Al-Risala · September 2003

سوال و جواب

Al-Risala, September 2003, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

جون ۲۰۰۳ء کا الرسالہ ملا۔ اس الرسالہ میں میرے نام ایک خط شائع ہوا ہے۔ آپ کا اصرار ہے کہ میں اپنا نقطۂ نظر تحریری طور پر بھیجوں آپ ضرور اس پر غور کریں گے۔ آپ ہمیشہ تنقید کو welcome آپ کی اس یقین دہانی کے پیشِ نظر آپ کو اپنا opinion لکھ رہا ہوں ۔ امید کرتا ہوں آپ اس پر positive یا negative جو بھی آپ کی رائے ہوگی اس سے مجھے ضرور باخبر کریں گے۔ قبولیت تنقید کی بنیادی شرط ہے، فرد کو معاملہ سمجھنے کے لیے اپنے آپ کو خود فریبی کے حصار سے نکالنا، جو بات کہی جارہی ہے اس پر اپنے کامن سنس کو اپلائی کرنا، ورنہ خود فریبی معاملے میں پیچیدگی پیدا کر دیتی ہے اور فرد سمپل لاجک کو سمجھنے سے محروم ہو جاتا ہے۔

الرسالہ جون ۲۰۰۳ء کے سر ورق پر حسبِ معمول آپ کے قلم سے نکلا ہوا حسب ذیل جملہ نقل کیا گیا ہے۔

"کوئی آدمی کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کا حقیقی کردار کیا ہے۔ " یہ جملہ منفی سوچ کا آئینہ ہے۔ اس جملہ میں منفی سوچ ہے یہ کیسے معلوم کیا جائے۔ اس لیے ہم ایک تجربہ کرتے ہیں آپ بھی غور کریں۔

کوئی آدمی یہ کہے کہ "مولانا وحید الدین خاں کیا ہے، اس کو جاننے کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ وہ کیا باتیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ہے کہ مولانا وحید الدین خان کا حقیقی کردار کیا ہے۔ یہ یقیناً منفی سوچ negative thinking ہے۔

بااخلاق انسان کے لیے منفی سوچ سے پرہیز لازم ہے۔ الرسالہ جیسے تعمیری جریدہ میں منفی سوچ کو کیسے جگہ مل گئی حیرت ہے؟ الرسالہ جون ۲۰۰۳ء کے صفحہ نمبر ۳۳ اور ۳۴ پر آپ کا میرے نام لکھا ہوا جو خط شائع ہوا ہے اس کے پہلے پیراگراف میں آپ نے آگے آنے والی بحث کے لیے ایک ڈسپلن مقرر کیا ہے: "بنیادی سوال یہ ہے کہ کس کو کس کے تابع کیا جائے۔ حوصلہ کو برداشت کے تابع کیا جائے یا برداشت کو حوصلہ کے تابع۔ اسی راز کو جاننے کا نام کامیابی ہے۔

اس کے بعد پیرا گراف نمبر ۲۔ ۴ اور ۵ میں بحث کو پوری کرتے ہوئے نتیجہ نکالا ہے۔ پوری بحث کو میں انٹلیکچول ڈس اونسٹی (intellectual dishonesty) کا کیس کہوں گا، کیوں کہ لفظ کی شکل بگاڑ کر بات کرنا اور اپنی بات ثابت کرنا intellectual dishonesty کے سوا کچھ بھی نہیں۔ حوصلہ زندگی کی ایک اہم قدر ہے، یہ آپ مانتے ہیں۔ لیکن پوری بحث میں لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر بات کرتے ہیں۔ مثلاً انگریزی کا لفظ confidence جو ایک نفسیاتی علامت ہے اس کی تشریح کوئی شخص لفظ over confidence کا استعمال کر کے لفظ confidence کی نفسیاتی علامت کی اہمیت گھٹائے کیا آپ اسے علمی تجزیہ کہیں گے؟ اردو لفظ حوصلہ کی ٹرم : پختہ ارادہ، احساس یافت، اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں مددگار نفسیات کے لیے لفظ حوصلہ کی ٹرم (term) استعمال کی جاتی اور ہمیشہ مثبت (positive) نفسیات کے لیے بولا جاتا ہے۔

