078 ــ معاشی استقلال
Al-Risala, October 2003, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ خدا جب کسی کے لیے رزق کا ایک ذریعہ بنائے تو وہ خود سے اسے نہ چھوڑے، الا یہ کہ حالات کی مجبوری کی وجہ سے اسے چھوڑنا پڑے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، رزق کا تعلق خدا سے ہے۔ اس لیے جب کسی انسان کو رزق کا ایک ذریعہ مل جائے تو خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ اس پر قائم رہے۔ اگر وہ کسی حقیقی سبب کے بغیر اس کو چھوڑے گا تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہو جائے گا۔ معاشی زندگی میں کامیابی کا راز استقامت ہے۔ اس حدیث میں اسی استقامت اور استقلال کی تعلیم دی گئی ہے۔ معاشی زندگی میں کامیابی ہمیشہ لمبی مدت تک محنت کرنے کے بعد حاصل ہوتی آدمی کو چاہیے کہ وہ حال کے بجائے مستقبل پر نظر رکھے۔ اس طرح اس کے اندر استقلال پیدا ہوگا اور وہ ضرور کامیابی کے درجے تک پہنچے گا۔ یہ حدیث گویا اس بات کی تعلیم ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں مستقبل بینی کا مزاج پیدا کرو۔ صرف حال کو دیکھ کر بے حوصلہ نہ ہو جاؤ۔ 079 ــ رزق خدا کی طرف سے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ہر ایک کی روزی خدا کے ذمے ہے۔ پیغمبر اسلام نے کہا کہ خدا نے کسی مرد یا عورت کا جو رزق لکھ دیا ہے کوئی اس کو چھین نہیں سکتا۔ کوئی شخص نہ اس میں کمی کر سکتا ہے اور نہ زیادتی۔ یہ اعلان ہر مرد اور عورت کو رزق کی گارنٹی دے رہا ہے جس کو کوئی اس سے چھیننے والا نہیں۔ جس آدمی کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے اس کو اس کے ذریعہ دو فائدے حاصل ایک طرف اس کو یہ یقین ہوگا کہ جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اس کو بہر حال مل کر رہے گا۔ اس عقیدہ کی بنا پر وہ دنیا میں اس بھروسہ کے ساتھ کام کرے گا کہ میری کوششوں کا نتیجہ مجھے ضرور ملنے والا
کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میرے اور میرے رزق کے درمیان حائل ہو سکے۔ رزق میرا ایک ایسا حق ہے جو خود دنیا کے مالک نے میرے لیے لکھ دیا ہے۔ پھر کون ہے جو اس لکھے کو مٹا سکے۔ یہ عقیدہ آدمی کے اندر سے مایوسی کے احساس کو نکال دیتا ہے۔ وہ عین مسائل کے درمیان کھڑا ہو کر کہہ سکتا ہے کہ ــــ کوئی شخص میرے ایک جاب کو مجھ سے چھین سکتا ہے مگر کوئی شخص اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ میری قسمت کو مجھ سے چھین سکے۔