Al-Risala · November 2003

I am proud to be an American Muslim.

Al-Risala, November 2003, pp. 21–31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تقریر کے بعد کچھ حاضرین صغیر اسلم صاحب سے سخت ناراض ہوئے۔ کچھ نے کہا کہ آپ امریکا کے پٹھو ہیں۔ آپ ایک نان مسلم ملک کی تعریف کر رہے ہیں۔ آپ اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنٹ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے صغیر اسلم صاحب کو پکڑ کر ان کا گلا گھونٹ دینا چاہا اور کہا کہ تم سوسائٹی کے چیرمین بننے کے قابل نہیں ہو۔

یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام مزاج ہے۔ میں نے انڈیا میں ایسے بہت سے مسلمان دیکھے ہیں جو امریکا سے نفرت کی باتیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک امریکا ہر قسم کی برائیوں کا اڈہ ہونے کے علاوہ اسلامی ملکوں کا دشمن بھی تھا۔ اس کے باوجود ان کا حال یہ ہوا کہ پہلا موقع ملتے ہی

انہوں نے اپنے بیٹے یا بیٹی کو امریکا بھیج دیا۔ میں حیران ہوں کہ یہ کردار کی کون سی قسم ہے۔ لوگوں کو یا تو امریکا کی برائی نہیں کرنا چاہیے یا اگر وہ اس کو برا بتاتے ہیں تو اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر امریکا میں نہیں کرنا چاہیے۔

صغیر اسلم صاحب کا مکان مسجد سے قریب ہے۔ ۲ رمضان کی شام کو ہم لوگ مسجد گئے۔ عشاء کی نماز اور تراویح کی نماز پڑھی گئی۔ یہاں کی تراویح ہندوستان کی تراویح سے بہت مختلف تھی۔ اپنے آپ نظم کے ساتھ صفوں میں کھڑے ہو گئے۔ قاری نے ترتیل کے ساتھ قرآن کے ایک حصہ کی داخلی لاؤڈ اسپیکر کا انتظام بہت اچھا تھا۔ نماز کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہا گیا۔ نے نماز کے بعد مختصر درس دیا۔

میں نے کہا کہ تراویح در اصل تہجد کی جماعتی صورت ہے جس کو لوگوں کی سہولت کی خاطر مقدم کر کے عشاء کے بعد رکھ دیا گیا ہے۔ تہجد کی نماز کو قرآن میں نافلہ کہا گیا ہے۔ یعنی مزید نماز۔ تراویح کی حیثیت بھی ہے۔ تراویح کا اصل مقصد یہ ہے کہ عبادت کی حالت میں قرآن کو سننا، تا کہ وہ زیادہ مؤثر ہو سکے۔

میں نے دیکھا کہ آٹھ رکعت پوری ہونے کے بعد تقریبا نصف نمازی مسجد سے چلے گئے۔ نے کہا کہ تراویح میں اصل چیز رکعت نہیں بلکہ قرآن کو سننا ہے۔ میں ذاتی طور پر ۲۰ رکعت کے بجائے آٹھ رکعت کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔ مگر ایسا کرنا درست نہیں کہ ایک مسجد جہاں ۲۰ رکعت کی تراویح ہو رہی ہو آٹھ رکعت پڑھ کر آپ وہاں سے چلے جائیں۔ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے بقیہ حصہ کو آپ نے نہیں سنا۔ جو لوگ آٹھ رکعت کی صورت میں تراویح پڑھنا چاہتے ہوں انہیں اس کا علیحدہ انتظام کرنا چاہیے اور آٹھ رکعت کی شکل میں پورے قرآن کو سننا چاہیے۔ اس معاملہ میں جو انتخاب ہے وہ صرف آٹھ رکعت یا بیس رکعت میں نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ آپ یا تو آٹھ رکعت میں پورا قرآن سنیں یا بیس رکعت میں پورا قرآن سنیں۔ اس معاملہ میں کوئی تیسری صورت نہیں۔

