God Almighty made me and threw the mould away.
Al-Risala, November 2003, pp. 15–20
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے صغیر اسلم صاحب کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ وہ اس ہندی مقولہ کے مصداق ہیں کہ سادھاڑن گنوں سے اَسادھاڑن منش بنتے ہیں۔
مجھے ذاتی طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کسی آدمی کے اندر طلسماتی صفات ہوں یا وہ کراماتی شعبدے دکھاتا ہو۔ اسی طرح مجھے اس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ کوئی آدمی شاندار گفتگو کرنا جانتا ہو۔ ہائی پروفائل (High Profile) میں کلام کرے اور بڑے بڑے اقدامات کا کارنامہ دکھائے۔ اس سے بھی دلچسپی نہیں کہ کوئی شخص حکمرانوں کو للکارے اور چیلنج (challenge) کی زبان بولے۔ بھی مجھے متاثر نہیں کرتی کہ کوئی شخص ایسے کام کرنے کا ماہر ہو جو میڈیا میں نمایاں ہو اور عوام کی بھیڑ اس کے گرد اکٹھا ہو جائے۔ اس قسم کی تمام چیزوں کو میں سطحیت سمجھتاہوں ،اورسطحیت سے مجھے اس قدر بیزاری ہے کہ ایسی چیزوں کا تذکرہ کرنا ہی مجھے پسند نہیں۔
صغیر اسلم صاحب کی شخصیت جس بنا پر مجھے قابلِ تذکرہ نظر آئی وہ یہ کہ ان کی زندگی میں ہر انسان کے لیے سبق ہے۔ ان کی زندگی کی فطرت کے سادہ اصولوں پر عمل کرکے بنی ہے۔ ان کی زندگی کے اصول اتنے زیادہ سادہ ہیں کہ کوئی بھی شخص ان پر عمل کر سکتا ہے۔ جس طرح خود انہوں نے ان پر عمل کیا اور پھر ترقی حاصل کی۔
مثال کے طور پر ان کی زندگی کا ایک سادہ فارمولا وہ ہے جس کو میں پازیٹیو ایڈجسٹمنٹ (positive adjustment) کہتا ہوں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ کسی سے کوئی معاملہ کر رہے ہوں گے اور پھر درمیان میں وہ آدمی ایک مختلف بات کہہ دے گا۔ ایسی حالت میں صغیر اسلم صاحب اس آدمی سے الجھنے کے بجائے یہ کہیں گے کہ چلو، یہ بھی ٹھیک ہے اور پھر ایک لمحے میں بات ختم ہو جائے گی۔ اگر میں کسی دن صبح کے وقت ان کے گھر پہنچوں اور وہ میرے لیے اگلے ویک اینڈ (weekend) کا پروگرام بنانے لگیں، پھر میں کہوں کہ مجھے آج ہی شام کو واپس جانا ہے تو وہ فوراً کہیں گے، چلو یہ بھی اس کے برعکس اگر میں ان کے گھر جاؤں اور ان سے کہوں کہ مجھے آپ کے ہاں ایک ہفتہ رہنا ہے، تب بھی وہ صرف یہ کہہ دیں گے، چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔
"چلو یہ بھی ٹھیک ہے" کا یہ فارمولا ان کے لیے بے حد مفید ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس ذہنی ٹینشن سے پوری طرح بچے رہتے ہیں جس میں بیشتر لوگ مبتلا نظر آتے ہیں۔ اپنے اس فارمولے کی بنا پر غصہ اور جھنجھلاہٹ، مایوسی اور رُ وُدلی جیسی چیزیں ان کے دل میں جگہ نہیں پاتیں۔ ان کو وہ نعمت پوری طرح حاصل ہے جس کو ذہنی سکون (mental peace) کہا جاتا ہے۔ مثلاً شعبان کی آخری تاریخ کی شام کو میں ان کے یہاں بیٹھا ہوا تھا۔ ہم لوگ کسی موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ درمیان میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں تھوڑی نیند لے لوں۔ اس کے بعد وہ گئے اور تھوڑی دیر سو کر ٹھیک مقرر وقت پر واپس آگئے۔ اپنے ذہن کو غیر ضروری باتوں سے خالی رکھنے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ رات کو سکون کی نیند سوتے ہیں۔
ان کا ہاضمہ ٹھیک کام کرتا ہے۔ وہ اعصابی تناؤ سے بالکل محفوظ ہیں۔ ۶۵ سال کی عمر ہونے کے باوجود وہ جوانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اور یہ سب اس سادہ فارمولے کا نتیجہ ہے کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔
اسی طرح ان کا ایک خیال یہ ہے کہ مخالفانہ باتوں کو برداشت کرنے سے آدمی کے گناہ کم وہ کہتے ہیں کہ تم میرے خلاف جتنی زیادہ باتیں کرو گے اتنے زیادہ میرے گناہ معاف
