011 - نمو پذیر شخصیت
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں سچے انسان کی مثال پودے سے دی گئی ہے۔ جس طرح پودا بڑھ کر درخت بنتا ہے اسی طرح انسان کی شخصیت بھی بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ شاداب درخت کی طرح وہ ایک ترقی یافتہ شخصیت بن جاتی ہے۔ انسان چھوٹے بچے کی شکل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بڑھتے بڑھتے وہ پورا آدمی بن جاتا ہے۔ یہ معاملہ جسم کی ترقی کا ہے۔ اسی طرح انسان کا ذہن بھی ترقی یہ ترقی تفکیری عمل (thinking process) کے ذریعہ جاری ہوتی ہے۔ اگر یہ تفکیری عمل
صحت مند انداز میں جاری رہے تو انسان کا ذہن بھی اسی طرح ترقی کے درجہ تک پہنچ جائے جس طرح اس کا جسم ترقی کے درجہ تک پہنچتا ہے۔
یہ تفگیری عمل فطری طور پر انسان کے اندر جاری ہوتا ہے۔ انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے جو تفگیری عمل میں رکاوٹ ڈالنے والی ہیں۔ اگر تفگیری عمل کو رکاوٹ سے بچایا جائے تو وہ ایک چشمہ کی طرح بہتا رہے گا یہاں تک کہ وہ ایک عظیم دریا بن جائے گا۔ 012 – جاننے والے سے پوچھنا قرآن میں کہا گیا ہے کہ اگر تم نہیں جانتے تو جاننے والے سے پوچھو۔ یعنی نہ جاننے والا جاننے والے سے پوچھے اور اس طرح اپنے نہ جاننے کو جاننا بنائے۔ لوگ عام طور پر پوچھنے کو پسند نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ پوچھنے کا مطلب گویا یہ اقرار کرنا ہے کہ تم جانتے ہو، میں نہیں جانتا۔ مہلک عادت ہے۔ صحت مند عادت یہ ہے کہ پوچھنے کو ویسا ہی سمجھا جائے جیسا کہ ڈکشنری یا انسائیکلوپیڈیا کا مطالعہ کرنا۔
کوئی آدمی خود سے ساری باتوں کو جان نہیں سکتا۔ اسی کمی کی تلافی کے لیے وہ کتابوں کا مطالعہ اسی طرح اس کو یہ عادت ڈالنا چاہئے کہ وہ جاننے والے سے پوچھے ۔ جاننے والا اس کے لیے گویا ایک زندہ کتاب ہے۔ اگر کتاب کو پڑھنے میں اسے کوئی احساس نہیں روکتا تو جاننے والے سے پوچھنے میں بھی کسی احساس کو رکاوٹ نہیں ہونا چاہئے ۔ جاننے والے سے پوچھنا باہمی تعلقات کو بڑھاتا وہ علم میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ انسانی تعلقات میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ 013 – خدا کی نعمتوں میں غور و فکر پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا کی نعمتوں میں غور و فکر کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ و فکر بظاہر دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ وہ ذہن میں ہوتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں اس سے بڑا کوئی عمل نہیں۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں نعمت کا پہلو موجود ہے۔ غور و فکر کر کے ان نعمتوں کو جاننا، چیزوں میں نعمت کے پہلو کو دریافت کرنا، یہی وہ چیز ہے جس کو اس حدیث میں افضل عبادت کہا گیا ہے۔
چیزوں کو نعمت کے پہلو سے دریافت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتا ہے، جو آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے۔ وہ آدمی کے لیے خدا کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 014 - غور و فکر کا عمل ابوالدرداء پیغمبر اسلام کے ایک صحابی تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایک شخص نے ان کی زوجہ ام الدرداء سے پوچھا کہ ابوالدرداء کا سب سے بڑا عمل کیا ہوتا تھا۔ ام الدرداء نے جواب دیا کہ سوچنا اور اس سے معلوم ہوا کہ کسی انسان کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے آس پاس کی چیزوں پر غور کرے اور ان سے عبرت کا پہلو اخذ کرتا رہے۔ یہ گویا ذہنی ارتقاء (intellectual progress) اور روحانی ارتقاء (spiritual developement) کا عمل ہے۔ جو سنجیدہ غور وفکر کی صورت میں انسان کے اندر جاری ہوتا ہے۔ وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