085 — غیبت کا کفارہ
Al-Risala, October 2003, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ غیبت کا ایک کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لیے مغفرت کی دعا کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے۔ غیبت یہ ہے کہ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی کسی برائی کو بیان کیا جائے۔ غیبت ایک بدخواہی کا عمل ہے۔ جب کسی آدمی سے غیبت کی غلطی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آدمی کے لیے خیر خواہی کا معاملہ کرے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔ اور خیر خواہی کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کے حق میں اچھی دعائیں کرے۔ یہ غیبت کرنے والے کی طرف سے بدخواہی کے بعد خیر خواہی کا ایک معاملہ ہوگا جو اس کے گناہ کو اس سے پاک کر دے گا۔ 086 — جامع نصیحت پیغمبر اسلام نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ کیا میں تم کو ایک جامع نصیحت کروں۔ اس نے کہا
کہ ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی زبان کی حفاظت کرو۔
زبان کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو کچھ بولے سوچ کر بولے۔ وہ ایسی بات نہ کہے جو دوسروں کو ستانے والی ہو۔ ایسی بات جس سے سماج میں برائی پھیلے اس سے وہ ہر حال میں اپنے آپ کو بچائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر سماجی برائیاں زبان کی وجہ سے پھیلتی ہیں۔ زبان کو کنٹرول میں رکھنا سماجی برائیوں کا دروازہ بند کرتا ہے اور زبان پر کنٹرول نہ کرنا سماجی برائیوں کا دروازہ کھولتا یہ سنجیدگی کی پہچان ہے کہ آدمی اپنی زبان کو ہمیشہ محتاط انداز میں استعمال کرے۔ زبان کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی برائی کرے، وہ دوسروں کے ساتھ سخت کلامی کرے۔ کے عیب کو ڈھونڈ کر اسے لوگوں میں پھیلائے۔