک مجلس میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس مجلس میں آندرے بیکوف اور پرنس الزبتھ کے ساتھ دوسرے کئی لوگ موجود تھے۔ میرے ایک ہندوستانی ساتھی نے بعد کو بتایا کہ آپ ڈھائی گھنٹہ تک مسلسل انگریزی میں بولتے رہے اور میں حیرانی سے سن رہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کیسی عجیب نعمت ہے کہ آپ ایک مولوی ہوتے ہوئے اتنے وضوح کے ساتھ انگریزی دانوں کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کلام کر رہے ہیں۔

اس گفتگو میں دوسری باتوں کے ساتھ میں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ "ٹّرزم" کے خلاف بعض مغربی ملک جو فوجی کارروائیاں کر رہے ہیں اس سے ٹّرزم ختم ہونے والا نہیں۔ ٹّرزم گن ورسز گن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ گن ورسز آئیڈیالوجی کا مسئلہ ہے۔ لوگوں کو جاننا چاہئے کہ کچھ نام نہاد ٹّررسٹ لیڈروں کو ہلاک کر کے یا ٹّررسٹ مراکز کے نام پر کچھ بلڈنگوں کو تباہ کر کے ٹّرزم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے ٹّرزم کے جواز کے لیے ایک ایسا نظریہ دریافت کر لیا ہے جس پر انہیں کامل یقین ہے۔ حتی کہ خودکش بمباری کو وہ شہادت سمجھتے ہیں۔ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس جنگ میں اگر وہ ماراے گئے تو وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ آپ فوجی طاقت کے ذریعہ کسی کے جسم کو مار سکتے ہیں مگر فوجی طاقت کے ذریعہ اسپرٹ کو مار نہیں جاسکتا۔

میں نے کہا کہ اگر آپ دنیا سے تمام ایٹم بموں کو ختم کر دیں تب بھی ٹرزم ختم نہ ہوگا۔ ٹرزم مائنڈ میں ہے، نہ کہ ہتھیار کے ذخیروں میں۔ آپ کو اپنے موجودہ پروگرام کے ساتھ ایک نظریاتی جدوجہد شروع کرنی ہوگی :

۱۴ اکتوبر کی شام کی یہ مجلس غالباً میرے اس پورے سفر کی سب سے اہم مجلس تھی۔ میں ایک ممتاز مغربی شخص بھی شریک تھے جو لاس اینجلس میں رہتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ واشنگٹن کی امریکی انتظامیہ (Administration) سے اُن کے براہ راست تعلقات ہیں۔ مجلس میں اُن کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے فلسطین کے تحت عرب۔ اسرائیل مسئلہ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق، امریکی ذمہ دار فلسطین کے مسئلہ کی گہرائی کو ابھی تک سمجھ نہیں سکے ہیں۔ اس لیے بے شمار طاقت خرچ کرنے کے باوجود وہ اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ امریکی لوگ حقیقت پسند ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر انہیں صحیح بات پہنچائی جائے تو وہ ضرور اُس پر غور کریں گے۔

میں نے کہا کہ آپ امریکی ذمہ داروں کو بتائیے کہ صرف فوجی طاقت کے ذریعہ مغربی ایشیا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ امریکا مغربی ایشیا میں اپنی پالیسی کو بدلے۔ وہ یک طرفہ طور پر پرو اسرائیل پالیسی پر قائم رہا ہے۔ اب وہ اپنی اس پالیسی کو بدل کر اس معاملہ میں حکیمانہ فارمولے کو اختیار کرے جس کو میں بھی جیتا تم بھی جیتے(win-win formula) کہا جاتا ہے۔ مثلاً یروشلم کے معاملہ میں وہ اسرائیل کو ایک شہر دو انتظامیہ (one city, two administration) کے اصول پر راضی کرے۔ اس کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ اس اصول کے تحت یروشلم کے مشرقی حصہ کو عربوں کے حوالہ کر دیا جائے اور یروشلم کا مغربی حصہ اسرائیل کے قبضہ میں رہے۔