ہوں گے ۔ چنانچہ وہ اپنے مخالفین کے بارہ میں اطمینان سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ تم میرے خلاف باتیں کر کے میرے گناہوں پر جھاڑو لگاتے رہو ۔ اس فارمولے کا فائدہ ان کو یہ ملا ہے کہ اُن کو کسی شخص کے خلاف نفرت نہیں ہوتی ، خواہ وہ شخص ان کے خلاف کتنی ہی زیادہ نفرت کی باتیں کرنے میں لگا ہوا ہو۔ صغیر اسلم صاحب کے ساتھ وہی مسئلہ ہے جو ہر اس آدمی کے ساتھ ہوتا ہے جو زیادہ ترقی کر جائے ۔ چنانچہ بہت سے لوگ جو ترقی کی دوڑ میں صغیر اسلم صاحب سے پیچھے رہ گئے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اُن کے خلاف حسد میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اس کا اظہار بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا
یہ حاسدین اپنے مخالفانہ پروپیگنڈے میں مصروف تھے ۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک دن ان کے پاس ایک شخص آیا اور اُن سے کہا کہ فلاں آدمی آپ کے خلاف ایسی ایسی باتیں کہہ رہا ہے ، اور آپ اس کے جواب میں کچھ نہیں کرتے ۔ صغیر اسلم صاحب نے کسی شکایت کے بغیر معتدل انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ” یہ ان کا پرابلم ہے ، ،میراپرابلم تونہیں “۔ اسی قسم کے سادہ اور فطری اصول ہیں جن کے ذریعہ صغیر اسلم صاحب نے اپنی کامیاب زندگی کی تعمیر کی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کامیاب زندگی کا اصلی اور حقیقی فارمولا یہی ہے ۔ جو بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور شاندار اسٹیج پر دکھائی دیتا ہے وہ صرف ایک لیڈری ہے۔ اس قسم کی لیڈری سے کچھ افراد کو شہرت اور عظمت تو ضرور مل جاتی ہے ، مگر یہ کچھ افراد کی ذاتی کامیابی ہے جو انہیں اس قیمت پر ملتی ہے کہ قوم تباہی اور بربادی کا شکار ہو کر رہ جائے ۔
میرے نزدیک صغیر اسلم صاحب جیسے غیر لیڈر افراد ہی اس قابل ہیں کہ انہیں حقیقی لیڈری کا کریڈٹ دیا جائے ۔ صغیر اسلم صاحب نے اپنی زندگی کی تعمیر کر کے دوسروں کو تعمیر کا راستہ دکھایا ۔ کے برعکس جو لوگ شہرت اور عظمت کے آسمان پر نظر آتے ہیں ، وہ صرف تخریب کا انعام پانے کے مستحق ہیں ، کیوں کہ باعتبار نتیجہ انہوں نے اس کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام ہی نہیں دیا۔ اور بلاشبہ زندگی کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خارجی حالات کا شکار نہ
ہونے دے، وہ خود اپنے اصولوں کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ صغیر اسلم صاحب کے اندر یہ امتیازی صفت ہے کہ وہ وقتی حالات کا اثر قبول نہیں کرتے۔ وہ خود اپنے سوچے سمجھے اصولوں کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نقشہ بناتے ہیں۔
امریکا میں رہنے والے مسلمان عام طور پر یہاں کے کلچر کے مطابق، کوٹ پتلون کا لباس اختیار کر لیتے ہیں۔ مگر صغیر اسلم صاحب یہاں بھی زیادہ ترکرتہ اورشلوار پہنتے ہیں۔ یہاں اکثر ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کی طرف سے انٹرٹینمنٹ کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں قوالی، مشاعرہ، رقص وسرود جیسے تفریحی آئٹم ہوتے ہیں۔ لوگ مہنگے ٹکٹ لے کر بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شریک مگر صغیر اسلم صاحب ایسے پروگرام میں شرکت نہیں کرتے۔ حتی کہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے ٹکٹ لا کر انہیں دے دے تب بھی وہ وہاں نہیں جاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طریقہ اپنی با اصول شخصیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ مگر یہاں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس بے اصولی سے بچے ہوئے ہوں۔
اسی طرح شادیوں کی دھوم جو ہندوستان اور پاکستان میں ہوتی ہے وہ مزید اضافہ کے ساتھ امریکا میں بھی موجود ہے۔ مگر صغیر اسلم صاحب اس معاملہ میں بھی اپنی انفرادیت کو باقی رکھے ہوئے یہاں کے عام مسلمان اپنی شادیوں کی تقریبات بڑے بڑے ہوٹلوں یا کمیونٹی سینٹر میں نہایت مسرفانہ انداز میں کرتے ہیں۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اپنی بڑی لڑکی کی شادی خود اپنے گھر پر کی اور سادہ انداز میں اُس کو انجام دیا۔
