Al-Risala · October 2003

046 - ضمیر کی آواز

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام سے آپ کے ایک ساتھی نے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا۔ جواب دیا کہ تم اپنے دل سے فتوی لے لو، یعنی اپنے دل سے پوچھ کر جان لو۔ نیکی وہ ہے جس پر تمہارا دل مطمئن ہو اور بدی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک صفت ہوتی ہے۔ یہ اس کا ضمیر ہے۔ ضمیر گویا سچائی کی عدالت ہے۔ ضمیر فورا بتاتا دیتا ہے کہ کیا چیز حق ہے اور کیا چیز ناحق۔ کون سا رویہ درست ہے اور کون سا رویہ نادرست۔ آدمی اگر صرف یہ کرے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سنے تو وہ اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گا۔

ضمیر ہمیشہ اپنا کام کرتا ہے۔ وہ ہر موقع پر بتا رہتا ہے کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا ٹھیک نہیں۔ آدمی غفلت نہ برتے تو اس کا ضمیر ہی اس کو سچائی کے راستہ پر قائم رکھنے کے لیے کافی ہو جائے گا۔ 047 - امانت ادا کرو قرآن میں جو احکام آئے ہیں ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اے لوگو، امانت داروں کو ان کی امانت ادا کرو، یہ قرآنی حکم ایک جامع حکم ہے اور اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ امانت کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی کا مال آپ کے پاس بطور امانت ہو تو اس کو اس کے مالک تک ٹھیک ٹھیک پہنچانا فرض ہے۔ اسی طرح کسی تعلیم گاہ کا ایک معلم بھی امین ہے اور طلبہ اس کی امانت معلم کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور جو انسانی نسلیں اس کی امانت میں دی گئی ہیں ان کے حقوق ادا کرنے میں وہ کوئی کمی نہ کرے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی ملک کا حاکم بنے تو وہ ملک اس کی امانت میں آ گیا اور وہ اس کا امین بن گیا۔ ایسی حالت میں حاکم پر فرض ہے کہ وہ ان امیدوں کو پورا کرے جن کے تحت اس کو یہ امانت دی گئی ہے۔

Printed page