صغیر اسلم صاحب نے بتایا کہ پچھلے تقریباً۴۵سال کے دوران مسلسل ان کی ڈیلنگ یہاں کے

سفید فام اور دوسرے لوگوں کے ساتھ رہی ہے۔ اس دوران انہیں سفید فام لوگوں کو بہت قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہاں کے سفید فام لوگ بہت دیانتدار (honest people) ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ وہ اپنی ڈیوٹی پوری طرح انجام وہ کسی کو دھوکہ نہیں دیتے۔ وہ اپنی غلطی کو فورا مان لیتے ہیں۔ اگر کسی معاملہ میں ان کی رائے پوچھی جائے تو وہ ہمیشہ سنجیدگی کے ساتھ بات سنیں گے اور سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب دیں گے۔ میں نے اب تک امریکہ کے ۱۲ سفر کئے ہیں اور میں نے اپنے تجربہ کے دائرہ میں صرف چند ایسے مسلمان پائے ہیں جن کو امریکیوں سے نفرت نہ ہو بلکہ وہ ان کو پسند کرتے ہوں ۔ ان میں سے ایک صغیر اسلم صاحب ہیں۔ وہ امریکہ کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اور امریکیوں کو اپنی قوم ۔ اس لیے ان کے دل میں امریکیوں کے لیے عزت و احترام کے جذبات ہیں نہ کہ نفرت اور انتقام کے جذبات، جیسا کہ دوسرے اکثر لوگوں کا حال ہے۔

امریکہ میں آج کل ایک ہزار سے زیادہ اسلامک سنٹر ہیں۔ ان میں سے کئی سنٹر میں نے خود دیکھے ہیں اور بہت سے سنٹروں کے بارے میں دوسروں سے معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ یہ تمام سنٹر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے سنٹر نہیں ہیں بلکہ وہ سوشلائیزیشن کے سنٹر ہیں۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے مسلمان یہاں کی سوسائٹی میں شامل نہیں چنانچہ وہ سماجی علیحدگی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔ اس سماجی کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ سنٹر بناتے ہیں۔ یہاں چھٹی کے دنوں میں مرد، عورت اور بچے بڑی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسلم صاحب نے میری اس رائے سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی مسلمان مردوں اور عورتوں سے یہ بات کہا کرتا ہوں کہ آپ لوگ ان سنٹروں میں سوشلائیز کرنے کے لیے آتے ہیں نہ کہ واقعی معنوں میں اسلام کے لیے۔

پھر میں نے کہا کہ اس طبقہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بظاہر نہایت سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کا معاملہ بھی یہ ہے کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام کو ایک کلچر کے روپ میں دیکھتے ہیں

اور مسلمانوں کی کلچرل پہچان (cultural identity) کو باقی رکھنے کے لیے وہ اس قسم کے ادارے

اس قسم کے تصور دین میں بیک وقت دو نقصانات ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نام پر ظاہری دھوم برپا کرنے کے باوجود حقیقی اسلام سے محروم رہتے ہیں۔ انہیں کبھی اصلی اسلام کا تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کا دوسرا نہایت سنگین نقصان یہ ہے کہ ایسے مسلمانوں کے اندر اپنی دعوتی ذمہ داری کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ وہ نفسیاتی طور پر غیر مسلموں سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ساری سرگرمیاں صرف اپنے لوگوں کے اندر رہتی ہیں۔ ان کے سارے پروگرام اپنے لوگوں کے ساتھ بنتے ہیں۔ غیر مسلموں سے ان کی ملاقات زیادہ سے زیادہ سروس اور بزنس کی نسبت سے ہوتی اس کے علاوہ ان کے سارے روابط اور تعلقات ہمیشہ اپنوں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ غیر مسلم سرے سے ان کا کنسَرن (concern) ہی نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا جذبہ پیدا ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔

۲۸ نومبر ۲۰۰۰ کو صغیر اسلم صاحب کے مکان پر یہاں کے مختلف تعلیم یافتہ لوگوں سے مثلاً ڈاکٹر حبیب اللہ خاں، صفی قریشی صاحب، ظفر اقبال خاں صاحب، وغیرہ۔ لوگوں سے تفصیلی باتیں ہوئیں۔ بعد کو میں نے صغیر اسلم صاحب سے لوگوں کا تاثر پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک سب سے زیادہ خاص بات یہ تھی کہ آج آپ کی گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ اسلام نام ہے—اللہ تعالی کو ڈسکور (discover) کرنا، اس کے لیے سب سے زیادہ محبت ہونا، اللہ کو اپنا سب سے بڑا کنسَرن (concern) بنانا۔

انہوں نے کہا کہ ہر ایک اصولی طور پر اس سے متفق تھا۔ تاہم ہر ایک کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس مقصد کو کس طرح حاصل کیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا موقع بروقت ہی آدمی کو حاصل ہے۔ آدمی کے دل میں فطری طور پر یہ جذبہ ہے کہ وہ کسی کو اپنا سب سے زیادہ محبوب بنائے۔ لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اس فطری جذبہ کا مرکز اللہ کے سوا کسی اور کو بنا لیتے ہیں۔ اب ان کو یہ کرنا ہے کہ وہ دوسری

چیزوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کو اپنا مرکز تو جے بنائیں۔ ایک سوال یہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی کیوں کیا۔ اس کی کیا ضرورت تھی کہ انسان جیسی ایک مخلوق دنیا میں آئے۔ وہ امتحانی حالات میں اور پھر تھوڑے سے لوگ امتحان پاس کر کے جنت کے حق دار بن جائیں اور بہت سے لوگ ناکام ہو کر جہنم میں ڈال دیے جائیں۔

میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہوا کہ وہ ایک ایسی دنیا بنائے جو اللہ کی اپنی ذات کو چھوڑ کر ہر دوسری چیز سے بہتر ہو، یعنی جنت، اور پھر کچھ لوگوں کو یہ موقع دے کہ وہ جنت کی اس معیاری دنیا میں خوشیوں اور راحتوں کی ابدی زندگی گزار سکے۔ اس جنت میں بسانے کے لیے اس نے وہ بہترین نقشہ بنایا جس سے بہتر نقشہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ یعنی انسان کو پیدا کر کے اُسے مکمل آزادی دی جائے اور پھر جو افراد اس اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ آزادی کے باوجود اللہ کے پابند بن کر رہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بے اعترافی کا اختیار رکھتے ہوئے اعتراف کا ثبوت دیا۔ کسی جبر کے بغیر انہوں نے خود اپنا فیصلہ لے کر صحیح اور مطلوب زندگی گزاری تو ایسے لوگوں کو جنت میں قیام کے لیے منتخب کیا جائے۔ یہاں کا انگریزی روزنامہ لاس اینجلس ٹائمس کا شمارہ (۲۹ نومبر ۲۰۰۰) دیکھا۔ صفحہ اول پر اس میں ایک رپورٹ انسانی دماغ (Brain) پر تھی۔ اس ریسرچ میں برین اسکینگ کی جدید تکنیک (FMRI) استعمال کی گئی تھی۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب ان کو کچھ بتایا جائے یا پڑھ کر سنایا جائے تو ان کے دماغ میں کس قسم کی اعصابی حرکات ہوتی ہیں۔

Using a brain scanning technique called Functional Magnetic Resonance Imaging (FMRI) the work does highlight the differences in natural activity between men and women listening to something read aloud. اس ریسرچ کے ذریعہ یہ معلوم ہوا ہے کہ مرد اپنے دماغ کے صرف ایک جانب سے سنتے ہیں جب کہ عورتیں اپنے دماغ کے دونوں سمت کو استعمال کرتی ہیں۔

Research released Tuesday shows that men listen with one side of their brains, while women use both sides.

اس ریسرچ میں ۱۰ تندرست مرد اور ۱۰ تندرست عورتوں پر تجربات کئے گئے۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت کے دماغ یقینی طور پر یکساں نہیں ہیں :

They are definitely not the same — in size, sense or sensibilities. ۲۹ نومبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے ساتھ ڈاکٹر مزمل صدیقی کے گھر گیا۔ انہوں نے افطار پر بلایا تھا۔ وہاں ان کے بیٹے اور داماد موجود تھے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان لوگوں سے دیر تک مفید گفتگو ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ موجودہ حالات میں آپ کے نزدیک مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ مسلمان اگر صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تویقینی طورپر وہ کامیاب رہیں گے۔ کی اصل طاقت اس کی آئیڈیالوجی (ideology) ہے۔ یہ آئیڈیالوجی فطرت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ہر انسان کو اپیل کرتی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ مسلمانہ ن ہر جگہ یا تو نفرت کی باتیں کرتے ہیں یا تشدد کو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر مسلم لوگ معتدل انداز میں اسلام پر غور نہیں کر پاتے۔ ایک صاحب نے کہا کہ نفرت کی فضا پیدا کرنے والا موجودہ میڈیا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میڈیا ہاٹ نیوز (Hot News) کورپورٹ کرنے کی انڈسٹری ہے۔ سافٹ نیو ز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ چنانچہ اپنے اس مزاج کی بنا پر وہ لوگ مسلمانوں کی نفرت اور تشدد کی باتوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ میڈیا کو برا کہیں ۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آپ ہر حال میں پر امن انداز کا طریقہ اختیار کریں تا کہ میڈیا کو یہ موقع ہی نہ ملے کہ وہ آپ کی متشددانہ خبروں کو لے کر دنیا میں آپ کی تصویر کو بگاڑے۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر جیسے مقامات پر مسلمانوں کے لیے ایک ہی ممکن حل ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں صورت موجودہ (statusquo) کو قبول کر لیا جائے ۔ مقامات کے مسلمانوں کے لیے جو انتخاب ہے وہ صورت موجودہ اور تباہی کے درمیان ہے نہ کہ صورت موجودہ یا کسی نئی صورت کے درمیان۔

اس مجلس میں امریکاکے مقبول مقررین، سراج وہّاج اورحمزہ یوسف وغیرہ کا بھی تذکرہ ہوا۔

لوگوں نے ان کی تقریر کی تعریف کی۔ ایک نوجوان حمزہ یوسف کو بہت پسند کرتے تھے۔ ایک اور نوجوان سراج وہاج کی بہت تعریف کر رہے تھے۔

میں نے دونوں سے پوچھا کہ آپ لوگ اچھی طرح انگریزی جانتے ہیں اور ان کی بہت سی تقریریں سنی ہیں، آپ بتائیے کہ ان کی تقریر کا مغز (substance) کیا ہوتا ہے۔ یا یہ کہ ان کی تقریر وں سے آپ کو کیا مسیج ملا ہے۔ دونوں نوجوانوں میں سے کوئی بھی اس کا جواب نہ دے سکا۔ پھر میں نے کہا کہ میں نے ان لوگوں کی تقریریں سنی ہیں یا تو براہِ راست یا ریڈیو پر۔ ہوں کہ ان لوگوں کی تقریریں ایک قسم کی ذہنی تفریح (intellectual entertainment) ہوتی ہیں۔ آپ اگر ان کو پسند کرتے ہیں تو پسند کیجیے مگر ان کو داعی نہ کہیے۔ کیوں کہ داعی وہ ہے جو سننے والوں کو کوئی واضح پیغام دے نہ کہ انہیں وقتی طور پر خوش کرے۔

ڈاکٹر صدیقی صاحب کے ہاں سے ہم واپس آئے تو صغیر اسلم صاحب کی صاحبزادی عائشہ پروین اسلم (عمر ۱۶ سال) نے کچھ سوالات کئے۔ میں نے کہا کہ سوال کرنا بہت اچھی عادت ہے۔ پھر میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر صرف یہ جانتے ہیں کہ چیزوں میں صرف دو تقسیم ہے ۔ تو وہ حلال ہوں گی یا حرام۔ مگر یہاں ایک اور تقسیم ہے جو اس سے زیادہ اہم ہے اور وہ ہے سطحیَت اور

میں نے کہا کہ بہت سی چیزیں ہیں جو شرعی اعتبار سے حرام نہیں مگر ان سے صرف سستی تفریح حاصل ہوتی ہے۔ جو آدمی کسی بلند مقصد کے لیے جینا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے۔ حرام چیز اگر اللہ کی نافرمانی ہے تو سستی تفریح یا سستی لذت کی تفریح اپنے وقت کا ضیاع۔ ۱۹۷۲ کی بات ہے، صغیر اسلم صاحب ایک سفر کے دوران لاس اینچیلیز ایرپورٹ پر ان کو سان فرانسسکو جانا تھا۔ کہر (fog) کی وجہ سے جہاز لیٹ ہو گیا۔ ائیر پورٹ پر جہاں وہ بیٹھے تھے، پاس کی کرسی پر ایک اور مسافر بیٹھا ہوا تھا۔ تعارف کے دوران اس نے بتایا کہ وہ ڈیرل لیمونکا (Daryl Lamonica) ہے جوکہ کوارٹربیک فارآکلینڈرائڈرس(Quarter

