اقامت دین
Al-Risala, September 2003, pp. 51–53
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ دین قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ ڈالو (الشوریٰ ۱۳) ایک طرف قرآن میں یہ آیت ہے اور دوسری طرف قرآن میں ایک اور آیت ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج ٹھہرایا (المائدہ ۴۸) قرآن کی ان دونوں آیتوں پر غور کیجئے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے پیغمبروں کے ذریعہ مختلف زمانوں میں جو الہامی ہدایت بھیجی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ کو قرآن میں الدین کہا گیا ہے اور اس کے دوسرے حصہ کو شریعت اور منہاج کہا گیا ہے۔ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ الدین خدائی ہدایت کا غیر مختلف اور مشترک حصہ ہے۔ مگر جہاں تک شریعت اور منہاج کا تعلق ہے، اس میں ایک پیغمبر کی تعلیم اور دوسرے پیغمبر کی تعلیم کے درمیان ثابت شدہ طور پر فرق پایا جاتا ہے۔
الدین کیا ہے۔ الدین سے مراد خدائی ہدایت کا وہ ابدی حصہ ہے جو ہر حال میں اور ہر شخص سے یکساں طور پر مطلوب ہے ۔ اس سے مراد ہے ـــ توحید، اخلاص، فکر آخرت، ذکر و عبادت ، حسن اخلاق ، انسان سے خیر خواہی اور دعوت الی اللہ ، وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو اہل ایمان سے ہمیشہ مطلوب ہوتی ہیں، خواہ اہل ایمان تھوڑے ہوں یا زیادہ۔ امیر ہوں یا غریب، بے اقتدار ہوں یا با اقتدار ، سفر میں ہوں یا حضر میں، مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں، کسی بھی صورت حال میں یہ چیزیں اہل ایمان سے ساقط نہیں ہوتیں۔
اس کے برعکس شریعت اور منہاج کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ شریعت سے مراد قانون اور منہاج سے مراد طریق کار ہے۔ ان دونوں چیزوں کا تعلق تمام تر حالات سے ہے۔ کیوں کہ مختلف پیغمبروں کے
حالات ایک دوسرے سے الگ تھے۔ اس لئے انہیں الگ الگ شریعت اور منہاج دیے گیے۔ طرح خود امت مسلمہ کے حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اس امت کے لیے بھی مختلف حالات کے اعتبار سے اس کی وہ ذمہ داریاں مختلف ہوں گی جو شریعت اور منہاج کی نسبت سے اس سے مطلوب ہیں۔
مثلاً امت مسلمہ کا کوئی گروہ بے اقتدار ہو تو اس پر صرف دین کے مذکورہ بنیادی تقاضے ہی فرض قانون اور حدودِ شرعی کا نفاذ اس وقت اس سے مطلوب نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر امت پر کھلی جارحیت کی جائے اور اعراض کی تدبیریں ناکام ہو جائیں تو اس وقت بشرطِ استطاعت دفاع اس پر فرض ہو جائے گا۔ لیکن اگر حالات معتدل ہوں تو اس سے یہ مطلوب ہوگا کہ وہ پُر امن طریق کار کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا کام کرے۔
کچھ لوگوں نے قرآن کی سیاسی تفسیر کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور اہلِ ایمان پر فرض ہے کہ وہ اس کے مختلف حصوں میں فرق نہ کرتے ہوئے اس کے سارے احکام کو بہ تمام و کمال زمین پر نافذ کریں۔ ان لوگوں کو اپنے اس خود ساختہ ’’انقلابی‘‘ نظریہ کے لیے قرآن میں کوئی آیت نہیں ملی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ کیا کہ لفظی مناسبت کا سہارا لے کر سورۂ الشوریٰ کی مذکورہ آیت کو لے لیا اور اس کے حوالہ سے یہ دعویٰ کرنے لگے کہ اس آیت میں اقامتِ دین سے مراد اقامتِ نظام ہے۔ اقیمو الدین کا مطلب یہ ہے کہ دین کے تمام احکام کو مکمل طور پر زمین کے اوپر نافذ کیا جائے۔
یہ بلاشبہ غیر سنجیدگی کی حد تک ایک غیر علمی بات ہے۔ جب یہاں دینِ مشترک کی اقامت کا ذکر ہے تو سارے دینی احکام کو اس آیت کے حکم میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ جیسا کہ عرض کیا گیا، شریعت اور منہاج کا دینی حصہ تمام انبیاء کے یہاں یکساں نہیں ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، دین و شریعت)
اس معاملہ میں ان سیاسی مفسرین کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ کرتے ہیں کہ وہ دین کو جزئی اور کلی
حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اگر اقامت دین میں سارے دینی احکام کا نفاذ مراد نہ لیا جائے تو یہ صرف جزئی احکام کی اطاعت کے ہم معنی ہوگا جب کہ مطلوب یہ ہے کہ کلی احکام کی اطاعت
مگر جزئی اور کلی کی یہ تقسیم صرف ایک مغالطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جو تقسیم مراد ہے وہ مطلق اور مشروط کی ہے۔ یعنی مذکورہ آیت میں الدین سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو مطلق طور پر مطلوب ہوتا ہے اور شریعت اور منہاج سے مراد دین کا وہ حصہ ہے جو حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے۔
اس سیاسی تفسیر کے بعض حامی یہ کرتے ہیں کہ وہ غیر متعلق مثالوں سے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالاں کہ تمام اہل علم جانتے ہیں کہ فرضی مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ: