Muhammad A Subhan M.D.
Al-Risala, November 2003, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے سفر میں اس قسم کے بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ اکثر لوگوں نے یہی کہا کہ دوسری کتابیں پڑھ کر یا دوسروں کی تقریریں سن کر ہمارا ایک خاص ذہن بن گیا تھا۔ اور ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے تھے۔ مگر آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ہمارا یہ ذہن اسلام کے مطابق نہ تھا۔ چنانچہ اب اللہ کے فضل سے ہم صحیح اسلامی نظریہ کے مطابق سوچنے لگے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں میں جومحرّرین اورمقررین ابھرے وہ سب ردعمل کی پیداوار تھے۔ حالات کے ردعمل کے تحت ان کی جو سوچ بنی اس کو انہوں نے اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی منفی تقریروں اور تحریروں کا ایک جنگل ہے جس میں مسلمانوں کی جدید نسل اپنے آپ کو گھرا ہوا پاتی ہے۔ یہ ایک قسم کی ذہنی کہر آلودگی (befogging of mind) کا مسئلہ ہے۔ الرساله مشن اللہ کے فضل سے اس ذہنی کہر کو دور کر رہا ہے۔ وہ لوگوں کو اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت اسلام کی سچی تصویر کو دیکھ سکیں ۔