074 — اجتماعی برکت
Al-Risala, October 2003
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ ایک شخص کا کھانا دو آدمی کے لیے کافی ہے اور دو آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہے۔ اس حدیث میں مل جل کر رہنے اور اجتماعی طور پر عمل کرنے کی برکت کو بتایا گیا ہے۔ اس حدیث میں کھانے کی مثال ایک علامتی مثال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ لوگ اگر ایک دوسرے کے ساتھ شرکت کر کے کام کریں اور مل جل کر رہیں تو تھوڑے لوگ بھی زیادہ بڑے بڑے کام کریں گے۔ تھوڑے سرمایہ میں بھی بہت سے لوگوں کو نفع حاصل ہوگا۔ کم وسائل میں بھی زیادہ فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو جائے گا۔ ہر آدمی اگر الگ الگ اپنا کام کرے تو وہ محدود طور پر صرف اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے گا۔ لیکن یہی افراد اگر ایک دوسرے کو شریک کر کے کام کرنے لگیں تو مجموعی طور پر سب کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچے گا۔ 075 — انصاف کا تقاضا پیغمبر اسلام نے ایک بار مدینہ کے ایک شخص سے قرض لیا۔ اس کے بعد وہ ایک دن آیا اور آپ سے قرض کی ادائیگی کے لیے سخت زبان استعمال کی۔ پیغمبر اسلام کے ساتھیوں نے چاہا کہ اس کو اس گستاخی کی سزا دیں۔ مگر آپ نے انہیں روک دیا۔ آپ نے کہا کہ حق دار کو بولنے کا اختیار ہے۔ یہ دوسرے کے ساتھ رعایت کرنے کا سبق ہے۔ دوسرا آدمی اگر کسی وجہ سے غصہ میں آجائے یا سخت کلامی کرے تو سننے والے کو اس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کرنا چاہیے۔ اگر آدمی دوسرے کی
سخت کلامی کو سننے کے لیے تیار نہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس سے قرض جیسا معاملہ بھی نہ کرے۔ لینے کے بعد اس کو بہر حال قرض دینے والے کو یہ حق دینا ہوگا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار جس طرح کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں قرض لینے والے کو تحمل کی روش اختیار کرنا چاہئے۔ ایسا نہیں کر سکتا کہ برعکس طورپروہ قرض دینے والے کو تحمل کی نصیحت کرے۔ 076 ـــ حق سے زیادہ نہ لینا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ دو آدمی اگر میرے پاس ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئیں ۔ سے ایک شخص زیادہ ہوشیاری کے ساتھ اگر اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کی وجہ سے زمین اس کو دے دی جائے، جب کہ حقیقت میں وہ زمین اس کی نہ ہو تو گویا کہ اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز آدمی کا واقعی حق نہ ہو، اس کے معاملہ میں اگر وہ کسی تدبیر سے اپنے موافق عدالتی فیصلہ لے لے تب بھی وہ چیز اس کی نہ ہوگی۔ کوئی عدالتی فیصلہ حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر ناجائز قبضہ ہر حال میں برا ہے۔ عدالت کا کوئی فیصلہ ناجائز کو جائز نہیں بنا سکتا۔ اگر آدمی کا ضمیر یہ کہتا ہو کہ فلاں چیز میری نہیں ہے تو ایسی حالت میں اس کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کو حق دار کے حوالہ کردے، نہ کہ غلط تدبیر کے ذریعہ ناجائز طور پر دوسرے کی چیز پر قابض ہونے کی کوشش کرے۔ ضمیر سب سے بڑی عدالت ہے۔ سب سے بڑا فیصلہ وہ ہے جو ضمیر کی عدالت سے جاری کیا جائے۔