(Quarter Back For Oakland Raiders) ہے۔ وہ امریکن فٹ بال کی دنیا کا بہت بڑا اور مشہور کھلاڑی ہے۔ ائرپورٹ اور بعد میں ہوائی جہاز کے اندر لوگ اس کے پاس آتے رہے اور جھک کر اُس سے ملتے رہے۔ ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اتنا خوش قسمت سمجھتے تھے کہ وہ ایک بڑے مشہور فٹ بال کھلاڑی سے مل رہے ہیں۔

مگر صغیر اسلم صاحب اُس سے ایک عام انسان کی حیثیت میں ملے۔ اس نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ آپ میری زندگی میں پہلے انسان ہیں جو اس طرح مجھ سے مل رہے ہیں جیسے کہ ایک عام آدمی سے مل رہے ہوں۔ ورنہ میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگ مجھے ہیرو کے انداز میں دیکھتے ہیں اور میرا والہانہ استقبال کرتے ہیں۔ صغیر اسلم صاحب اور ڈریل لیمونکا کا جہاز جب سان فرانسسکو پہنچا تو ڈریل لیمونکا نے صغیر اسلم صاحب سے کہا کہ یہ میرا بزنس کارڈ ہے اور گھر کا فون نمبر اس پر لکھ دیا ہے۔ بڑے لوگ عام طور پر گھر کا نمبر کسی کو نہیں دیتے اور کہا کہ جب بھی آپ سان فرانسسکو آئیں تو میرے یہاں ضرور آئیں ۔ میں آپ کو فٹ بال گیم دیکھنے کے لیے پہلی صف میں سیٹ لے کر دوں گا۔ صاحب نے کہا کہ مجھے فٹ بال کے گیم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

وہ صغیر اسلم صاحب کی شخصیت سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ اس نے اپنی کار پر بیٹھا کر ان کو ائرپورٹ سے ان کے ہوٹل تک پہنچایا اور پھر وہ اپنے گھر گیا۔ آخر میں رخصت ہوتے ہوئے اس نے دوبارہ کہا کہ اگر آپ کو فٹ بال سے انٹرسٹ نہیں ہے تب بھی آپ میرے گھر پر آئیں اور کم سے کم ایک وقت کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔

اس طرح کے واقعات صغیر اسلم صاحب کے ساتھ بار بار پیش آئے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک بڑا آدمی ان لوگوں کو اہمیت نہیں دیتا جو اس کی بڑائی کا اعتراف کرکے اس کو زبردست عزت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس صغیر اسلم صاحب جیساآدمی جوسرے سے اس کی بڑائی کا اعتراف ہی نہیں کرتا اس کو وہ اتنا زیادہ قابل توجہ سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ استثنائی طور پر خلوص کا معاملہ کرتا ہے۔

اس میں وہ اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو چھوٹا سمجھ رہا تھا۔ مگر صغیر اسلم صاحب نے اس سے جو معاملہ کیا اس میں اس کو خود اپنا وجود چھوٹا ہوتا ہوا نظر آیا۔ اس کو شعوری یا غیر شعوری طور پر محسوس ہوا کہ دنیا میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو میری عظمت کو رد کر رہا ہے گویا کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ بڑے آدمی کی بڑائی کا اعتراف کرو تو وہ تمہارا ہو جائے گا۔ بڑے آدمی کو جیتنے کا زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کے سامنے بالکل بے غرض بن جائیں اور اس سے ایسا معاملہ کریں جیسے کہ وہ آپ کی نظر میں صرف ایک معمولی انسان ہے نہ کہ کوئی بڑا انسان۔ بشرطیکہ آپ نے سرکشی کی بنا پر ایسا نہ کیا ہو۔

