019 — بے جا عذر
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے فریب میں رہتا ہے۔ صحت اور فرصت۔ یعنی وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب صحت ہوگی تب کرلوں گا اور جب فرصت ہوگی تب کرلوں گا، مگر زندگی میں صحت اور فرصت کبھی آتی نہیں۔ چنانچہ وہ اسی دھوکے میں رہتا ہے اور آخر کار مر جاتا ہے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے۔ جب بھی کوئی کام سامنے آئے وہ اس کو فوراً کر ڈالے۔ ابھی اور اسی وقت سے بہتر کام کرنے کا کوئی وقت نہیں: There is no better time to start than this very minute. 020 — دل سے مسئلہ پوچھنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اپنے دل سے فتویٰ پوچھ لو (استفت قلبك ) اس حدیث میں قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو کامن سنس کہا جاتا ہے۔
انسان کو بار بار مسئلے پیش آتے ہیں۔ ان مسئلوں میں اس کو ہر بار مفتی سے فتویٰ پوچھنے کی اگر آدمی اپنے آپ کو نفسیاتی پیچیدگی سے پاک رکھے تو اس کا کامن سنس اس کے لیے بہترین رہنما بن سکتا ہے۔ اور یہ کامن سنس ایک ایسی چیز ہے جس کو کہیں ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر وقت اور ہر جگہ آدمی کے ساتھ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