Al-Risala · November 2003

A Moment in Time: A Caravan Camel.

Al-Risala, November 2003, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے آغاز (صفحہ ۵۴) پر اونٹ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس ادارہ نے اس کو بدلوايا۔ کتاب کے نئے ایڈیشن میں اونٹ کی تصویر نکال دی گئی ہے اور اس کا نیا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا گیا ہے: Desert Bloom-Carvan Cities اس ادارہ نے اسکولی نصاب کی کتابوں میں اس قسم کی بہت سی اصلاحات کرائی ہیں، مگر اس کا طریقہ جو انہوں نے اختیار کیا وہ ہندوستان سے بہت زیادہ مختلف تھا۔ انہوں نے اس کام کو مسلم کاز کے طور پر نہیں اٹھایا بلکہ جدید ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا سائنٹفک طریقہ اختیار کیا۔ اس معاملہ میں مغربی ذہن کے دو دور ہیں۔ ایک وہ جو لمبی صلیبی جنگوں (Crusades) کے بعد شروع ہوا۔ اس دور میں مغربی علماء کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کو بگاڑ کر ٹامس کارلائل نے انیسویں صدی میں اس ذہن کو بدلنے کی کوشش کی۔ دوسری عالمی جنگ تک یہ ذہن تقریباً پوری طرح بدل گیا۔ اب مغربی علماء کا ذہن یہ ہے کہ دوسرے شعبوں کی طرح، اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کو عین مطابق واقعہ (as it is) پیش کریں۔

اسی عمومی ذہن کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ امریکامیں نصابی کتابوں کی تیاری کا جو ادارہ ہے وہ کسی کتاب کی تیاری سے پہلے اس سے متعلق مختلف گروہوں کے علماء سے معلومات حاصل کرتا ہے تا کہ ان

کی کتاب میں ہر گروہ کی ٹھیک ٹھیک نمائندگی ہو سکے۔ مذکورہ ادارہ نے اس امکان کو استعمال کیا اور پروفیسروں کی ایک ٹیم تیار کی جو نصابی موضوعات پر قابلِ اعتماد علمی رائے دے سکے۔ اس کے بعد انہوں نے ان امریکی اداروں سے روابط قائم کیے جو تعلیمی کتابیں تیار کرتے ہیں اور چھاپتے ہیں۔ انہوں نے ان امریکی اداروں کو یقین دلایا کہ وہ انہیں نصابی موضوعات پر قابل اعتماد معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس طرح دونوں کے درمیان سلسلہ شروع ہوا۔

سی آئی ای نے یہ کام مسلم دفاع کے طور پر نہیں شروع کیا بلکہ خالص علمی انداز میں شروع کیا۔ چنانچہ وہ جو معلومات فراہم کرتے ہیں وہ صرف اسلام کے بارے میں نہیں ہوتیں بلکہ ہر مذہب اور کلچر کے بارہ میں ہوتی ہیں۔ ان کے اس انداز کی بنا پر امریکی تعلیمی اداروں میں ان کو پسند کیا گیا۔ تک کہ کنسشننس اور ریویووس کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل ہو گیا۔ ایسے مددگاروں کی تعداد تقریباً

۲۹ نومبر کو جب کہ میں سی آئی ای کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا اسی دوران ورجینیا سے انٹرنیشنل نیوز روم (News Room) کا ٹیلی فون آیا۔ وہ کونسل کے ڈائرکٹر شبیر منصوری صاحب سے ٹیلی فون پر انٹرویو لے رہے تھے۔ انہوں نے ان سے چند سوالات کیے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ ہم پبلک اسکولوں میں مذہب کی تعلیم کیوں دیں۔ تقریباً ۱۵ منٹ کے بعد جب انٹرویو ختم ہوا تو نیوز روم کی نمائندہ استیسی میٹنگلی (Stacy Mattingly) نے کہا کہ آپ سے اور دوسرے مسلمانوں سے ہم نے یہ سمجھا ہے کہ مسلمانوں میں جو کھلا پن (opennes) ہے وہ ان کے اپنے مذہب کی تعلیمات کی بنا پر ہے:

Stacy indicated that the approach of CIE to contribute rather than confront is very much based on universal aspect of Islam. She also stated many Muslim organizations that she spoke to also had similar broad thinking. سی آئی ای کے اس کام پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے نزدیک یہ براہِ راست معنوں میں دعوت کا کام تو نہیں ہے، البتہ وہ اس دعوہ پراس کا ایک جزء ہے جو اس وقت ساری دنیا

میں جاری ہے۔ موجودہ زمانے کاایک نیاظاہرہ یہ ہے کہ اسلام میں مختلف اعتبار سے ایسے عمومی پہلو پیدا کر دیے گئے ہیں جنہوں نے اس کو عالمی مطالعہ کا موضوع بنا دیا ہے۔ چنانچہ ریڈیو اور ٹی وی پر اسلامی پروگرام آتے ہیں۔ اسی طرح سے میک ملن اور پنگوئن جیسے ادارے اسلام پر کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ اس طرح مختلف ذرائع سے اسلام کا تعارف ہورہا ہے۔ اس کو میں دعوہ پر اس کہتا ہوں۔ سی آئی ای کے موجودہ کام کو بھی اس عالمی دعوہ پر اس کا ایک جز ء کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت اگر براہ راست اسلامی تبلیغ کا نام ہے تو سی آئی ای جیسے اداروں کا کام گویا بالواسطہ تبلیغ۔ امریکہ کے سفر میں ۲۴ نومبر ۲۰۰۰ کوایری زونا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ نے بتایا کہ وہ میری تحریریں پڑھتے رہے ہیں اور انہوں نے اس سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے۔ نے کہا کہ میں اسلام کے بارے میں کنزرویٹو تھا۔ آپ کی کتابیں پڑھ کر مجھے شرح صدر ہو گیا۔ نام یہ ہے:

Printed page