۱۴ اکتبر کی شام کو ڈنر پر پرنس ایلزبیتھ سے گفتگو ہوئی۔ اُن کی زندگی میں کئی حادثے پیش بادشاہت ختم ہوگئی۔ شوہر سے طلاق ہو گیا۔ معاشی سہولتیں کم ہو گئیں۔ ان محرومیوں کے بعد وہ سکون کی تلاش میں نکلیں۔ اُن کی ملاقات ایک گرو و مائی سے ہوئی۔ اس کے بعد وہ یوگا اور میڈیٹیشن میں سکون تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ برسوں سے روزانہ میڈیٹیشن (meditation) کرتی ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ میڈیٹیشن کیا ہے۔ کیا وہ کوئی ذہنی عمل (intellectual process) انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر وہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ذہن کو سکون It is quietening of the mind. میں نے کہا کہ میں ایک روحانیت پسند آدمی ہوں اور میں بھی میڈیٹیشن کا عمل کرتا ہوں۔ میڈیٹیشن ذہنی عمل کے ذریعہ ہوتا ہے، نہ کہ ذہنی عمل کو بند کر کے یا اس کو سپریس (Supress) کر کے۔ موجودہ صنعتی دور کے مسائل میں سے ایک مسئلہ وہ ہے جس کو ذہنی تناؤ (mental tension) کہا جاتا ہے۔ اس صورت حال نے قدیم میڈیٹیشن کے طریقہ کو ایک نئی زندگی دے دی ہے۔ مغربی ملکوں میں مسلم صوفی اور ہندو سوامی کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر ذہنی عمل کو سپریس کرنے کا یہ طریقہ ایک قسم کی ذہنی تحذیر (intellectual aneaesthesia) ہے۔ انسان کی فطرت کے اعتبار سے اس کے لئے صحیح طریقہ ذہنی بیداری ہو سکتا ہے، نہ کہ ذہنی تعطل۔

پروفیسر محمود مراد ایک مصری اسکالر ہیں۔ وہ جنیوا میں رہتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوا کہ میں ژگ میں ہوں اور یہاں کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوں۔ ۱۴ اکتوبر کی شام کو ان کا ٹیلی فون آیا۔ دیر تک ان سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔

پروفیسر مراد نے کہا کہ میں نے انگریزی اور عربی میں آپ کی کافی کتابیں پڑھی ہیں۔ آپ سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی مسلم دنیا میں آپ جیسا اسلامی اسکالر مجھے کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے وطن مصر گیا تھا۔ وہاں سڑک کا ایک حادثہ پیش آج کل میں زیر علاج ہوں اور سفر کرنے سے معذور ہوں ورنہ میں ژگ آتا اور آپ سے

براہ راست ملاقات کرتا۔ وہ کسی قدر دشواری کے ساتھ انگریزی بول رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ عربی میں بولیے۔ وہ اس کو سن کر خوش ہوگئے اور پھر بقیہ گفتگو عربی زبان میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایک کتاب عربی زبان میں شائع کی ہے جس پر الازہر کے علماء اس میں محمد ابن اسحاق (وفات ۱۵۱ھ) پر تنقید کی گئی ہے۔ تنقید کا ایک جزء یہ ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ مکی دور میں رسول اللہ ﷺ مشرکین کی حمایت میں رہے۔ حتیٰ کہ ابو طالب کی وفات کے بعد وہ نئے حامی کی تلاش میں طائف گئے۔ پروفیسر مراد کے نزدیک یہ بات بہت زیادہ غلط ہے۔ نزدیک رسول اللہ ﷺ خدا کی اور مسلم مجاہدین کی حمایت میں تھے، نہ کہ کسی کافر یا مشرک کی حمایت میں۔ یہ نقطہ نظر میرے نزدیک غیر تاریخی بھی ہے اور غیر تاریخی بھی ہے اور غیر قرآنی بھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ قبائلی نظام کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں کوئی شخص قبائل کی حمایت ہی میں محفوظ رہ سکتا تھا چنانچہ دوسرے پیغمبروں کی طرح خود پیغمبر اسلام بھی دورِ فتح سے پہلے قبیلہ کی حمایت (منعت) میں رہے ۔ یہ بات حدیث سے صراحتہ ثابت ہے۔ مسند احمد الجزء ۲ صفحہ ۵۳۳ )۔

