Al-Risala · October 2003

031 ـ اپنے سے کم کو دیکھو

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ مادی معاملہ میں اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو بلکہ اپنے سے نیچے کو دیکھو۔ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے ۔

اس دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہمیشہ اونچ اور نیچ قائم رہتی ہے۔ آگے ہوتا ہے اور کوئی پیچھے ۔ اس کی مصلحت یہ ہے کہ اس طرح مسابقت (competition) کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اس مسابقت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ زندگی کی ترقیاں اور سرگرمیاں ہمیشہ جاری اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی سے کوئی آگے ہوتا ہے اور کوئی اس سے پیچھے ۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھے ۔ اس تقابل کا فائدہ یہ ہوگا کہ جو کچھ خدا نے اس کو دیا ہے وہ اس کو زیادہ نظر آئے گا۔ وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا رہے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ صرف اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کے اندر نفرت اور جھنجھلاہٹ کا مزاج پیدا ہوگا۔ مثبت مزاج آدمی کے ذہنی اور روحانی ارتقاء میں مددگار ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس منفی مزاج آدمی کے ذہنی اور روحانی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دوسرے کی خاطر اپنے آپ کو ذہنی ارتقاء سے محروم نہ کرلے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمانہ گواہ ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے۔ گویا انسانی زندگی کی حیثیت برف جیسی ہے۔ جس طرح برف پگھل کر ہر لمحہ گھٹتا جاتا ہے اسی طرح انسان کی عمر بھی ہر لمحہ گھٹ رہی گھٹتے گھٹتے آخر کار وہ وقت آتا ہے کہ انسان اپنی عمر پوری کر کے ختم ہو جائے۔ گویا ہر انسان کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن (count down) ہو رہا ہے۔ اگر ایک شخص کے لیے یہ مقدر ہو کہ وہ پیدا ہونے کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے گا تو گویا پیدا ہونے کے ساتھ ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ پہلا سال پورا ہونے پر اس کی عمر انسٹھ سال رہ گئی۔ اس کے بعد اٹھاون، اس کے بعد ستاون، اس کے بعد چھپن، اس کے بعد پچپن، اس طرح مسلسل ہر آدمی کی الٹی گنتی ہورہی اس الٹی گنتی کو روکنا کسی بھی شخص کے بس میں نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے ہر لمحہ کو قیمتی سمجھے کیوں کہ جو وقت کھویا گیا وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ جس طرح گزرا ہوا زمانہ واپس نہیں آتا۔ اسی طرح زندگی کے گزرے ہوئے لمحات بھی کسی کو دوبارہ واپس نہیں ملتے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے خدا کے بندو، مایوس نہ ہو، کیوں کہ خدا کی رحمت بہت وسیع ہے۔ آدمی کو جب بھی مایوسی ہوتی ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے امکانات کو دیکھتا ہے۔ اس کی نظر خدائی امکانات پر ہو تو وہ کبھی مایوس نہ ہوگا۔

انسانی امکانات کی حد ہوتی ہے۔ مگر خدائی امکانات کی کوئی حد نہیں۔ انسان اگر اس حقیقت کو جان لے تو وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ کیوں کہ جہاں بظاہر انسان کی حد آ گئی ہے عین اسی مقام پر وہ ایک اور امکان کو پالے گا جس کی نہ کوئی حد ہے اور نہ اس کے لیے کوئی رکاوٹ۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا پر یقین آدمی کو امید کا ایسا خزانہ دے دیتا ہے کہ اس کے بعد وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوتا کہ آگے اس کے لیے کچھ اور باقی نہیں رہا۔ ایک امکان کا خاتمہ اس کے لیے زیادہ بڑے امکان کا آغاز بن جاتا ہے۔ خدا کا عقیدہ اور مایوسی دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

Printed page