Al-Risala · February 2003

شدت پسندی نہیں

Al-Risala, February 2003

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تشددوا علی أنفسكم فيشدد عليكم، فإنّ قوما شددوا على أنفسهم فشدّد الله عليهم، فتلك بقاياهم فى الصوامع والديار (سنن أبى داؤد، كتاب الادب، باب فى الحسد) یعنی تم اپنے آپ پر سختی نہ کرو ورنہ تمہارے اوپر سختی کی جائے گی۔ کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی۔ پھر اللہ نے بھی ان پر سختی تو انہی لوگوں کے باقیات ہیں گرجوں میں اور خانقاہوں میں۔

اس حدیث میں تشدد سے مراد محدود طور پر صرف مذہبی تشدد یا انتہا پسندانہ رہبانیت نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسانی زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ جس معاملہ میں بھی اعتدال کا طریقہ چھوڑ کر شدت کا طریقہ اختیار کیا جائے گا وہ سب اس حدیث کے حکم میں شامل ہوگا۔

اعتقادی شدت پسندی یہ ہے کہ جزئی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کی تکفیر اور تفسیق کی اسی طرح عبادتی شدت پسندی یہ ہے کہ فروعی مسالک کی بنیاد پر الگ الگ مسجدیں بنائی جائیں اور اس کو امت میں تفریق کی حد تک پہنچا دیا جائے۔ اسی طرح معاملاتی شدت پسندی یہ ہے کہ رخصت کو کم تر سمجھ کر ہر معاملہ کو عزیمت کا سوال بنا دیا جائے۔

شدت پسند آدمی اپنے آپ میں جیتا ہے۔ وہ صرف اپنی امنگوں کو جانتا ہے۔ اس بنا پر اس کی حیثیت اس انسان جیسی ہو جاتی ہے جو سڑک کو خالی سمجھ کر اس کے اوپر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ کبھی کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز اعتدال پسندی ہے، نہ کہ شدت پسندی۔ شدت پسندی گویا خدا کے تخلیقی نقشہ کے خلاف جینے کی کوشش کرنا ہے اور اعتدال پسندی خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ شدت پسندی اپنی ذات کے اعتبار سے تواضع کے خلاف ہے اور دوسروں کے اعتبار سے رعایت انسانی کے خلاف۔ اور یہ دونوں چیزیں بلاشبہ اسلام میں مطلوب نہیں۔ شدت پسندی اللہ کو پسند نہیں۔ جولوگ شدت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اُن کا انجام یہ

ہوتا ہے کہ متشددانہ طریقہ اُن کی روایات میں شامل ہو کر اُن کے دین کا جزء بن جاتا ہے۔ اُن کی بعد کی نسلیں مجبور ہو جاتی ہیں کہ وہ اُن کی پیروی کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار سے کم تر درجہ کی دین داری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس شدت پسندی کا تعلق محدود طور پر صرف رہبانیت سے نہیں ہے بلکہ اُس کا تعلق ہر دینی شعبہ مثلاً قومی اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کے لیے دو ممکن طریقے ہیں۔ ایک پر امن جدوجہد، اور دوسری پر تشدد جدوجہد۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ پر امن اور غیر متشددانہ طریقہ کار کے ذریعہ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد کی جائے۔ اس کے برعکس اگر متشددانہ طریقہ کار کا انداز اختیار کیا جائے تو اس کا بیک وقت دو نقصان ہو گا۔ ایک یہ کہ قوم کو غیر ضروری سختیاں برداشت کرنی پڑیں گی۔ کہ جب ایک بار متشددانہ طریقہ کار کی روایت قائم ہو جائے گی تو اُسی کو جدوجہد کے اعلیٰ معیار کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ متشددانہ طریقہ کار کو بے نتیجہ سمجھتے ہوئے بھی لوگ اس پر قائم رہیں گے، کیوں کہ اس سے ہٹنے کے بعد لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہوں نے خود دین کے مطلوب معیار کو چھوڑ دیا۔ عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے اقدام کے بجائے پسپائی کو اپنا طریقہ بنا لیا۔ شدت پسندی ہی کی ایک صورت وہ ہے جس کو انتہا پسندی (extremism) کہا جاتا ہے۔

انتہا پسندی یہ ہے کہ آدمی حقائق اور امکانات کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ وہ عقل کے بجائے اپنے جذبات کی رہنمائی میں چلنے لگے۔ وہ دور اندیشی کے بجائے عجلت پسندی کی روش اختیار وہ تدریج کے بجائے چھلانگ کے ذریعہ اپنا سفر طے کرنا چاہے۔

ایسا آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ شوق کو اپنے آگے رکھ دیتا ہے اور دور اندیشی کو اپنے پیچھے ۔ جاتا ہے کہ ہر ایک کی ایک حد ہے، خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی گروہ۔ حد کو نظر انداز کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جلتے ہوئے انگارے کی گرمی کا اندازہ کرنے کے لیے اُس کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ یا پتھر کو توڑنے کے لیے اپنے سر کو ہتھوڑا بنا لے۔ اس قسم کا ہر فعل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اور حد سے تجاوز کرنے والے لوگ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

Printed page