اس کے برخلاف منفی (negative) نفسیات کے لئے لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر نہیں بولا جاتا بلکہ اس کے لیے خود فریبی، مایوسی، اندھی چھلانگ، انتقام، ظلم، تکبر وغیرہ الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ کو اس کے مقام سے ہٹانا یا اس کی شکل بگاڑنا intellectual dishonesty کا کیس اس کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں نقل کر رہا ہوں۔ آپ بھی غور کریں۔ سوسائیڈ اٹیکر کو شہید کہنا یا لکھنا معصوم لوگوں کے قاتل کو مجاہد کہنا یا لکھنا ڈاکو کو بہادر کہنا یا لکھنا چور کو عقل مند کہنا یا لکھنا سود کو تجارت کہنا یا لکھنا ان تمام مثالوں میں خط کشیدہ الفاظ کو اس کے مقام سے ہٹا یا گیا ہے جو صد فی صد کا کیس ہے۔ آپ اپنی تحریر کی خامی کو پرکھنے کے لیے پرائمری اسکول کا بنیادی سبق جملہ بنانے کی مشق کرو‘‘

اس سے رجوع کریں۔ اس مشق سے جملہ میں استعمال کیے گئے الفاظ کا فہم طالب علم کے ذہن پر نقش ہوتا ہے جس کی وجہ سے طالب علم لفظ کو سن کر یا پڑھ کر اس کے صحیح ادراک کو پالیتا ہے۔ اگر آپ لفظ حوصلہ کا استعمال کرتے ہوئے جملہ بنائیں گے تو آپ جان لیں گے کہ حوصلہ اس نفسیات کا نام ہے جس کے تابع برداشت۔ سچ بولنا، درگزر، اخلاق، سخاوت، انصاف، رواداری وغیرہ۔ ایسی کئی مثبت سوچ و عمل پر انسان کو ٹھہرائے رکھنے کی وجہ حوصلہ کی نفسیات ہے۔

میں نے آپ سے جو بات ٹیلی فون پر کہی تھی وہ قرآن شریف کی عربی لغت میں لفظ صبر کے فہم کے متعلق تھی۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ قرآنک عربک لغت میں لفظ صبر کا فہم اردو لفظ حوصلہ میں پورا اردو کا لفظ برداشت قرآن شریف کے لفظ صبر کا کمزور ترین مفہوم ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آڑ میں آپ نے خط میں پورے معاملہ کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ اس خط میں آپ نے پہلے پیراگراف میں جن انگریزی الفاظ courage (حوصله)، patience (برداشت) کو نقل کیا ہے۔ معلومات کے مطابق یہاں پر بھی آپ سے سہو ہوا ہے۔

انگریزی لفظ courage کے لیے اردو لفظ جرات، ہمت، بہادری قریب ترین لفظ ہیں۔ اردو لفظ برداشت کے لیے صحیح انگریزی لفظ tolerate یا tolerance ہیں۔ آپ اکثر اپنی تحریروں میں لفظ برداشت کے لیے ان ہی انگریزی لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔

انگریزی کا لفظ patience فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ لفظ برداشت اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

انگریزی لفظ patience + confidence کا فہم قرآن ک عرب ک لغت کے لفظ صبر سے قریب ترین ہے اور اردو لفظ حوصلہ کے بھی۔

یہ الفاظ انسانی نفسیات کی علامت کے بطور بولے اور لکھے جاتے ہیں اور یہی نفسیات انسان کی سوچ میں مددگار ہوتی ہے اور اسی سے انسانی نفسیات کو تولا اور پرکھا جاتا ہے۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور، ۴ جون ۲۰۰۳)

