Al-Risala · October 2003

058 - ماننے سے پہلے جانچنا

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب تمہیں کسی کے بارے میں کوئی خبر ملے تو پہلے اس کی تحقیق اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحقیق کے بغیر کسی خبر کو مان لینا ایک غیر ذمہ داری کا فعل ہے۔

عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ جو سنا یا جو کچھ پڑھا اس کو فوراً مان لیا۔ حالاں کہ تجربہ بتاتا ہے کہ خبر دینے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ساری بات کو جانے بغیر خبر نشر کر دیتا ہے۔ جب کہ تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ خبر بھی ادھوری تھی اور اس سے جو نتیجہ نکالا گیا وہ بھی ادھورا تھا۔ تحقیق کے بغیر کسی خبر کو مان لینا اکثر حالات میں نقصان کا سبب ہوتا ہے۔ اس سے بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات ایک غلط خبر لڑائی اور فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ خبر کی پوری تحقیق کی جائے، تحقیق کے بغیر کسی خبر کو درست نہ مان لیا جائے۔

Printed page