Al-Risala · October 2003

036 — برائی کو مٹانا

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم سے کوئی برائی ہو جائے تو اس کے بعد تم نیکی کرو۔ اس سے برائی کا اثر ختم ہو جائے گا۔ مثلاً اگر آپ نے کسی شخص کو برا کہہ دیا تو اس کے بعد اس کو اچھا کہیے ۔ اگر آپ نے کسی کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کے بعد اس کو اگر آپ نے کسی کے دل کو دکھایا ہے تو اس سے معافی مانگ لیجئے ۔ اگر آپ نے کسی کے خلاف اکڑ دکھائی ہے تو اب اس کے سامنے جھک جائیے۔ اگر آپ نے کسی کے ساتھ بداخلاقی کا معاملہ کیا ہے تو اس کے بعد اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا معاملہ کیجئے ۔ اگر آپ نے کسی کو حقیر سمجھ لیا ہے تو اس کے بعد اس کو عزت کا مقام دیجئے ۔ اس طرح اپنے آپ برائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 037 — گناہ کیا ہے۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور اس کو کرتے ہوئے تم ڈرو کہ لوگ اس سے باخبر نہ ہو جائیں۔ یہ گناہ کی ایک ایسی پہچان ہے جس کو ہر آدمی نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ضمیر ہے۔ یہ ضمیر اتنا حساس ہے کہ وہ برائی کے وقت آدمی کو فوراً ٹوک دیتا اگر آدمی ضمیر کی آواز کو سنے تو کبھی وہ گناہ نہ کرے ۔ اسی طرح جب کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کو چھپا کر کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی اسے جاننے نہ پائے۔ جب بھی آدمی کے اندر اس قسم کا جذبہ پیدا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایک ایسا کام کرنے جا رہا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ 038 — پڑوسی کا حق پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے امن میں آدمی خواہ کہیں بھی ہو ہر وقت وہ کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ساتھی لوگ اس کے پڑوسی ہیں۔ پڑوسیوں کا یہ حق ہے کہ آپ سے انہیں کسی برائی کا تجربہ نہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو نو پرابلم انسان بن کر رہنا چاہئے۔ اس کو سخت احتیاط کرنا چاہئے کہ اس کی ذات سے اس کے آس پاس کے لوگوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ تکلیف کا معیار یہ ہے کہ دوسروں کو شکایت کا

موقع نہ ملے۔ اگر آپ کے پاس کے لوگ کسی بات پر آپ سے شکایت کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔ دوسروں کی شکایت ہی پر آپ کو ایسے کام سے رک جانا چاہئے۔ 039 - چھوٹوں سے شفقت بڑوں کا احترام پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص ہمارے چھوٹوں کے ساتھ شفقت نہ کرے اور جو شخص ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ شریفانہ اخلاق کیا ہے اور اس کو سماج میں کس طرح قائم کیا جانا چاہئے۔

ہر سماج میں کوئی چھوٹا ہوتا ہے اور کوئی بڑا۔ عمر کے لحاظ سے بھی اور دوسرے لحاظ سے بھی۔ اسکول اور کالج میں استاد کی حیثیت بڑے کی ہے اور طالب علم کی حیثیت چھوٹے کی۔ ایسے فرق والے سماج میں کس طرح اعتدال کے ساتھ زندگی گزاری جائے ۔ اس کا سادہ اصول یہ ہے کہ بڑے لوگ چھوٹوں کے ساتھ رحمت اور شفقت کا معاملہ کریں اور چھوٹے لوگ اپنے بڑوں کے ساتھ عزت اور احترام کا طریقہ اختیار کریں۔ جس سماج میں یہ دونوں اصول پائے جائیں اس سماج کے لوگوں میں ہر ایک خوش ہوگا اور ہر ایک دوسرے کے بارے میں اچھے خیالات کا مالک ہوگا۔

Printed page