The Basics of Islam
Al-Risala, September 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
جین ٹی وی (نئی دہلی) کے تحت ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو پینل ڈسکشن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ ڈسکشن کا موضوع یہ تھا کہ مسلمانوں کی یہ تصویر ساری دنیا میں کیوں بن گئی ہے کہ وہ لڑنے بھڑنے والی قوم ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ کرکے نہیں رہ سکتے۔ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس کا سبب مسلم رہنماؤں کا دیا ہوا
سیاسی ذہن ہے۔ اس بنا پر مسلمان اپنے آپ کو پولیٹکل پاور کے ساتھ آئیڈنٹھائی (identify) کرنے لگے ہیں۔ ان کا ماڈل مسلمانوں کا دورِ اقتدار بن گیا ہے جس کو وہ دوبارہ حاصل کرنا مگر یہ تصور غلط ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب تک جارحیت نہ ہو اس وقت تک ہر ماحول میں وہ امن کے ساتھ رہیں خواہ وہاں مسلم اقتدار ہو یا غیر مسلم اقتدار۔ ۱۲ نئی دہلی کے انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر نے ۲۱ مئی ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا دہلی کی خاتون فرزانہ کے کیس کی روشنی میں یہ سوال تھا کہ جہیز کے بارے میں اسلامی شریعت کا حکم کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ اسلام میں موجودہ قسم کا جہیز ہرگز جائز نہیں۔ فتوے دیتے رہے ہیں کہ انگریزی مال کا بائیکاٹ کرو، یہودی مال کا بائیکاٹ کرو اور امریکی مال کا اس کے بجائے ان علماء کو یہ فتویٰ دینا چاہئے کہ جو آدمی اپنی بیوی کو ستائے اس کا بائیکاٹ کرو، جو مرد جہیز کے لیے اپنی بیوی کو اور اس کے خاندان کو پریشان کرے اس کا بائیکاٹ کرو، جو آدمی اپنی بیوی کے حقوق ادا نہ کرے اس کا بائیکاٹ کرو، وغیرہ۔
۱۳ موونگ پکچر کمپنی (نئی دہلی) نے آستھائی وی چینل کے لیے ۲۲ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کی بابری مسجد سے تھا۔ کا خلاصہ یہ تھا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کا ڈھایا جانا نااہل مسلم لیڈروں کی ناعاقبت اندیشانہ سیاست کا نتیجہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس اشو کو جلسوں اور تقریروں کا موضوع نہ بنایا جاتا اور خاموش تدبیر کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی تو یقینی طور پر بابری مسجد نہ اب مسلم عوام اس اشو سے اپنا انٹرسٹ کھو چکے ہیں۔ اب عدالت جو بھی فیصلہ دے گی مسلم عوام اس کو قبول کر لیں گے۔ اس لیے اب عدالت کو مزید تاخیر کے بغیر اپنا فیصلہ دے دینا چاہئے۔
۱۴ ایران نیوز ایجنسی (IRNA) نے ۲۵ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر میلاد النبی سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ میلاد النبی نماز روزہ کی طرح
کوئی شرعی فریضہ نہیں ۔ یہ مسلم کلچر کا ایک حصہ ہے جو بعد کے زمانہ میں شروع ہوا۔ تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ میلاد النبی کے موقع پر مسلمان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں اور علماء کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اس موقع پر لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالہ سے اسلام کا پیغام پہنچائیں۔
۱۵ ہندی ماہنامہ سروشانتی (نئی دہلی) کے ایڈیٹر مسٹر اعجاز شاہین نے ۲۸ مئی ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ سماج میں عورتوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ سماج میں عورتوں کو جو مسائل درپیش ہیں وہ زیادہ تر مساوات مردوزن کے غیر فطری اصول کی بنا پر ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کا دائرہ کار الگ الگ ہو۔ دوسری بات یہ کہ آزادی نسواں کے نام پر برہنگی کا جو کلچر چلایا گیا ہے اس کو بند ہونا چاہئے ورنہ عورتوں کے مسائل کبھی ختم نہ ہوں گے۔
۱۶ ۳۱ مئی ۲۰۰۳ کی رات کو ایک خصوصی پروگرام ہوا۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہام میں مقیم جناب رشید شمس الحسن زیدی اور ان کے ساتھیوں کے تعاون سے ٹیلی فون پر خطاب کا یہ پروگرام رکھا گیا۔ یہ پروگرام اسٹاک ہام کے ایک ہال میں تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے دہلی میں اپنے دفتر سے ساڑھے بارہ بجے رات کو ٹیلی فون پر آدھ گھنٹہ کی تقریر کی جس کو پانچ ہزار کلومیٹر دور اسٹاک ہام کے مسلمانوں نے سنا۔ یہ تقریر سیرت رسول کے موضوع پر تھی۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور واقعات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی گئی رپورٹ کے مطابق ہال میں جمع شدہ حاضرین بہت متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ان لوگوں کی فرمائش ہے کہ اس تقریر کو لکھ کر انہیں دیا جائے تاکہ وہ اسے سویڈش زبان میں چھاپ سکیں۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اہل اسلام کے لیے قابل اتباع نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہے۔
۱۷ نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (انکسی) میں انٹرنیشنل فیڈریشن فار ورلڈ پیس کے تحت ۵ جون
