095 - شیطان سے پناہ مانگنا
Al-Risala, October 2003, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ جب بھی تم کو محسوس ہو کہ شیطان تم کو بہکا رہا ہے تو تم کہو: اللهم إنى اعوذ بك من همزات الشيطان (اے خدا، میں شیطان کے وسوسوں کے مقابلہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں)۔
شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان کو صحیح راستہ سے بھٹکائے۔ وہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر انسان کو سچائی سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان آدمی کو دکھائی نہیں دیتا۔ طور پر انسان کے اوپر حملہ کرتا ہے۔ انسان اس شیطانی حملہ کے مقابلہ میں بالکل بے بس ہے۔ بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے، خدا سے مدد مانگنا۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی شیطان کے پے نامہ ایک ایسی راہ ہے، جو غلط راستے سے بچاتی ہے۔ مدد کے لیے دعا مانگنا ہے۔ خدا سے مدد کی گڑگڑاہٹ ہے، مقابلہ میں خدا سے پناہ مانگے گا وہ ضرور اس کو اپنی پناہ دے گا۔ یہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے۔ 096 — طاقت ور کون پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو کشتی میں پچھاڑ دے۔ بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصّہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھّے۔ یہ بلاشبہ کسی شخص کے طاقت ور ہونے کا سب سے زیادہ اعلیٰ معیار ہے۔ جسمانی مقابلہ میں کسی کو پچھاڑنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں، ایسا کارنامہ تو ایک حیوان بھی کر سکتا ہے۔ کسی انسان کے طاقتور ہونے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ جب اس کو کسی کے اوپر غصّہ آئے تو وہ اپنے آپ کو پوری طرح کنٹرول میں رکھّے۔ غصّہ کے باوجود وہ انسانیت کے دائرہ سے باہر نہ جائے ، وہ غصّہ کے اوپر غالب رہے نہ کہ غصّہ اس کے اوپر غالب آ جائے۔ 097 - مشکل میں آسانی ق آں میں فطرت کرجن قانون کو تالا گیا ہے انسان میں ایسا قانون ہے کہ اس کا قرآن میں فطرت کے جن قوانین کو بتایا گیا ہے ان میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے ساتھ آسانی رکھی گئی ہے (الانشراح) یعنی مشکل کے بعد نہیں بلکہ خود مشکل کے ساتھ ہی اس کے ساتھ آسانیاں ہی ہے (الانسراح) میں ہے بلکہ یہ وو ۔ آسانی کا پہلو شامل ہے۔ یہ فطرت کا ابدی قانون ہے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں مشکل کے مقابلہ میں امکانات کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ مشکل پیدا ہو یا ایک بار کوئی نقصان ہو جائے تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرے۔ جب وہ سوچے گا تو وہ جانے گا کہ عین اسی وقت اور ٹھیک اسی مقام پر اس کے لیے بہت سے نئے امکانات موجود ہیں۔ وہ ایک چانس کو کھو کر وہ دوسرا چانس پا سکتا ہے جس کو استعمال کر کے وہ دوبارہ آگے بڑھ جائے۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا بہترین فارمولا یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ ناموافق حالات کو حسن تدبیر سے اپنے موافق بنانے کی کوشش کرو۔ ناکامی کو زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ کامیابی میں تبدیل کرو۔ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے مائنس کو پلس بنا سکے۔ امکان ہر اس شخص کے لیے موجود ہے جو ہمت نہ ہارے جو نا امیدی کے حالات میں بھی پرامید بنا رہے۔ 098 — آسان طریقہ کا انتخاب پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ پیغمبر کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب بھی پیغمبر اسلام کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور آسان انتخاب کو لے لیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کو پر تشدد طریقہ کار اور پرامن طریقہ کار کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ پر تشدد طریقہ کار کو چھوڑ دیتے اور پرامن طریقہ کار کو اختیار کرتے۔ اس طرح جب بھی آپ کو اعراض اور ٹکراؤ کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ ٹکراؤ کے طریقہ کو چھوڑ دیتے اور اعراض کے طریقہ کو اختیار کرتے۔ اسی طرح جب آپ کو جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب کا موقع ہوتا تو آپ ہمیشہ جنگ کو چھوڑ دیتے اور صلح کو قبول کرلیتے۔
یہی حکمت ہے۔ اس حکمت کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کسی مزید بگاڑ سے بچ جائے اور اپنے معاملات کو کامیابی کے ساتھ درست کرتا چلا جائے۔ ہر معاملہ میں ہمیشہ دونوں طریق کار کا امکان مگر عقل مندی وہی ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہمیں ملتا ہے۔ 099 — ناپسندیدگی میں خیر قرآن میں ایک موقع پر نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار
سمجھو اور وہ تمہارے لیے بھلی ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اس آیت کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ لوگ عام طور پر چیزوں کو ظاہر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ وہ ظاہری دلکشی کی بنا پر ایک چیز کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ اور جو چیز ظاہر کے اعتبار سے دلکش نہ ہو اس کو ناپسندیدہ سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ مگر حقیقی انجام کے اعتبار سے یہ طریقہ درست نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک چیز بظاہر دیکھنے میں اچھی نہیں لگتی مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے انسان کے لیے اسی میں فائدہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ایک چیز بظاہر دیکھنے میں اچھی لگتی ہے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ برے انجام کی طرف لے جانے والی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے چیزوں کے بارے میں فیصلہ نہ کرے بلکہ وہ گہری حقیقتوں کے اعتبار سے چیزوں کو دیکھے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے۔