خود فریبی کیا ہے اور کون شخص خود فریبی میں مبتلا ہے۔ اس کا تحقق کسی شخص کے مدعیانہ ریمارک سے نہیں ہو سکتا۔ اس کو معلوم استدلالی اصول کے مطابق موضوعی طور پر ثابت کیا جانا چاہئے۔ پہلے کسی کو خود فریبی کا شکار بتانا ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے نہ کہ کوئی علمی بیان۔ میں نے آپ کی تحریر کوئی بار پڑھا مگر میرا احساس ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں اپنے بیان کی کوئی بھی علمی دلیل نہیں دی الرسالہ ماہ جون ۲۰۰۳ میں سر ورق پر جو جملہ نقل کیا گیا ہے وہ دراصل مؤطا الامام مالک کی ایک روایت کا تقریباً ترجمہ ہے۔ یہ روایت حدیث کے اس مشہور مجموعہ میں کتاب الجامع کے تحت اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : قال مالك وبلغنى ان القاسم بن محمد كان يقول : ادركت الناس وما يعجبون بالقول، قال مالك : يُريد بذلك العمل، إنما يُنظر إلى عمله ولا ينظر إلى قوله ( ص ۷۰۲) آپ نے الرسالہ کے جس شائع شدہ جملہ کو منفی سوچ کا آئینہ بتایا ہے اس کی زَدان مقدّس لوگوں تک جاتی ہے جو ثابت شدہ طور پر پوری امت کے لئے قدوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر کیا آپ اپنے مذکورہ تبصرہ کی اس توسیع کو پسند کریں گے۔ آپ نے الرسالہ جون ۲۰۰۳ میں میری چھپی ہوئی ایک عبارت کو انٹیلیکچول ڈس اونسٹی (intellectual dishonesty) قرار دیا ہے مگر آپ نے اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ بات صرف اتنی تھی کہ صبر کا لغوی مفہوم کیا ہے اور اس کا استعمالی مفہوم کیا۔ میرا کہنا یہ ہے کہ صبر کا لغوی مفہوم برداشت یا اپنے آپ کو روکنا ہے۔ مشہور عربی لغت لسان العرب میں صبر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: اصل الصبر الحبس، الصبر نقيض الجزع جس طرح پیش تر الفاظ کے استعمالی مفہوم میں توسیع ہوتی ہے اسی طرح صبر کے استعمالی مفہوم میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ خالص علمی اعتبار سے میرے اس نقطۂ نظر میں اعتراض کا پہلو کیا ہے۔

آپ نے جس چیز کو انٹیلیکچول ڈس اونسٹی کہا ہے وہ میرے لیے نا قابل فہم ہے۔ میں اکثر اس طرح کی مثالیں دیتا رہا ہوں کہ تاریخ کی کئی بڑی شخصیتوں میں حوصلہ اور ہمت کی

زبردست صلاحیت تھی مگر وہ نا کام ہو گئے کیوں کہ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جس صورت حال کے مقابلہ میں وہ اپنے حوصلہ کا استعمال کر رہے ہیں وہ دراصل برداشت کا معاملہ ہے۔

مثال کے طور پر ہندوستان کی دو شخصیتوں کو لیجئے ۔ سبھاش چندر بوس اور مہاتما گاندھی۔ دونوں یکساں طور پر با حوصلہ شخص تھے۔ دونوں نے برٹش ایمپائر کے خلاف اقدام کیا۔ میں سبھاش چندر بوس مبینہ طور پر ناکام رہے اور مہاتما گاندھی کامیاب۔ اس کا سبب یہی تھا کہ سبھاش چندر بوس کے پاس حوصلہ تھا مگر ان کے پاس صابرانہ منصوبہ بندی نہ تھی۔ جب کہ گاندھی کے پاس حوصلہ کے ساتھ صابرانہ منصوبہ بندی بھی موجود تھی۔ اس فرق نے ایک کو نا کام بنا دیا اور دوسرے کو کامیاب کر دیا۔ میں نے اپنی تحریر میں حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑا نہیں بلکہ یہ لکھا ہے کہ حوصلہ کو برداشت کے تابع رکھا جائے نہ کہ برداشت کو حوصلہ کے تابع بنایا جائے ۔ یہ واضح طور پر تدبیر کار کا معاملہ ہے نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا معاملہ۔