۲۰۰۳ کی شام کو ایک خصوصی فنکشن ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو فیڈریشن کی طرف سے ایمبیسیڈر فار پیس (Ambassador for Peace) کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے پیس اور اسلام کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ افراد بھی اس فنکشن میں شریک تھے۔
۱۸ ایک فرانسیسی تنظیم (Latitude de Paix) کی طرف سے ایک بین اقوامی سیمینار کا اہتمام کیا یہ سیمینار ۲۷۔ ۲۸ جون ۲۰۰۳ کو ہوا۔ اس کا مقام سوئزر لینڈ کے ایک قدیم محل (Chateau de Coux) میں تھا۔ اس کا موضوع فلسطین کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا تھا: Reconciliation between Israelies and Palestinian People. اس سیمینار میں شرکت کے لیے صدر اسلامی مرکز کے نام دعوت نامہ موصول ہوا تھا اور سفر کا انتظام بھی ہو چکا تھا ۔ مگر بعض اسباب سے وہ اس میں شرکت نہ کر سکے ۔ البتہ انہوں نے موضوع کے بارے میں اپنے خیالات تحریری طور پر لکھ کر سیمینار کے منتظمین کو بھیج دئے۔ ۱۹ دھرو فلمس (Dhruv Filams) نے دور درشن کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو یہ انٹرویو ۲۱ جون ۲۰۰۳ کو ریگل اسٹوڈیو (نوئڈا) میں ریکارڈ کیا گیا۔ پروگرام کا اہتمام مسٹراو۔ سہگل (7658100 .Tel) نے کیا تھا۔ اس کا موضوع تھا_ کشمیر کی خواتین کے مسائل اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں ان کا حصہ۔ اس پروگرام کے تحت چھ ایپی سوڈ (Episode) تیار کیے گیے ۔ اس موقع پر جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ کشمیر اور دوسرے مقامات پر پرجوش مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ اسلامائزیشن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اسلام لرننگ پر زور دیتا ہے اور یہ لوگ (de-learning) کا کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ کشمیر کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنایا جائے ۔ تعلیم کے بغیر تعمیر و ترقی کا کوئی بھی کام نہیں ہو سکتا۔
۲۰ سہارا گروپ (اردو، ہندی، انگریزی) کے نمائندہ مسٹر سونیل تیواری نے ۲۰ مئی ۲۰۰۳ کو
ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس قسم کے انٹرویو تینوں زبان کے سہارا میں بیک وقت چھپتے ہیں۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ ہندوستان میں مذہب کی پکڑ سماج سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ صرف جزئی طور پر یہ بات درست ہے۔ ابھی ہندوستانی سماج پر مذہب اور روحانیت کی پکڑ کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کٹرواد یہاں زیادہ بڑھ نہیں پاتا۔ ۷۵ سال کی کوشش کے باوجود بھی تک وہ مین اسٹریم نہ بن سکا۔ ٢١| مسٹر ودود ساجد نے ۱۳ جون ۲۰۰۳ کو نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا (اردو) کے لیے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کی بابری مسجد کے مسئلہ سوالات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس اشو کو نام نہاد مسلم لیڈروں نے بگاڑا ہے ورنہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہ تھا۔
٢٢| مسٹر وید ویاس اور ان کے ساتھیوں نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو گاندھی سمیتی( (نئی دہلی) کے لیے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس مسئلہ سے تھا کہ مہاتما گاندھی نے اخلاقی افکار پر مبنی صحافت کی وکالت کی تھی۔ مگر آزادی کے بعد اس قسم کی صحافت وجود میں نہ آسکی۔ اس کا سبب کیا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ صحافت ریڈر شپ کے تابع جیسی ریڈر شپ ویسی صحافت ۔ اخلاق پر مبنی صحافت کو وجود میں لانے کے لیے پہلے اس کے مطابق ریڈر شپ تیار کرنا ہوگا۔
٢٣| نئی دہلی کے آؤٹ لک میگزین کے نمائندہ مسٹر بھودِیپ کا نگ (Bhavdeep Kang) نے ۱۷ جون ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اجودھیا کے مسئلہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان بابری مسجد کو گفٹ میں ہندوؤں کو دے دیں۔ یہ ایک خیالی تجویز ہے۔ مسلمان مسجد کے مالک نہیں، پھر وہ گفٹ کیسے کر اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اس معاملہ میں ایک فریم ورک بنانا چاہئے۔ بنائے بغیر غیر متعلق باتیں ہوتی رہیں گی اور مسئلہ حل نہ ہوگا۔
گاندھی سمیتی کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (نئی دہلی) میں ۱۱ جون ۲۰۰۳ کو ایک ریڈیو پروگرام ہوا۔ یہ امن کے موضوع پر تھا۔ مختلف اسکول کے تقریباً ۲۰ طلبہ اور طالبات اس میں شریک ہوئے۔ اینکر (Anchor) کے فرائض ایک طالبہ نے انجام دیے۔ جگجیت سنگھ اور راہل دیو جی نے تقریریں کیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں صدر اسلامی مرکز نے اسلام میں امن پر ایک تقریر کی۔ اس کے بعد طلبہ اور طالبات نے موضوع سے متعلق سوالات کئے ۔ اس کے جوابات دیے گیے ۔ یہ پروگرام تقریباً دو گھنٹہ جاری رہا۔ دالات سے ہے، اس سے بات رہی ہے۔ یہ پردہ دار |
پختگی نام ہے اس استعداد کا کہ کسی تلخی کے بغیر ناخوش گوار اور مایوس کن حالات کا مقابلہ کیا جائے۔