003 — سیکھنے کا مزاج
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہر ملنے والے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان کے اندر سیکھنے کا عمل (learning process) ہمیشہ جاری
ایسا کیوں کر ہوتا ہے۔ وہ اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی جب بھی کسی سے ملے تو کھلے ذہن کے وہ اس کو سکھانے سے زیادہ اس سے سیکھنے کی کوشش کرے۔ سیکھنے کے اس عمل کو مفید طور پر جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی متعصبانہ سوچ سے پاک ہو، وہ بڑائی کے جذبہ میں نہ جیتا ہو۔ اس کی نفسیات یہ ہو کہ جو کچھ مجھے ملے گا اس کو فوراً لے لوں گا۔ جب بھی میری کوئی غلطی مجھ پر واضح کی جائے گی تو میں فوراً اس کا اعتراف کر کے اپنے کو صحیح کرلوں گا۔
سیکھنے کے عمل کو مفید بنانے میں اگر سکھانے والے کا کردار اہم ہے تو اس سے بھی زیادہ اس میں سیکھنے والے کے کردار کا دخل ہے۔ سیکھنے والے میں جتنا زیادہ صحیح مزاج ہوگا اتنا ہی زیادہ وہ دوسروں سے لینے میں کامیاب رہے گا۔ دنیا میں ہر لمحہ علم اور معرفت کی بارش ہو رہی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے پاس اس کو لینے کا برتن (container) موجود ہو۔