087 — صبر و اعراض
Al-Risala, October 2003, pp. 3–4
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی ایک تعلیم صبر ہے۔ قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید فرمایا کہ اپنے رب کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر) اسی طرح فرمایا کہ صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ کے لیے ہے۔ ایک آدمی صبر کرتا ہے تو بظاہر اس کا یہ صبر کسی انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ خدا کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت کرنے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔
خدا نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر ایک کو آزادی ہو۔ ہر ایک کے لیے مسابقت کا کھلا ماحول ہو۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ دوسرے سے نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ناخوش گوار تجربہ پر صبر کرنا گویا خدا کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہونا ہے۔ صبر کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے صبر کو خود اپنے لیے صبر کرنے کا معاملہ بتایا۔ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو آدمی صبر کرے گا اس کو بے حساب انعام دیا جائے گا۔ 088 — یک طرفہ برداشت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو تمہارے اوپر ظلم کرے اس کو معاف کر دو۔ یہ نہایت حکمت کی تعلیم ظلم کا خاتمہ ظلم کو معاف کرکے ہوتا ہے۔ ظلم کے خلاف جوابی کارروائی کرنا کبھی ظلم کو ختم نہیں کرتا۔
پیغمبر اسلام کا یہ قول دراصل نتیجہ خیز عمل (result oriented action) کی تعلیم ہے۔ کوئی شخص ظلم کی کارروائی کرے تو مظلوم کو سب سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ اس کی کارروائی ایسی ہو جو اس کی مظلومیت کو ختم کرے نہ کہ وہ اس کی مظلومیت کو بڑھا دے۔ جب بھی کوئی مظلوم اس طرح سوچے تو وہ پائے گا کہ ظالم کو معاف کرنا سب سے بڑا انتقام ہے۔ ظالم کے ظلم کو بھلا دینا ظلم کو ختم کرنے کی سب سے زیادہ آسان تدبیر ہے۔ ظالم کو معاف کرنا کوئی مجبورانہ فعل نہیں، یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اصول کوئی آدمی جب ظالم کو معاف کرے تو اس کو آزادانہ اصول کے طور پر ایسا کرنا چاہئے۔ پر معاف کرنا بھی بے قیمت ہے اور معاف نہ کرنا بھی بے قیمت۔