۴- آپ نے جو مثالیں نقل کی ہیں وہ سب فرضی مثالیں ہیں۔ کسی ڈسکشن میں اسی مثال کا تجزیہ کرنا چاہئے جو پیش کرنے والے نے پیش کی ہے۔ مفروضہ مثال سے ڈسکشن میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ مثلاً آپ نے confidence اور over confidence کا تقابل کیا ہے۔ اسی طرح آپ نے ڈاکو کو بہادر اور چور کو عقلمند کہنے کی مثالیں دے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو میری تحریر میں آپ کو میری تحریر میں وارد شدہ الفاظ یا مثال کا تجزیہ کر کے اپنی بات ثابت کرنا چاہئے، نہ کہ آپ کچھ مفروضہ مثالوں کو لے کر اپنا نقطۂ نظر ثابت کریں۔ اس قسم کی مثالیں اصل بحث کی نسبت سے ارریلیوینٹ (irrelevant) ہیں۔

۵- آپ نے اپنی تحریر میں ایک عجیب و غریب نصیحت مجھے یہ کی ہے کہ " آپ اپنی تحریر کی خامی کو پرکھنے کے لیے پرائمری اسکول کے بنیادی سبق کی مشق کریں ۔ " میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ کی ان سطروں کا زیر بحث مسئلہ سے کیا تعلق ہے۔ یہ ایک مجرّد ریمارک ہے اور مجرّد انداز میں منفی ریمارک کسی بھی شخص کے بارے میں کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس قسم کے ریمارک سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔

آپ کی کچھ سطریں لسانیات سے متعلق ہیں۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے کہ انگریزی لفظ پیشنس (patience) فہم کے اعتبار سے اردو لفظ برداشت سے بہت بلند ہے۔ آپ کا یہ بیان صرف ایک دعویٰ ہے جس کے لیے آپ نے کوئی دلیل نہیں دی۔ انگریزی کے مشہور لغت ویبسٹر (Webster's) میں پیشنس (patience) کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: The will or ability to wait or endure without complaint. (p. 1314)

ٹھیک یہی مفہوم برداشت کا بھی ہے، پھر دونوں میں کیا فرق۔

آپ نے پورے خط میں ایک عجیب و غریب انداز اختیار کیا ہے۔ آپ نے میرے خلاف کئی سخت بیانات دئے ہیں۔ مگر آپ نے اپنی تائید میں کوئی دلیل نہیں دی اور نہ کسی بات کا علمی اصول کے مطابق تجزیہ کیا۔ آپ نے صرف خود اپنے بیان پر انحصار کیا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ شعر و شاعری میں مستند ہے میرا فرمایا ہوا کا انداز تو ضرور چل سکتا ہے مگر علمی بحث میں یہ انداز بالکل بے فائدہ آپ کو مدعیا نہ کلام کے بجائے مدلّل کلام کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ آپ کے خط میں ایک اور بڑی عجیب بات ہے اور وہ ہے مجھ پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا آپ کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ متعین اور مشخص طور پر کسی پر اس قسم کا ذاتی الزام لگانا بے حد سنگین بات ہے۔ ایسے الزام کے لئے ناقابل تردید دلائل درکار ہیں۔ محض قیاسی اندازہ اس کے لیے میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ اس قسم کی باتوں کو اختلاف رائے کے خانہ میں ڈالیں نہ کہ انٹلکچول ڈس آنسٹی کے خانہ میں۔ انٹلکچول ڈس آنسٹی کا تعلق نیت سے ہے اور نیت کا علم صرف خدا یہ بے حد غیر ذمہ دارانہ بات ہے کہ قطعی دلائل کے بغیر کسی متعین شخص پر انٹلکچول ڈس آنسٹی کا الزام لگایا جائے ۔

