060 ــ تین چیزیں حرام
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ ایک انسان پر دوسرے انسان کی تین چیزیں حرام ہیں ــــ اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی آبرو۔ یہ اصول ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان آزادی کی حد قائم ہر انسان آزاد ہے۔ مگر اس کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں وہ دوسرے کی جان مال اور آبرو کے لیے خطرہ بن جائے۔
انسان کو اس دنیا میں آزادی دی گئی ہے کیوں کہ آزادی کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ آزادی محدود ہے نہ کہ لامحدود۔ کسی آدمی کو اسی وقت تک آزادی حاصل ہے جب تک وہ دوسرے کی
جان مال اور آبرو کو نقصان نہ پہنچائے۔ جیسے ہی کوئی آدمی ان تین چیزوں میں دوسروں کے لیے خطرہ بنے، اس کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ وہ آزادی کے فطری حق سے محروم قرار دیا جائے گا۔ 061 - ہر شخص ذمہ دار ہے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ سن لو، تم میں سے ہر شخص ایک چرواہے ہے۔ اور تم میں سے ہر شخص سے اس کے گلہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس حدیث میں چرواہے اور گلے کی مثال سے زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح چرواہا کا گلہ ہوتا ہے اسی طرح ہر انسان کا اپنے حالات کے اعتبار سے ایک گلہ ہے۔ اور اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے اس گلہ کی چرواہی میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ مثلاً ایک گھر کا جو بڑا شخص ہے اس کا گلہ اس کا خاندان ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے۔ اسی طرح ایک اسکول یا کالج کا ایک ٹیچر اپنے طلبہ کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کے حق میں اپنی تعلیمی ذمہ داری کو بھر پور طور پر ادا اسی طرح ایک لیڈر اپنے پیروؤں کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ جو لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں وہ پوری طرح ان کا خیر خواہ بنے۔ اسی طرح کسی ادارے کا صدر اپنے ادارے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ذمہ دار ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ ان متعلقین ادارہ کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