Al-Risala · September 2003

آنچه دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

Al-Risala, September 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

کلمہ شہادت کو بار بار ادا کرنا ایک اہم اسلامی تعلیم ہے اور وہ تمام علماء صالحین کا طریقہ رہا جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جدّدوا ایمانکم بقول لا الٰہ الا الله (تم لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو)۔ یہاں دو سوالات درج کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ دونوں سوال بہت اہم ہیں۔ دونوں سوالوں کے واضح جواب عنایت فرمائیں۔ ایک یہ کہ جماعت اسلامی کے ایک سینئر عالم نے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ اس امت کی ایک تاریخ ہے، عظیم الشان تاریخ، ایسی تاریخ کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس تاریخ پر ہم فخر کرتے ہیں اور بجاطور پر کرتے ہیں۔ (سہ ماہی تحقیقات اسلامی،

علی گڑھ، جنوری - مارچ ۲۰۰۳ ،صفحہ ۶) کیا تاریخ پر فخر کرنا اسلامی نقطہ نظر سے صحیح ہے۔ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہے۔ انٹرویو کا ایک سوال یہ تھا کہ ملک کی فسطائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو کیسے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں امت کے لئے جماعت کی رہنمائی کیا ہے۔ امیر جماعت نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کہ’’جماعت مسلمانوں سے کہتی ہے کہ انہیں آگے بڑھ کر اپنا رول ادا کرنا چاہئے۔ جولوگ جمہوری فضا ختم کرنا چاہتے ہیں ، جو مذہبی آزادی پر قدغن لگانا چاہتے ہیں، انہیں ہر قیمت پر اقتدار میں آنے سے روکیں۔ اس کا مشورہ ہم مسلمانوں کو دیتے ہیں۔ “ (ماہنامہ افکارملی، نئی دہلی، مئی ۲۰۰۳ ،صفحہ ۲۶) کیا آپ کے خیال سے ہندستانی مسلمانوں کے لیے یہ سیاسی پالیسی درست ہے۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی) پہلے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ تاریخ پر فخر کرنا ایک بدعت ہے۔ صالحین امت میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین میں سے کوئی بھی شخص نہیں ہے جس نے یہ کہا ہو کہ مجھے امت کی تاریخ پر فخر ہے۔ اسی طرح محدثین اور فقہاء اور مفسرین نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ مشہور شخصیتوں میں سے کسی نے کبھی بھی ایسی بات نہیں کہی۔ مثلاً حسن بصری، عمر بن عبدالعزیز، الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ وغیرہ۔ ان میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں لکھا۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ کلام ہے۔ یہ قوم پرستی کے مزاج کے تحت نکلے ہوئے الفاظ ہیں، نہ کہ خدا پرستی کے تحت نکلے ہوئے الفاظ۔ تاریخ بالفرض عظیم الشان تاریخ ہو تب بھی وہ ہمارے لیے شکر کی بات ہے نہ کہ فخر کی بات۔ تاریخ چونکہ کبھی معیاری نہیں ہوتی اس لیے تاریخ کو فخر کا موضوع بنانے کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ اس سے قومی تعصب کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ فخر کی نفسیات یہ چاہتی ہے کہ جس چیز پر فخر کیا جا رہا ہے وہ نقص سے پاک ہو۔ اس لیے ایسے لوگوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مزاج بن جاتا ہے کہ میری قوم ہر حال میں صحیح ہے اور دوسری قوم ہر حال میں غلط۔ اپنی قوم کے خلاف تنقید سن کر انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا فخر ٹوٹ رہا ہے۔ اس لیے نزاعی معاملات میں وہ ہمیشہ دوسری قوم پر الزام

دیتے ہیں اور اپنی قوم کو بری الذمہ ثابت کرتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر ایسے لوگوں میں ایک شدید تر برائی پیدا ہو جاتی ہے، وہ ہے اپنے قومی احتساب سے محروم ہو جانا۔

دوسرے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلمانوں نے اپنے رہنماؤں کی پیروی میں بار بار ایسا کیا ہے کہ ہر الیکشن کے موقع پر وہ مفروضہ فسطائی پارٹیوں کے خلاف ووٹ دے کر انہیں ہرائیں اور انہیں اقتدار میں آنے نہ دیں۔ طریقہ کار کی پشت پر ماضی میں بڑی بڑی مسلم شخصیتوں کے نام شامل رہے ہیں۔ مگر یہ تجربہ مکمل طور پر ناکام ہوا۔ مسلمانوں کی یہ ہرانے کی پالیسی مسلسل طور پر ’’فسطائی طاقتوں‘‘ کو جتاتی رہی۔ آزادی کے بعد مفروضہ فسطائی پارٹی کے صرف دو ممبر مرکزی پارلیمنٹ میں ہوتے تھے۔ آج یہ لوگ مرکز میں حکمراں کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ میں اُن کی حکومت قائم ہے۔ حتی کہ پچھلے سال گجرات میں اسی قسم کی ہرانے کی پالیسی کے نتیجہ میں مفروضہ فسطائی پارٹی کو ایسی جیت حاصل ہوئی کہ ریاست میں اُس کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس تجربہ کی روشنی میں اب اصل مسئلہ سیاسی پالیسی پر نظر ثانی کا ہے، نہ کہ اس کو مزید جاری مذکورہ سیاسی پالیسی کو جاری رکھنے کا مشورہ دینا، فارسی مثل کے مطابق ، آزموده را آزمودن جہل است کے ہم معنی ہے۔ یعنی آزمائے ہوئے کو آزمانا صرف ایک نادانی ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ اگر اُس کے پاس مسئلہ کا کوئی واقعی حل نہیں ہے تو وہ کم از کم یہ کرے کہ وہ اس سوال پر چپ ہو جائے۔

ایک اور پہلو سے دیکھئے تو مفروضہ فسطائی طاقتوں کو ہرانے کی پالیسی سراسر غیر اسلامی ہے۔ مسلمان اس ملک میں داعی ہیں اور تمام ہندو اُن کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی اور مدعو کا یہ تعلق مذکورہ قسم کی تفریقی پالیسی کا تحمل نہیں کر سکتا۔ داعی کی حیثیت سے ہمارے اوپر فرض ہے کہ ہم تمام ہندوؤں کو یکساں طور پر امتِ دعوت کی نظر سے دیکھیں۔

سہ ماہی السلام (نئی دہلی) کے سوال نامہ ۱۲ جون ۲۰۰۳ کا جواب مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوز کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج مگر یہ کوئی فارمولا نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعدد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو اس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔

اس سلسلہ میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذہبوں یکساں ہیں۔ اس نظریہ کے حامی، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کردیں، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یقینی طور پر ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ وہ عملی طور پر نہ کبھی ممکن ہوا اور نہ آئندہ وہ کبھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ فرق کوئی عیب نہیں، بلکہ وہ ایک خوبی ہے۔ وہ مذہبی فکر میں ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صرف ایک ہی فارمولا ہے جو مفید اور قابلِ عمل ہے، اور وہ فارمولا وہ ہے جورواداری (tolerance) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اصول کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو:

Printed page