Al-Risala · October 2003

091 - چھوٹے شر پر راضی ہونا

Al-Risala, October 2003, pp. 5–44

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کے ایک صحابی عمیر ابن حبیب بن خماشہ نے کہا کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شرکو برداشت نہیں کرے گا اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا۔

موجودہ دنیا میں جس طرح سمجھ دار لوگ ہیں اسی طرح یہاں نادان لوگ بھی موجود ہیں۔ نادان لوگ اپنی نادانی کی بنا پر دوسروں کو کچھ نہ کچھ تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں۔ یہ تکلیف ابتدا میں ایک چھوٹی تکلیف ہوتی ہے۔ دانش مندی کا تقاضا ہے کہ اس چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے ۔ چھوٹی تکلیف پر نادان سے الجھ جائے تو نادان ضد میں آکر اس کو اور زیادہ بڑی تکلیف پہنچائے گا۔ حالت میں بہتر یہ ہے کہ چھوٹی تکلیف کو برداشت کر لیا جائے تاکہ بڑی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 092 - تحمل کے ذریعہ دفاع مشہور صحابی رسول عبد اللہ ابن عباس نے فرمایا کہ جہالت کرنے والے کی جہالت کا دفاع تم تحمل کے ذریعہ کرو۔ صحابی کے اس قول کے مطابق، دفاع کا ایک مناسب طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے جوابی دفاع کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔

دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا سابقہ نادانوں سے پڑ جاتا ہے۔ ایسے نادانوں کے شر سے بچنے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ تحمل کا طریقہ ہے۔ تحمل کا طریقہ نادانوں کی کارروائی کو پہلے ہی مرحلہ میں روک دیتا ہے۔ اس کے بر عکس اگر نادانوں کے مقابلہ میں رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ان کی

برائی بڑھتی رہے گی۔ یہاں تک کہ وہ قابو سے باہر ہو جائے گی۔

Printed page