اگر قرآنی اعتبار سے اس معاملہ کو دیکھیں تو قرآن بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عام انسانوں کے لیے ایک نمونہ (اسوہ) تھے۔ کوئی شخص نمونہ اسی وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ فوق الانسان نہ ہو بلکہ وہ عام انسانوں ہی کی مانند ہو۔ ورنہ وہ عام انسانوں کے لیے نمونہ (اسوہ) نہیں بن سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے انسان کے لیے نمونہ نہیں ہیں بلکہ پیغمبر انسان کے لیے نمونہ ہیں۔ اس بنا پر قرآن میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ پیغمبر تمہاری طرح ایک بشر ہے (ما انا الا بشر مثلکم) سوئزرلینڈ کے ایک مسیحی نوجوان جو پروڈکشن انجینئر کے طالب علم ہیں، ان کی عمر ۲۴ سال وہ ہابی کے طور پر فوٹوگرافی کرتے ہیں۔ پریا ملک نے بتایا کہ انہوں نے ان سے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی مذہب میں موت کے بعد دوسری دنیا کا تصور موجود ہے، پھر کیا آپ اس کے بارے میں نہیں سوچتے کہ موت کے بعد آپ کے ساتھ کیا پیش آئے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس معاملہ میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ یسوع مسیح نے ہمارے گناہوں کو اپنے اوپر لے لیا ہے اس

لیے ہماری جنت تو یقینی ہے۔ پھر ہمیں اس کی فکر کی کیا ضرورت:

Jesus Christ has taken all our sin. So Paradise is assured for all of us. Why should we worry about it. سوئزرلینڈ کی اس کانفرنس کے موقع پر دنیا کے مختلف حصوں کے لوگ تقریباً چار سو کی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ راقم الحروف کی انگریزی کتابیں اُن میں سے اکثر افراد تک پہنچائی گئیں۔ ایک انگریزی پمفلٹ مینی فیسٹو آف پیس (Manifesto of Peace) کے نام سے ہے۔ فوٹو کاپیاں کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے تیار کرائی گئیں اور اُن کو بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ کانفرنس کے ذمہ داروں کی طرف سے بڑے سائز کی ایک نہایت خوبصورت اور مجلّد کتاب آرٹ پیپر پر چھپوائی گئی تھی۔ یہ کتاب ۲۵۶ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کتاب میں امن سے متعلق میری تین تقریریں شامل کی گئی تھیں۔

۱۵ اکتوبر ۳ بجے شام کو، ہم لوگ زگ میں واقع نیوکلیئر ڈس آرمامنٹ فورم کے آفس میں لے وہاں مختلف چیزیں دیکھیں ۔ ایک دلچسپ چیز یہ تھی کہ مسٹر آندرے بیکوف نے ایک ویڈیو ٹیپ دکھایا جو اُن کے چھوٹے کمپیوٹر پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یروشلم کے ایک قدیم چرچ میں ہر سال اُس کی چھت کی طرف سے ایک تیز روشنی آتی ہے۔ یہ روشنی چند منٹ تک باقی رہتی ہے۔ یہ واقعہ ہر سال ایسٹر کے موقع پر پیش آتا ہے۔ آندرے بیکوف اس روشنی کو دیکھنے کے لیے یروشلم گئے۔ وہاں انہوں نے اس معاملہ کا پورا ویڈیو تیار کیا۔ اس کو انہوں نے کمپیوٹر کھول کر ہمیں دکھایا۔ یہ پورا ویڈیو چھ منٹ کا تھا۔ میں روشنی ایک آبشار کی مانند ظاہر ہوئی۔ اُس نے کسی کو جلایا نہیں اور پھر کچھ دیر کے بعد اپنے آپ ختم ہوگئی۔ سفر سے واپسی کے بعد سوئزر لینڈ سے مختلف تاثراتی خطوط موصول ہوئے۔ اُن میں سے ایک مزعند لیب حیات کا تھا۔ ہمارے ساتھیوں میں سے ایک ہندوستان ٹائمز کے نمائندہ مسٹر خالد انصاری انہوں نے ہماری کچھ انگریزی کتابیں سوئزر لینڈ میں مزعند لیب حیات کو دی تھیں۔ بعد اُن کی طرف سے مسٹر خالد انصاری کو ای میل مورخہ ۳۰ اکتوبر ۲۰۰۲ اور ۲ نومبر ۲۰۰۲ ملا۔ خط میں انہوں نے مذکورہ لٹریچر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا:

Printed page