068 - نرمی کے بغیر
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم ہے وہ ہر بھلائی سے محروم ہے۔ یہ حدیث ایک جامع اخلاقی اصول کو بتاتی ہے اور وہ بات چیت اور تعلقات میں نرمی ہے۔
جو آدمی نرمی کا انداز اختیار کرے وہ ہر معاملے میں اور ہمیشہ کامیاب رہے گا۔ کیوں کہ کوئی شخص ایسے آدمی کا دشمن نہیں بنے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی دوسروں سے معاملہ کرنے میں نرمی کا انداز نہ برتے اس کا ہر کام بگڑتا چلا جائے گا کیوں کہ اس سے ہر ایک کو شکایت ہو جائے گی۔ اس کو مخالفوں اور دشمنوں کے درمیان رہنا پڑے گا۔ وہ گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ غیر ضروری مسائل میں الجھا رہے گا۔ 069 - سادگی کی عظمت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ سادگی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ سادگی کو ایمان کا حصہ بتانا سادگی کی انتہائی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سادگی با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ بامقصد انسان اس کا تحمل نہیں کرسکتا
کہ وہ سہولت اور عیش کی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور اس طرح اپنے وقت اور طاقت کا ایک حصہ اس میں لگادے۔ سادگی کا مطلب ہے اپنی ضرورت کو بالکل ناگزیر چیزوں تک محدود رکھنا۔ آپ کو کسی غیر ضروری چیز کا عادی نہ بنانا، اپنے آپ کو آرام والی چیزوں سے دور رکھنا۔ ایک اعلیٰ تدبیر ہے۔ سادگی کے ذریعہ یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کو مکمل طور پر صرف اپنے مقصد میں لگائے۔ اس کی زندگی کا کوئی حصہ مقصد کے علاوہ کسی اور چیز میں ضائع نہ ہو۔ کسی انسان کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ اس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) بلا روک ٹوک جاری رہے۔ سادگی اس ذہنی عمل میں بے حد مددگار ہے۔ سادگی آدمی کے ذہن کو ہر دوسری چیز سے فارغ رکھتی ہے۔