آپ کا ایک ارشاد یہ ہے کہ میں نے لفظ حوصلہ کی شکل بگاڑ کر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اگر میں کہوں کہ زندگی میں کامیابی کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہے بلکہ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی اپنے جذبات کو تھام کر اپنے اقدام کی

دور اندیشانہ منصوبہ بندی کرے تو یہ حوصلہ کے مفہوم کو بگاڑنا نہیں ہوا بلکہ یہ زندگی کی وسیع تر حقیقتوں کو سامنے رکھ کر اس کا مفہوم متعین کرنا ہے۔ آپ کو غالباً معلوم ہوگا کہ حضرت عمر نے خالد بن ولید کو سپہ سالار کے مقام سے ہٹایا تھا تو اس کا ایک خاص سبب یہ تھا کہ حضرت خالد ایک بے حد حوصلہ مند آدمی تھے اور اپنے اس جذبہ کے تحت ایسا اقدام کر دیتے تھے جو حضرت عمر فاروق کے نزدیک سنگین رسک لینے کے ہم معنی تھا۔

تنقید کو قبول کرنے کی شرط وہ نہیں ہے جو آپ نے اپنے خط میں تحریر فرمائی ہے۔ زیر نظر تحریر کی نسبت سے اس کی شرط یہ ہوگی کہ تنقید علمی طور پر درست ہے۔ جیسا کہ اوپر کے تجزیہ سے واضح ہوتا ہے، آپ کی تنقید علمی اعتبار سے درست ہی نہیں۔ ایسی حالت میں اس کو کس طرح قبول کر لیا

یہاں میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ تنقید ایک بے حد مشکل کام ہے۔ صحیح تنقید کے لیے کئی ضروری شرطیں درکار ہیں۔ مثلاً ناقد متعلقہ موضوع پر عالمانہ نظر رکھتا ہو۔ اس کو معلوم ہو کہ علمی فریم ورک کیا چیز ہے۔ وہ ریلیوینٹ (relevant) اور ارریلیونٹ (irrelevant) کے فرق کو بخوبی جانتا وہ عقل پر مبنی استدلال (reason based argument) سے بخوبی طور پر واقف ہو۔ جانتا ہو کہ لفظی الزام اور مدلل تنقید میں کیا فرق ہے، وغیرہ۔ جس آدمی کو ان باتوں کا گہرا علم نہ ہو اس کو اس حدیث رسول کو اپنا رہنما بنانا چاہئے : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً

آپ سے الرسالہ کے متعلق دو سوال عرض کرتا ہوں، شاید آپ جواب دے سکیں۔ آپ کی تو عادت ہے جواب سے کترانا اور ایسا جواب دینا جس سے سائل متفق نہ ہو سکے۔ آپ نے الرسالہ فروری ۲۰۰۳ء کے صفحہ ۳۵ پر لکھا ہے کہ میں ملحد ہو گیا۔ اور پھر ۱۹۴۹ء میں دوبارہ اعظم گڑھ کی جامع مسجد میں ماسٹر عبد الحکیم انصاری کے سامنے کلمہ شہادت ادا کیا۔

کس خیال نے منکر بنایا؟ اور آپ نے پھر دوبارہ اسلام قبول کیسے اور کیوں کیا؟ دوسرا سوال اسی سے متعلق یہ ہے کہ آپ نے الرسالہ ستمبر 1999ء میں لکھا ہے کہ میری شادی 1942ء میں ہوئی۔ یعنی منکر کی حالت میں آپ نے شادی کی تو کیا اسلام لانے کے بعد دوبارہ نکاح کیا؟ جب کہ آپ نے نکاح حرام

