Al-Risala · October 2003

062 - ہر ایک کی مدد

Al-Risala, October 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ لوگوں نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد کرنا تو ہم جانتے ہیں مگر ہم ظالم کی مدد کیسے کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم ظالم کو اس کے ظلم اسلام ہر انسان کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کا خیر خواہ ہو۔ خیر خواہی کی عملی صورت کا نام مدد ہے۔ مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے بچایا جائے۔ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو اس کے ظلم سے روکا جائے۔ ظلم سے روکنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ ٹکراؤ شروع کر دیا جائے۔ ظالم کی حقیقی مدد یہ ہے کہ اس کی اصلاح کے لیے دعا کی جائے۔ اس کو خیر خواہانہ

نصیحت کی جائے۔ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ ظلم کو چھوڑنے پر ظالم کی مدد ظالم سے نفرت کرنا نہیں ہے بلکہ ظالم کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے۔ ظلم کو بڑھاتی ہے اور خیر خواہی ظلم کا خاتمہ کردیتی ہے۔

Printed page