Dear Khalid
Al-Risala, August 2003, pp. 46–48
By Maulana Wahiduddin Khan
Thanks for your email- I am glad you got back ok last week and enjoyed your stay in Switzerland. Please thank Maulana for the books he left-they will keep me busy over the winter! Before reading "Ideology of Peace" I thought it will be just like any other book but the Islamic concept of peace and the wisdom presented by Maulana saheb, really amazed me. I am sure that this Islamic perspective and prophetic wisdom will definitely help people avoid conflicts and live in harmony. I am very sorry but when you sent the mail, my mailbox was full and didn't keep any copies of mails sent. Subsequently, this means that I don't have a copy of your text - I thought I had printed it out too and gave it to you? Do you remember that? I am sorry but there isn't any thing I can do. If I can help you in any way, please let me know. Nuclear Disarmament Forum AG Thanks for your email- I am glad you got back ok last week and enjoyed your stay in Switzerland. I have not been able to read all the literature you left behind but I want to share my excitement with you which has helped me undersatnd Islam in a better way. Islam which has been presented by Maulana appears to be practically more logical, nature- friendly and convincing. Please thank Maulana for the books he left-they will keep me busy over the winter! If I can help you in any way please let me know. Nuclear Disarmament Forum AG, Zug/Switzerland
۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ کو سویزر لینڈ سے دہلی کے لیے واپسی تھی۔ صبح ۱۰ بجے ہوٹل کو الوداع کہہ کر ژگ سے زیورک کے لیے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ حسب معمول پورا سفر ہموار سڑک اور دوطرفہ سبزہ کے درمیان طے ہوا۔ تقریبا ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد ہم زیورک کے ایرپورٹ پر پہنچے۔ ضروری کارروائی کے بعد ہم سوئس ایر کی فلائٹ نمبر ۲۷۲ میں داخل ہوئے۔ زیورک سے اس جہاز کی روانگی کا وقت ۱۲ بجے تھا۔ واپسی کا یہ سفر زیادہ ہموار نہ تھا۔ درمیان میں جہاز تیزی سے ہلنے لگا اور نیچے اوپر ہونے لگا۔ جہاز میں یہ معاملہ ہواؤں کے فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ سفر خواہ بحری جہاز سے ہو یا ہوائی جہاز سے، دونوں حالتوں میں سفر کا ہموار یا غیر ہموار ہونا تمام تر ہواؤں پر منحصر ہوتا ہے اور ہواؤں پر انسان کا کوئی حتیٰ کہ وہ پوری طرح قابل پیشین گوئی بھی نہیں۔ راستہ میں مشہور انگریزی اخبار ہیرالڈ انٹرنیشنل ٹریبیون (Herald International Tribune) کا شمارہ ۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ دیکھا۔ اخبار کئی ملکوں سمیت سویزر لینڈ سے بھی چھپتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر ایک خبر تھی جس کا عنوان یہ تھا: Al Qaeda shifting to small-scale operations. واشنگٹن کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپی ہوئی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ حال میں مغربی لوگوں کے خلاف کی ہوئی خودکش بمباری سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کے کارکن اپنے کمزور شدہ قائدین کی ہدایت پر دہشت گردی کی ایک نئی مہم شروع کر رہے ہیں۔ وہ نسبتاً چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کر رہے ہیں اور اقتصادیات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب القاعدہ غیر مسلح لوگوں پر حملہ کو اپنا نشانہ بنا رہی ہے: Al-Qaeda is resorting to more indiscriminate attacks against "soft" targets. جہاز میں نئی دہلی کا انگریزی روز نامہ ٹائمز آف انڈیا (۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲) بھی مطالعہ کے لیے اُس کے ادارتی صفحہ پر حسب معمول ایک قول درج تھا۔ یہ قول ہندوستان کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کا تھا۔ اُس میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ مغربی ممالک اپنے خلاف دہشت گردی کو زیادہ اور ہمارے یہاں کی دہشت گردی کو وہ زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے:
The problem is western countries see their own terrorism better and do not see our terrorism as quite so serious. (p. میرے نزدیک یہ شکایت بالکل بے جا ۔ ہندوستان سمیت ہر ملک یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور دوسروں کے مسائل کو کم۔ ایسی حالت میں یہ ایسا گناہ ہے است کہ در شہر شما نیز کنند کا معاملہ ہے۔ پھر اس پر کسی ایک کو دوسرے سے شکایت کرنے کا کیا حق ہے۔ جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اترا تو مقامی وقت کے لحاظ سے رات کے ایک بج چکے تھے۔ دوران دوبارہ کیلنڈر بدل چکا تھا۔ زیورک میں جب ہوائی جہاز پر میں نے اپنا سفر شروع کیا تو اُس وقت وہاں کے اعتبار سے ۱۶ اکتوبر کی تاریخ تھی اور جب میں دہلی ایئر پورٹ پر پہنچا تو اکتوبر کی ۱۷ تاریخ شروع ہوچکی تھی۔ یہ سب ساڑھے سات گھنٹہ میں ہوا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ سوئزرلینڈ اور دہلی کے وقت میں ساڑھے تین گھنٹہ کا فرق پایا جاتا ہے۔