Al-Risala · October 2003

015 - علمی تواضع

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کے ایک صحابی عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا کہ جب تم کسی بات کو نہ جانو تو تم یہ کہہ دیا کرو کہ: اللہ اعلم (اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے)۔ اس اصول کو دوسرے لفظوں میں علمی تواضع کہا جا سکتا ہے۔ اور علمی تواضع علمی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔

عربی زبان کا ایک مثل ہے: لا أدري نصف العلم (میںنہیں جانتا، آدھا علم ہے)۔ سکنا کہ میں نہیں جانتا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے نہ جاننے کو جاننا ہے۔ جب آدمی اپنے نہ جاننے سے باخبر ہو جائے تو اس کے اندر تجسس کی روح (spirit of inquiry) جاگتی ہے جو آخر کار اس کو علم تک پہنچادیتی جب آدمی ایک بات کو نہ جانے تو اس کو اپنے نہ جاننے کا اعتراف کرنا چاہئے۔ اپنے نہ جاننے کا اعتراف بھی جاننے کی طرح ایک قدم ہے۔ اس مزاج کے بغیر کوئی آدمی علمی ترقی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ 016 - تعلیم و تربیت پیغمبر اسلام کے ایک ساتھی کہتے ہیں کہ ایک چڑیا بھی اگر فضا میں اڑتی ہوئی دکھائی دیتی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دہانی کراتے تھے (ما من طائر يطير بجناحيه إلا و هو يذكر لنا منه علماً)

اس حدیث سے تعلیم و تربیت کا ایک وسیع تصور سامنے آتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے عمل کا تعلق صرف اسکول اور مدرسہ سے نہیں۔ بلکہ اسکول کے احاطہ سے باہر بھی اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کی دنیا میں ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر کوئی نہ کوئی علم چھپا معلم اگر بیدار ذہن رکھتا ہو تو وہ اپنے طلبہ کے لیے اسکول اور مدرسہ کے باہر کی دنیا کو بھی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک رہنما اپنے پیروؤں کے لیے ہر منظر اور ہر تجربہ سے علم اخذ کر کے ان کی ذہنی اور روحانی تربیت کا سامان کر سکتا ہے ۔ ہماری دنیا پوری کی پوری ایک وسیع تعلیم گاہ جو آدمی علم کا سچا طالب ہو وہ ہر لمحہ اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے گا۔ اس کا علمی سفر کبھی ختم نہ ہوگا۔ 017 ـــ علم اور سنجیدگی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص اللہ سے ڈرے، وہ عالم ہے (من يخشى الله فهو عالم)۔ اس حدیث سے علم کا ایک اہم پہلو معلوم ہوتا ہے اور وہ سنجیدگی اور احتیاط ہے۔ علم صرف واقفیت کا نام کسی شخص کو جب گہرائی کے ساتھ علم حاصل ہوتا ہے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں وہ محتاط بن جاتا ہے۔ یہ احتیاط اس کے اندر سنجیدگی پیدا کرتی ہے۔ جہاں علم ہو اور سنجیدگی نہ ہو تو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہاں حقیقی معنوں میں وہ چیز نہیں جس کو علم کہا گیا ہے۔ سچا علم آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتا ہے۔ سچے علم والا انسان حقائق فطرت سے باخبر رہتا ہے اور جو آدمی حقائق فطرت سے باخبر ہو جائے وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ تضاد میں جئے۔ وہ غیر محتاط انداز میں کلام کرے، وہ لوگوں کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کرے۔ سچا علم آدمی کو ہر قسم کی غیر ذمہ داری سے بچاتا ہے۔ سچا علم آدمی کو پورے معنوں میں سنجیدہ اور ذمہ دار انسان بنا دیتا ہے۔ 018 ـــ علم میں اضافہ قرآن میں ایک دعا ان الفاظ میں بتائی گئی ہے : رب زدنی علما (اے میرے رب تو میرا علم زیادہ کر دے)۔ اس قرآنی دعا سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کے حصول کی اہمیت کتنی زیادہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مرد اور ہر عورت مسلسل اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں ۔

دعا دراصل عزم کی ایک صورت ہے۔ دعا کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی پوری طرح ایک مقصد کے حصول میں لگ جائے۔ وہ اپنی حد تک سب کچھ کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا کرے کہ وہ اس کی کوششوں کو کامیاب کرے۔ اس طرح دعا خود آدمی کے عمل کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کی کوئی حد نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی مقام پر رک کے بغیر علم کے حصول کی کوشش میں لگا رہے ۔ وہ اس معاملہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے علم میں اضافہ کے لیے برابر کوشاں رہے۔ علم کی کوئی حد نہیں اس لیے حصول علم کی راہ میں جدوجہد کی بھی کوئی حد نہیں۔

Printed page