Al-Risala · November 2003

He will not give up. He is persistent

Al-Risala, November 2003, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے کہا کہ اچھا اگلے ماہ ہم اسکول کھول دیں گے۔ اس کے بعد صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ آپ میں سے کتنے لوگ گارنٹی دیتے ہیں کہ آپ اگلے ماہ تک زندہ رہیں گے۔ یہ سن کر تمام لوگ چپ ہو گئے۔ اور پھر کہا کہ ہم اسکول کھولنے کے لیے تیار ہیں مگر ہمارے پاس نہ زمین ہے اور نہ بلڈنگ اور نہ ہی استاذ۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ ہمارے پاس جو محدود جگہ ہے اسی پر ہم اپنا اسکول شروع کر دیں گے۔ اور جہاں تک ٹیچر کا سوال ہے تو میں اور میری بیوی رضا کارانہ طور پر ٹیچر بننے کے لیے

اس کے بعد ۱۹۸۸ میں مسجد کے ساتھ ہی ایک کمرے میں اسکول کا آغاز کر دیا گیا۔ صاحب نے نہ صرف خود بلکہ اپنے احباب کے ذریعہ مسلسل اس اسکول کے لیے ہر قسم کا تعاون فراہم یہاں تک کہ آج وہ ایک معیاری اسکول کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی اپنی مستقل بڑی آٹھویں کلاس تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ اس میں ۶۰۰ سے زیادہ اسٹوڈنٹ ہیں اور ۲۱ ٹیچر

کام کر رہے ہیں۔ اب صغیر اسلم صاحب کا اگلا خواب یہ ہے کہ وہ اس ادارہ کو ایک معیاری اسلامک یونیورسٹی بنا دیں۔ اور حالات جس طرح ترقی کر رہے ہیں، بظاہر ایسا ہونا کوئی بعید از قیاس نہیں۔ ۲۹ نومبر ۲۰۰۰ کو مجھے یہ کہانی معلوم ہوئی تو مجھے ایک عرب شیخ کا قول یاد آیا جس نے کہا تھا: رجل ذو همة يحيى الأمة (ایک باہمت آدمی پوری قوم کو زندہ کر دیتا ہے) حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا کام ہمیشہ ایک ہی آدمی کرتا ہے۔ بڑا کام کرنے کی شرط یہ ہے کہ انسان کے دل میں اس کی آگ لگ اس قسم کی آتشیں تڑپ کسی ایک فرد ہی میں پیدا ہوتی ہے نہ کہ انسانوں کے کسی مجموعے میں۔ تڑپ اور لگن والے ایک انسان کا وجود میں آنا اس بات کی ضمانت ہے کہ افراد اور وسائل اس کے گرد جمع ہو جائیں اور وہ ان کو لے کر ہیروانہ انداز میں اپنے خواب کو واقعہ بنا سکے۔ ۱۹۹۲ کا واقعہ ہے۔ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی میں عید کا اجتماع تھا۔ تقریباً تین ہزار مسلمان موجود تھے۔ صغیر اسلم صاحب نے سوسائٹی کے چیرمین کی حیثیت سے تقریر کی۔ اپنی تقریر کے درمیان انہوں نے کہا کہ امریکا ہم کو اپنے دین کے کام کے لیے ایسے مواقع دیتا ہے جو اس وقت کسی دوسرے ملک میں نہیں، حتیٰ کہ مسلم ملکوں میں بھی موجود نہیں۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایک امریکی مسلمان ہوں۔

Printed page