Al-Risala · October 2003

006 ـــ علم کا تحفہ

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے اچھا تحفہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو تعلیم دوسرا کوئی بھی تحفہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے مگر علم کا تحفہ ایک ایسی چیز ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کا پہلا مدرسہ اس کا اپنا گھر ہے۔ اس مدرسہ کے ٹیچر خود بچے کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے بیک وقت دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ماں باپ کو سب سے پہلے خود صاحب علم ہونا چاہئے کیوں کہ ماں اور باپ اگر صاحب علم نہ ہوں تو وہ نہ علم کی اہمیت کو سمجھیں گے اور نہ اپنی اولاد کو تعلیم دینے میں صحیح طور پر اپنا حصہ ادا کر سکیں گے۔ دوسری بات یہ کہ گھر کسی بچے کے لیے صرف پرورش کا مقام نہیں ہے بلکہ وہ اس کی تعلیم و تربیت کا مقام بھی ہے۔ ہر گھر کو تعلیم و تربیت کا ایک ادارہ ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر وہ گھر ایک ادھورا گھر ہے نہ کہ مکمل معنوں میں گھر۔

Printed page