004 — علم کا خزانہ
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے، جہاں وہ اس کو پائے تو وہ اسی کا ہے۔ یہ حدیث علم کی آفاقیت کو بتاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم خواہ کہیں بھی ہو یا کسی کے پاس بھی ہو وہ یکساں طور پر سارے انسانوں کا حصہ ہے۔
علم ایک مشترک خزانہ ہے۔ علم کسی کی اجارہ داری نہیں، علم ہر قسم کے تعصب سے بلند ہے۔ علم سورج کے مانند ہے جس سے روشنی لینے کا حق جتنا کسی ایک کو ہے اتنا ہی حق دوسرے کو بھی ہے۔ علم کے معاملہ میں آفاقیت کا یہ تصور بے حد ضروری ہے۔ اس تصور کے بغیر علم کی ترقی ممکن علم کا خزانہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ خواہ اس کو کتنا ہی زیادہ استعمال کیا جائے، اس میں کوئی کمی نہیں
علم ایک ایسا اتھاہ سمندر ہے جو ہر طالب کی پیاس بجھاتا ہے۔ مگر اس کا اپنا ذخیرہ اس کے بعد بھی اتنا ہی زیادہ باقی رہتا ہے جتنا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