042 - دوسرے کی مصیبت پر خوش نہ ہونا
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مصیبت پر خوش نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ خدا اس پر رحم فرمائے اور تم کو مصیبت میں ڈال دے۔ اس حدیث میں لوگوں کو ایک ایسی اخلاقی برائی سے روکا گیا ہے جو خود اپنی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ کوئی انسان اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو اس کو دیکھ کر آپ کے اندر ہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے۔ آپ کو چاہئے کہ اس کی مدد کریں یا کم سے کم اس کے لئے دعا کریں۔ اس کے برعکس دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونا ایک انتہائی پست بات ہے۔ اخلاقی گراوٹ کی بدترین صورت ہے۔
مزید یہ کہ کوئی آدمی اگر دوسرے کی مصیبت پر خوش ہو تو اس کا یہ فعل خدا کو سخت ناپسند ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا ناراض ہو کر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ پہلے شخص کی مصیبت کو اس سے لے کر دوسرے شخص کے اوپر ڈال دی جائے۔ یہ بلاشبہ کسی انسان کی بد نصیبی کی سب سے زیادہ بری صورت ہے۔ 043 - اچھا گمان رکھنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ حسن ظن بھی حسن عبادت کی ایک صورت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اتنا بڑا عمل ہے کہ وہ عبادت کے برابر ہے۔ کسی کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ایک مشکل کام ہے۔ آدمی جب کچھ لوگوں کے
درمیان رہتا ہے تو بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہیں۔ جس کی وجہ سے دوسرے آدمی کی ایک بری تصویر ذہن میں بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں خوش گمانی کا معاملہ کوئی آسان معاملہ نہیں۔ وہی شخص دوسروں کے بارے میں خوش گمان رہ سکتا ہے جو بدگمانی کے باوجود خوش گمانی پر قائم رہنا جانتا ہو۔ جس کے اندر یہ بلند ظرفی ہو کہ وہ کسی کے بارے میں بری خبریں سنے تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ اس کے خلاف بدگمان ہو کر بیٹھ جائے۔