057 - ترک کلام نہیں
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے جھگڑا ہو جائے اور ترک کلام کی نوبت آ جائے تو زیادہ سے زیادہ اس کو تین دن کی معافی مل سکتی ہے۔ تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھنا کسی حال میں اس معاملہ میں تین دن کی رخصت اس لیے دی گئی ہے کہ غصہ زیادہ سے زیادہ تین دن تک رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ انا کا سوال بن جاتا ہے۔ کسی کو غصہ کی معافی مل سکتی ہے مگر انانیت کی معافی کسی کے لیے نہیں۔ غصہ ایک فطری کمزوری ہے جو وقتی طور پر پیدا ہوتی ہے مگر انانیت ایک انانیت ایک سرکشی کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غصہ قابل معافی ہے مگر انانیت اور سرکشی قابل معافی نہیں۔ وقتی غصہ کے لئے آدمی کے پاس عذر ہو سکتا ہے مگر انانیت اور سرکشی ایک ایسا جرم ہے جس کے لیے کوئی بھی قابل قبول عذر موجود نہیں۔