امریکا کے سفر میں مجھے ایک صاحب کے گھر جانا پڑا۔ کھانے کی میز پر انہوں نے کہا کہ میری بیوی بہت اچھا کھانا پکاتی ہے، وہ ہم کو روزانہ لذیذ کھانے کھلاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کسی بیوی کی کوئی اچھی تعریف نہیں۔ بیوی کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ آپ کی زندگی کی ساتھی ہے نہ کہ صرف ایک

پھر میں نے بتایا کہ انڈیا میں ایک بار میں ایک صاحب کے ہاں گیا۔ انہوں نے بھی آپ ہی کی طرح اپنی بیوی کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار میں ایک پارٹی میں گیا۔ واپس آیا تو میں نے اپنی بیوی سے پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کھانے کا ہر آئٹم موجود تھا، مگر وہاں آئس کریم نہیں تھی۔ اس وقت رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ بیوی فوراً کھڑی ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ صرف چند منٹ ٹھہریے میں آپ کو ابھی آئس کریم بنا کر کھلاتی ہوں۔ چند منٹ بعد میز پر تازہ آئس کریم کی پلیٹ رکھی ہوئی تھی۔

میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف کھانے کی لذت کو جانتے ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑی ایک لذت ہے اور وہ ذہنی تبادلہ خیال (intellectual exchange) کی لذت ہے۔ اس لذت کو پانے کا سب سے بڑا ذریعہ آدمی کی بیوی ہوتی ہے جو اس کی سب سے زیادہ قریبی ساتھی ہے اور ہر وقت اس کے لیے قابل حصول ہے۔

میں نے کہا کہ میں اس کو بھی ایک پیغمبرانہ سنت سمجھتا ہوں۔ آپ حدیث کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ کے اقوال پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک خاتون نے اتنی گہری باتوں کو کیسے جان لیا۔ اس سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ کے درمیان وہی چیز بار بار پیش آتی تھی جس کو میں انٹلیکچول ایکسچینج کہہ رہا ہوں۔ روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ (کان یحدثنی) اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ اس سے خیالات زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ نئی نئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ آدمی کے دماغ میں فکری عمل (thinking process) برابر جاری رہتا ہے جو مسلسل ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ انٹلیکچول ایکسچینج ہرلینڈ یڈش سے زیادہ لذیذ ہے۔ اکثر الناس لا یعلمون (مگر اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے)۔

۶ نومبر ۲۰۰۰ کو امریکہ کا صدارتی الیکشن ہوا۔ ایک طرف جارج ڈبلیو بش تھے، دوسری طرف الگور تھے۔ جارج بش کے ووٹ صرف چند سو زیادہ تھے۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان وہی سیاسی جنگ شروع ہوگئی جو انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں نظر آتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی اپنی ہار ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔

ٹھیک یہی معاملہ یہاں ۱۹۵۹ میں پیش آیا تھا۔ اس وقت رچرڈ نکسن (Richard Nixon) اور جان کینیڈی (John Kennedy) کے درمیان مقابلہ تھا۔ نکسن کو چند سوووٹ کم ملے تھے۔ نکسن کو یہ موقع تھا کہ وہ اپنی ہار نہ مانے۔ وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے آپ کو فاتح ظاہر کرنے کی کوشش کرے۔ مگر نکسن نے یہ اعلان کر دیا کہ میں اپنے ملک کے مفاد اور اپنی پارٹی کے نام کے لیے ہار تسلیم کرتا ہوں: I concede it for the sake of my country and my party. کسی سیاسی نظام کی طاقت کا راز یہ ہے کہ اس کے لیڈر اپنی ہار ماننے کے لیے تیار جہاں ایسا ہو کہ ہر لیڈر صرف اپنی جیت کا جھنڈا بلند کرنا چاہے وہاں کبھی مضبوط سیاسی نظام نہیں بن سکتا۔

امریکہ میں سو سال سے ایک ادارہ قائم ہے۔ یہ ادارہ عیسائیوں اور یہودیوں نے قائم کیا تھا۔ چنانچہ پہلے اس کانام یہ تھا :

Printed page