022 - بلند ہمتی
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ بلند ہمتی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا پر ایمان آدمی کو سب سے بڑا بھروسہ دے دیتا ہے۔ یہ بھروسہ اس کو بلند ہمت بنا دیتا ہے۔ مگر دنیا میں بار بار آدمی کو ناموافق حالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ یہ حالات اس کو مایوسی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر آدمی کو خدا کے اوپر یقین ہو جائے تو وہ آخری حد تک حوصلہ مند بن جائے خدا پر یقین اس کو اس وقت بھی بھروسہ دے گا جب کہ بظاہر آدمی کے پاس کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ 023 - باقی رہنے والا عمل پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے اس دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی ہمیشہ دیر میں ملتی ہے۔ اس لیے سب سے بہتر عمل وہ ہے جو قابل بقا اس دنیا میں نتیجہ خیز عمل وہی ہے جو شروع کرنے کے بعد برابر جاری رہے۔ پر آدمی اپنی پوری عمر قائم رہ سکتا ہو۔ ایسا ہی عمل فطرت کے قانون کے مطابق ہے۔ ایسا ہی عمل حقیقی معنوں میں عمل ہے۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ عمل شروع کرنے سے پہلے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ تمام متعلق
امور کا جائزہ لے۔ وہ اپنی صلاحیت اور دستیاب وسائل نیز وقت کے حالات، ہر چیز کا بھر پور اندازہ کرے اور پھر سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق اپنا کام شروع کرے۔ اور جب وہ کام شروع کردے پھر وہ درمیان میں کبھی اس کو نہ چھوڑے۔ یہی دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ 024 ــ زمانہ سے باخبر ہونا پیغمبر اسلام کی ایک لمبی حدیث ہے۔ اس کا ایک جز ء یہ ہے: عقلمند آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کے علم کی تکمیل کیا ہے۔ علم والا ہونے کے لیے یہ کافی نہیں کہ آدمی کتابی معلومات سے واقف ہو۔ اس نے ماضی کی روایتوں کو یاد کر رکھا ہو۔ اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ آدمی جس زمانہ میں ہے اس زمانہ کو جانے۔ وہ ماضی شناس ہونے کے ساتھ حال شناس بھی ہو۔
زمانہ کو جاننے کی اہمیت فکری بھی ہے اور عملی بھی۔ اس کے بغیر آدمی کی سوچ ناقص رہتی ہے۔ باتوں کو آفاقی انداز میں سمجھ نہیں پاتا۔ حقیقت کا گہرا تجزیہ اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اس طرح عملی اعتبار سے وہ ایک ناقص انسان ہوتا ہے۔ وہ یہ جاننے سے محروم رہتا ہے کہ وقت کے حالات میں ابدی سچائیوں کو کس طرح منطبق (apply) کرے۔ ایسا آدمی اپنے عمل کی کامیاب منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ 025 ــ با مقصد زندگی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ آدمی کے اچھے اسلام پر ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دے۔ پیغمبر اسلام کا یہ قول بتاتا ہے کہ ایک بامقصد انسان کی زندگی کیسی ہونی چاہئے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا میں کام زیادہ ہیں اور ایک شخص کی عمر بہت مختصر۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ آدمی اپنی مشغولیتوں میں انتخابی (selective) انداز اختیار کرے۔ وہ صرف ان چیزوں میں مشغول ہو جن کا تعلق براہ راست زندگی کے مقصد سے ہو۔ جو چیزیں اس کے مقصد کے لیے کار آمد نہیں ان سے وہ مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ وہ بے فائدہ کام اور فائدے والے کام میں فرق کرنا جانے۔ بے فائدہ کام سے مراد وہ کام ہے جو محض دلچسپی یا وقت گزاری کے لیے ہو، جس سے وقتی تفریح
کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے بے فائدہ کام میں مشغول ہونا ایک ایسا تعیش (luxury) ہے جس کا تحل ایک با مقصد انسان نہیں کر سکتا۔