ایک واقعاتی مثال
Al-Risala, November 2003, pp. 13–15
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۷ اگست ۱۹۵۷ کو ایک مسلم نوجوان پاکستان سے امریکاآیا۔ اس اس وقت اس کی عمر اکیس اس نے پاکستان میں B.A کا کورس کیا تھا اور اب وہ امریکامیں مزید تعلیم حاصل کرنا مگر امریکا (Sacramento) پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کی B.A. کی سند یہاں قابلِ چنانچہ اس کو دوبارہ پہلے سیکرامنٹو(Sacramento)کے (Sacramento) کے اسٹیٹ کالج میں ۲ سال رہ کر B.A. کی ڈگری حاصل کرنی پڑی۔ اس کے بعد مسئلہ روزگار کا تھا۔ مگر مختلف کمپنیوں میں کوشش کرنے کے باوجود اسے روزگار نہیں ملا۔ مشکل سے ۱۹۶۱ میں ایک کمپنی براڈوے ہیل (Briadway Hale) میں ایک معمولی ملازمت ملی جس کوامریکاکی اصطلاح میں اسٹاک بوائے (Stock Boy) کہا جاتا ہے۔ اس واقعہ کے تقریباً دس سال بعد ۱۹۷۰ میں تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ امریکاکی ایک بڑی کمپنی (Wanahmakers in Philadelphia) اور (Marshal Field in Chicago) کو اپنی کمپنی میں خرید و فروخت کے لیے ایک بائر (buyer) کی ضرورت تھی، ایک ایسا بائر جو ممتاز طور پر لائق اور دیانت دار ہو۔ یہ کمپنی کی بے حد اہم پوسٹ تھی جس کے ہاتھ میں ۲۰ ملین ڈالر سالانہ سے زیادہ کا کاروبار ہوتا تھا۔ امریکی طریقہ کے مطابق، ایک ایگزیکیٹو ریکروٹر (Executive Recruiter) کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا کہ وہ اس کے لیے ایک مطلوب بائر تلاش کر کے بتائے۔ اس کمپنی نے اپنے ذرائع کے مطابق، پورے امریکاکاسروے کیاجس میں چند مہینے لگے۔ اس کے بعد اس نے مذکورہ کمپنی کوبذریعہ خط مطلع کیا کہ پورے امریکامیں سب سے زیادہ موزوں نوجوان جو اس کام کے لیے ملا ہے وہ صرف ایک ہے اور یہ نوجوان وہی تھا جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہ جناب صغیر احمد اسلم (پیدائش ۱۹۳۶) تھے جو اب لاس اینجلس (Los Angeles) میں ان کو مذکورہ کمپنی کی طرف سے بائر کے اس عہدہ کی پیش کش کی گئی جس کو وہ منظور نہ کیوں کہ اب وہ خود اپنے کاروبار میں اتنا مشغول ہو چکے تھے کہ انہیں اور کسی کمپنی میں ملازمت کی ضرورت نہ تھی۔ وہ امریکامیں آباد مسلمانوں کے درمیان ان محدود افراد میں شمار کئے
جاتے ہیں جنہوں نے زیرو کے مقام سے آغاز کر کے یہاں ایسی ترقی حاصل کی جو بہت سے لوگوں کے لیے قابل رشک ہے۔ ترقی کا یہ سفر انہوں نے کیسے طے کیا اس کا خلاصہ دو لفظ میں یہ ہے محنت اور دیانت داری۔
ان کی یہ داستان بہت لمبی ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ہر آدمی بڑی سے بڑی ترقی کر سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ اس ترقی کی مطلوب قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہو۔ مثلاً 1961 میں انہوں نے مختلف دفتروں اور کمپنیوں میں کام حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کوئی انہیں کام دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس کا سبب غالباً وہی چیز تھی جس کو عام طور پر تعصب کہا جاتا ہے۔ کمپنی والوں کو پاکستان وغیرہ کے لوگ بیرون امریکی(Foreigner) دکھائی دیتے تھے جب کہ ان کا خیال تھا کہ کوئی امریکی آدمی ان کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے، نہ کہ غیر امریکی آدمی۔ صغیر اسلم صاحب نے اپنی محنت اور دیانت داری کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ کمپنی کے لیے ایک نہایت مفید کارکن ہیں۔ چنانچہ ان کے کام پر ایک ہفتہ گزراتھاکہ کمپنی والوں نے اُن کی باقاعدہ تنخواہ مقرر کر دی۔ صغیر اسلم صاحب اس کمپنی میں 11 سال (1961-1972 رہے)۔ کمپنی والوں نے ان کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک کیا۔ ہر سال ان کی تنخواہ بڑھاتے رہے یہاں تک کہ جب انہوں نے خود اپنی مرضی سے ان کے کام کو چھوڑا تو انہیں کمپنی سے ملنے والی ماہانہ رقم پہلے سال کے مقابلہ میں پچیس گنا زیادہ ہو چکی تھی۔
صغیر اسلم صاحب نے اس کمپنی میں اپنے عمل سے کتنا زیادہ اعتماد پیدا کر لیا تھا اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ کمپنی کے مالک (Boss) سے ان کا سخت اختلاف ہو گیا۔ باس جیب اسٹورٹ مارنڈر (Jeb Stuart Magrmder) ان سے ایک ایسا کام کرانا چاہتا تھا جو صغیر اسلم صاحب کے نزدیک اصول کے خلاف تھا۔ چنانچہ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ جب بحث بڑھی تو وہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے اٹھ گئے کہ میں آج ہی اپنا استعفیٰ (Resign) کمپنی کو دے دوں گا۔ کام کو میں اصول کے خلاف سمجھتا ہوں، اس کو کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ کہہ کر وہ آفس سے اٹھ
گئے ابھی وہ آفس کے بیرونی دروازے پر پہنچے تھے کہ باس اپنی کرسی سے اٹھ کر آیا اور اصرار کرکے ان کو واپس لے گیا اور ان سے کہا کہ آپ ہماری کمپنی کو ہرگز نہ چھوڑیں: Company needs you. We can not afford to lose you. آپ آزادی کے ساتھ اپنا کام کریں۔ آج کے بعد میں کبھی آپ کے کسی کام میں مداخلت نہ کروں گا۔ صغیر اسلم صاحب کا مزاج اور طریقِ کار عام لوگوں سے بہت مختلف ہے۔ چنانچہ کئی لوگ ان کو ایک منفر دانسان (man with a difference) کہتے ہیں۔ خود وہ اپنے بارے میں مذاق کے انداز میں کہتے ہیں کہ خدا نے مجھ کو پیدا ا اور پھر اس سانچے کو پھینک دیا: