اکٹوبر 2003
Al-Risala, October 2003, pp. 1–2
By Maulana Wahiduddin Khan
ہاتھ زیادہ بہتر ہے۔ یہ اعلیٰ انسانیت کی تعلیم ہے۔ اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آدمی خود اپنے آپ پر انحصار وہ دوسرے سے کوئی چیز نہ مانگے۔
مانگنا کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ اخلاقی گراوٹ کی ایک علامت ہے۔ جو آدمی دوسروں سے مانگے وہ گویا آسان رزق پر جینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کو مانگنے کی عادت کی یہ قیمت دینی پڑے گی کہ اس کی اپنی صلاحیت زیادہ نہ ابھر سکے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی طاقتیں دبی رہ جائیں۔ اس کے اندر محنت کا جذبہ سرد پڑ جائے ۔ وہ اس کمزوری کا شکار ہو جائے جس کو تن آسانی کہا جاتا ہے۔ زندگی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ پر بھروسہ کرے۔ وہ اپنے آپ کو محنت کا عادی بنائے ۔ وہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے۔ وہ دوسروں کو دینے والا بنے نہ کہ دوسروں سے لینے والا۔ 082 ــ تجارت رزق کا بڑا ذریعہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: تسعة اعشار الرزق في التجارة (رزق کا نوے فیصد حصہ تجارت میں ہے )۔ اس حدیث میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، تجارت میں رزق کا سب بڑا حصہ رکھا گیا ہے۔
یہ حدیث ہر آدمی کے لیے امید کا خزانہ ہے۔ اگر کسی آدمی کو ملازمت نہ ملے یا وہ وراثتی حقوق کو نہ پائے یا اور دوسرے ذرائع سے وہ کچھ پانے کی امید نہ رکھتا ہو تو اس کو تجارت شروع کر دینا چاہئے۔ تجارت کے ذریعہ وہ اتنا زیادہ پالے گا جو وہ دوسرے کسی ذریعہ سے نہیں پا سکتا تھا۔ 083 ــ محنت کی روزی پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اللہ اپنے اس بندہ سے محبت کرتا ہے جو محنت کر کے اپنی روزی کمائے۔ یہ حدیث محنت کی روزی کی اہمیت کو بتاتی ہے۔ محنت کر کے روزی کمانا کوئی سادہ بات نہیں حقیقت یہ ہے کہ محنت کی روزی تمام انسانی خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ محنت کی روزی سب سے زیادہ جائز روزی ہے۔ محنت سے روزی کمانا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ محنت کی روزی آدمی کے اندر سادگی کا مزاج پیدا کرتی محنت کی روزی دوسروں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ محنت کی روزی آدمی کو سہولت پسندی سے بچاتی
محنت کی روزی شخصیت کی تکمیل کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر مجبوری نہ ہو تب بھی آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے لیے محنت کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر حال میں اپنے آپ کو آرام طلبی سے بچائے۔ 084 — زبان پر روک پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو یہ حدیث آداب کلام کے ایک اہم اصول کو بتاتی ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی کو چاہئے کہ وہ سوچے بغیر کبھی نہ بولے۔
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کے خلاف بہت سی باتیں سنتے ہیں۔ تجربہ ہے کہ سنی ہوئی بات جب دہرائی جاتی ہے تو اکثر وہ کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ بات اتنی بدل سکتی ہے کہ ایک سچی بات جھوٹی بات بن جائے۔ اس لیے صرف سننے کی بنیاد پر آدمی کو اسے کبھی دہرانا نہیں چاہئے۔ اچھی خبر کو دہرانے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر بری خبر ہو تو اس کو اس وقت تک نہیں دہرانا چاہئے جب تک تحقیق کر کے پوری بات معلوم نہ کر لی جائے۔