Al-Risala · October 2003

049 — امن پسندی

Al-Risala, October 2003, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے اپنی ایک نصیحت میں فرمایا: تم دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت اس حدیث میں زندگی کا ایک بنیادی اصول بتایا گیا ہے۔ اس اصول کی اہمیت فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی۔ کوئی انسان جب اجتماعی زندگی میں رہتا ہے تو ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں حتیٰ کہ دشمنی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مگر یہ طریقہ درست نہیں کہ کوئی شخص دشمن نظر آئے تو آپ اس سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس کے بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ دشمن سے بھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ امن کے اصول پر چلتے ہوئے اس سے نباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ پرامن طریقہ ہر حال میں قابلِ عمل ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آدمی دشمنی کی صورت پیدا ہونے کے بعد منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔

Printed page