Al-Risala · October 2003

026 ـــ نفع بخشی

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کا نظام نفع بخشی کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کو نفع پہنچائے گا اس کو دوسروں سے فائدہ ملے گا۔ جتنا دینا اتنا پانا۔ اس اصول کے مطابق، جب بھی کسی کو محرومی کا تجربہ ہو تو اس کو یہ مان لینا چاہئے کہ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت نہ کر سکا۔ اس نے دوسروں کو محروم رکھا تھا اس لیے دوسروں نے بھی اس کو محروم کر دیا۔ اگر وہ دوسروں کو دیتا تو ضرور وہ بھی دوسروں سے پاتا۔

نفع بخشی کے اس اصول کا تعلق زندگی کے پورے معاملے سے ہے۔ اس کا تعلق خاندان سے بھی ہے اور سماج سے بھی۔ قومی زندگی سے بھی ہے اور بین اقوامی زندگی سے بھی۔ ہر انفرادی اور اجتماعی معاملے میں یہی اصول کارفرما ہے۔ اس کے مطابق، شکایت اور احتجاج کا طریقہ بالکل بے معنی ہے۔ اس دنیا میں ہر شکایت اور ہر احتجاج خود اپنی کوتاہی کے خلاف شکایت اور احتجاج ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ پہلی فرصت میں اپنی کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش وہ اپنے آپ کو دوسرے کے لیے نفع بخش بنائے۔ یہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ 027 ـــ خاموشی میں نجات پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح بولنا ایک کام ہے اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ جس طرح ایکشن لینا ایک کام ہے اسی طرح ایکشن نہ لینا بھی ایک کام ہے۔ جس طرح آگے بڑھنا ایک کام ہے اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ایک جس طرح طاقت کی پوزیشن میں فائدہ ہے اسی طرح تواضع کی پوزیشن میں بھی فائدہ ہے۔ چپ رہنا صرف نہ بولنے کا نام نہیں۔ چپ رہنا ایک تدبیر ہے۔ چپ رہنا خاموش منصوبہ بندی کا دوسرا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شور کی سیاست کے مقابلہ میں چپ کی سیاست زیادہ نتیجہ خیز ہے۔

چپ رہنے کے بہت سے فائدے ہیں ۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ سوچتا ہے ۔ آدمی چپ رہتا ہے تو وہ دوسروں سے سیکھتا ہے ۔ جب آدمی چپ رہتا ہے تو وہ اپنی اندرونی طاقتوں کو جگاتا ہے ۔ یہ بلا شبہہ ضروری ہے کہ آدمی بولے ۔ مگر اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ چپ رہنے کی حکمت کو جانے ۔ کبھی بات کو بگڑنے سے بچانے کے لیے صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ آدمی چپ ہو چپ رہنا نظر انداز کرنے کی ایک علامت ہے ، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نظر انداز کرنا ایک انتہائی حکیمانہ عمل ہے ۔

Printed page