100 — ایک دعا
Al-Risala, October 2003, pp. 47–11
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم ارنا الحق حقاً و ارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابه وارنا الاشياء كما هی۔ (اے خدا مجھے حق کو حق کی صورت میں دکھا اور مجھے اس کی پیروی کی توفیق دے اور مجھے باطل کو باطل کی صورت میں دکھا اور مجھے اس سے بچنے کی توفیق دے اور مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں)۔
موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر موضوعی طرزِ فکر (objective thinking) ہو۔ اس حدیث میں اسی کے لیے دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی ایسے حالات کے درمیان رہتا ہے کہ وہ اکثر حق کو باطل کے روپ میں دیکھنے لگتا ہے اور باطل کو حق کے روپ میں۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے سوال کر رہا ہے کہ وہ اس کو اس گمراہی سے وہ اس کے اندر وہ نگاہ پیدا کرے جو چیزوں کو اس کی اصل روپ (as it is) میں دیکھنے صحیح سوچ سے صحیح عمل پیدا ہوتا ہے اور صحیح عمل آدمی کو ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس پیغمبرانہ دعا کے مطابق، ہر انسان اس فکری مسئلہ سے دوچار ہے کہ حق اس کو حق کی صورت میں نہ دکھائی دے اور باطل اس کو باطل کی صورت میں نہ دکھائی دے۔ یہ مسئلہ کنڈیشننگ (conditioning)
کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی پیدائش کے بعد ایک ماحول میں پرورش پاتا ہے۔ ابتدائی عمر میں وہ ذہنی نا پختگی کی بنا پر ماحول کے اثر کو قبول کرتا رہتا ہے۔ اسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے شعور کو متحرک کر کے اپنی کنڈیشننگ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو مطابق واقعہ سوچ (as it is thinking) کے درجہ تک پہنچائے۔ علم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو باشعور بنا کر اس کو اس سلف ڈی کنڈیشننگ کے لیے تیار کرے۔ مذکورہ دعا اسی ڈی کنڈیشننگ کے عمل میں یقین کے عنصر کا اضافہ ہے۔
November 2003 • No. 324 • Rs. 10 جتنا عمل اتنا انعام—یہی دنیا کا قانون ہے اور یہی آخرت کا