آپ نے ”صدام حسین کے لیے انتخاب“ کے تحت الرسالہ جون 2003ء میں لکھا ہے صدام حسین کو وہاں سے ہٹ جانا چاہئے۔ یہ ایک ایسا پاگل پن مشورہ ہے جسے کوئی بھی باشعور انسان قبول نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کے ساتھ امیریکا کہے کہ آپ اپنے مشن کو ختم کرڈالیں اور ہندوستان سے نکل جائیں ورنہ آپ کو تباہ کر ڈالا جائے گا تو آپ کا کیا جواب ہوگا؟ شاید آپ جواب دیں مجھے تو امید نہیں (شاہ عمران حسن ، دلاور پور ، مونگیر)

سائل کا سوال یہاں سائل کے اپنے الفاظ میں پورا نقل کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ سوالات کا جواب مختصر طور پر عرض ہے۔

الرسالہ فروری 2003ء میں جس معاملہ کا ذکر ہے وہ وقتی طور پر اسلام کے بارے میں کچھ شکوک وشبہات کا ذہن میں پیدا ہونا ہے۔ اس قسم کے شکوک وشبہات ہمیشہ ان لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو تخلیقی فکر کے مالک ہوں۔ یہ شکوک وشبہات کسی سنجیدہ انسان کے لیے عظیم تر یقین تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ کی توفیق سے میرے ساتھ پیش آیا ۔ شکوک وشبہات کا یہ وقتی معاملہ تاریخ میں بہت سے بڑے بڑے علماء کو پیش آیا ہے۔ مثلاً امام ابو الحسن اشعری، امام الغزالی ، امام الرازی ، مولانا عبد الماجد دریا آبادی، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ۔ اس قسم کا مرحلہ پیش آنا کوئی عیب کی بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتی عقیدہ سے گزر کر اعلی معرفت حق تک پہنچنے کا ایک مرحلہ ہے۔ لوگ بہت خوش نصیب ہیں جن کو اللہ کی رحمت سے یہ مرحلہ پیش آئے۔

میرے ساتھ جو مذکورہ مرحلہ پیش آیا وہ خدا نخواستہ ترک اسلام یا انکارِ اسلام کا مرحلہ نہ

وہ صرف تحقیق مزید کا معاملہ تھا۔ چنانچہ ان سالوں میں بھی میں مسلسل اللہ سے دعا کرتا تھا۔ حسب معمول دوسرے مسلمانوں کی طرح نماز و روزہ ادا کرتا تھا۔ اور خصوصیت سے قرآن کے ان الفاظ پر غور کیا کرتا تھا جو ایک پیغمبر کے حوالہ سے آئے ہیں: قال او لم تؤمن قال بلیٰ ولكن ليطمئن قلبی (البقره ۳۶۰)

جہاں تک صدام حسین کے بارے میں میرے مشورہ کا معاملہ ہے تو اس میں سائل کی حیثیت ایک فارسی مقولہ کے مطابق ، مدّعی سست گواه چست کی مانند ہے۔ صدام حسین صاحب کو یہ مشورہ میں نے آغاز جنگ سے تقریباً ایک مہینہ پہلے دیا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، صدام حسین صاحب نے یہ مشورہ اس وقت نہیں مانا مگر جب امریکہ نے شدید بمباری کے ذریعہ صدام حسین کے محلوں اور بنکروں اور پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا مشورہ میں نے پہلے دیا تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنی سیاسی گدّی کو چھوڑ کر بغداد سے باہر چلے گئے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ صدام حسین صاحب کا یہ فعل فارسی شاعر کے اس شعر کا مصداق ہے کہ جو دانشمند کرتا ہے وہی نادان بھی کرتا ہے لیکن کافی تباہی کے بعد :

Printed page