شادیوں کی دھوم کے معاملہ میں ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان اگر بدعت میں مبتلا ہیں تو امریکا کے مسلمان بھی اس معاملہ میں سپر بدعت کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں اس معاملہ میں تین رسمیں یکساں شان وشوکت کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے منگنی، جس میں پوری دھوم کے ساتھ ہونے والے شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد نکاح کی تقریب ہوتی ہے جس میں دوبارہ تمام رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد رخصتی کی رسم ادا کی
جس کی مسرفانہ دھوم کو دیکھنا کسی صاحب ذوق آدمی کے لیے ایک سزا سے کم نہیں۔ عجیب بات ہے کہ اسی امریکامیں یہاں کے عیسائیوں کی اکثریت نہایت سادگی کے ساتھ اپنی شادی کی تقریب ادا کرتی ہے۔ مگر اسی ملک میں مسلمانوں کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ برصغیر ہند کے مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر یہی مسلمان ہندوستان اور پاکستان میں اور اسی طرح باہر کے ملکوں میں شادی کے معاملہ میں ہندوؤں کی رسموں کو مزید اضافہ کے ساتھ پکڑے
۲نومبر۲۰۰۰کومیں امریکامیں تھا۔ مجھ کو بتایا گیا کہ آج فلاں مسلمان کے لڑکے کی منگنی کی رسم ایک کمیونٹی سینٹر میں ہورہی ہے۔ لوگوں کے کہنے کی بنا پر میں بھی وہاں چلا گیا۔ میرا مقصد اس کو دیکھنا تھا نہ کہ شرکت کرنا۔ وہاں یہ معلوم کر کے روحانی تکلیف ہوئی کہ عام قسم کی مسرفانہ دھوم کے علاوہ وہاں رقص و سرود بھی ہورہا تھا۔ حتی کہ ہونے والے شوہر اور بیوی نے ایک دوسرے کے ہاتھ میں انگوٹھی مزید یہ کہ یہ رمضان کے مہینہ کی پہلی رات تھی۔ میں نے کہا کہ رمضان کے استقبال کا کیسا انوکھا طریقہ ہے جس کو یہاں کے مسلمانوں نے اختیار کیا ہے۔
صغیر اسلم صاحب اس طرح کی فضول رسموں سے بڑی حد تک بچے ہوئے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنی با اصول شخصیت کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہیں۔
۱۹۸۷ء کی بات ہے، صغیر اسلم صاحب کی بڑی صاحب زادی صائمہ پروین اسلم امریکن نرسری اسکول سے پڑھ کر آئی۔ گھر واپس آکر بچی کی زبان سے ایک لفظ نکلا۔ یہ ایک گندا لفظ تھا جس کو اس نے اسکول میں سنا تھا۔ صغیر اسلم صاحب نے جونہی بچی کی زبان سے یہ لفظ سنا تو فورا ان کو احساس ہوا کہ ہماری قوم کے چھوٹے بچے جو سیکولر اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں وہ وہاں نہایت غلط تربیت پا رہے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم کو ایک ابتدائی اسکول کھولنا ہے جہاں ہمارے بچے بھی پڑھیں اور دوسرے مسلمانوں کے بھی۔
اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی اُس وقت صرف ایک مسجد پر مشتمل تھی۔ پہلے یہاں ایک
مسی چرچ تھا۔ اس کو خرید کر مسجد کی صورت دے دی گئی۔ صغیر اسلم صاحب سوسائٹی کے ذمہ داروں سے ملے اور کہا کہ ہمیں یہاں اپنے بچوں کے لیے ایک اسکول کھولنا ہے۔ اس وقت لوگوں نے اس کو ایک خیالی بات سمجھا۔ کیوں کہ ظاہری حالات کے اعتبار سے سوسائٹی اس پوزیشن میں نہ تھی کہ وہ ایک اسکول کھول سکے۔
صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ یہ مسئلہ وسائل کا نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے لیے یہاں دوسرا کوئی انتخاب ہی نہیں:
We do not have any other choice, we must have a school. صغیر اسلم صاحب کئی ہفتے تک سوسائٹی کے ذمہ داروں کے پاس جاتے رہے اور وہ لوگ ہر میٹنگ میں اسکول کے مسئلہ کو ٹالتے رہے یہاں تک کہ ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ صغیر اسلم صاحب اپنا اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں: