The National Conference for Community & Justice
Al-Risala, November 2003, pp. 31–39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تنظیم کی طرف سے ہر سال منتخب افراد کو ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس کو خدمت انسانیت ایوارڈ (Humanitarian of the Year) کہا جاتا ہے۔ اس ادارہ کی طرف سے پچھلے سال ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کو ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس سال جناب صفی قریشی صاحب کو یہ ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ۳۰ نومبر ۲۰۰۰ کو حیات ریجنسی (اروین، کیلی فورنیا) میں اس کی تقریب منعقد کی گئی۔ شام کو ڈنر تھا جس میں ہر ایک کو ۲۰۰ ڈالر کا ٹکٹ لینا تھا اور اس کے بعد انعام دینے کا پروگرام تھا۔ اسلم صاحب وغیرہ کے ساتھ میں بھی اس فنکشن میں شریک ہوا۔ وہاں امریکی معیار کے مطابق، اعلیٰ درجہ کا تعیشاتی ماحول تھا۔ لوگ وہاں کے رنگارنگ پروگرام میں خوب دلچسپی لے رہے تھے۔ تالیوں کی گونج میں سارا پروگرام انجام پایا۔ مگر میں انتہائی بددلی کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ بھی میں نے بہت کم کھایا۔ اپنے احساسات کا ذکر کرتے ہوئے میں نے صغیر اسلم صاحب سے کہا: For me it is a jungle of luxuries. I can not enjoy it. یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے انڈیا کے بعض لیڈروں کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ مجھے حیوانِ سیاسی (political animal) دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کی بات درست ہے، مگر امریکہ میں جو مسلمان آباد ہیں ان میں سے تقریباً ہر شخص مجھے حیوانِ کا سب
(earning animal) دکھائی دیتا ہے۔ ان لوگوں کا واحد مقصد ڈالر کمانا ہے اور اپنے بچوں کا مستقبل میں ذاتی طور پر اس کو زندگی کا کوئی مقصد نہیں سمجھتا۔
اس فنکشن میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شریک تھیں۔ ایک خاتون کے شوہر نے مجھے ان امریکہ کے پچھلے سفر میں ان صاحب کے گھر پر مجھے کھانے کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہاں ان کی بیگم نے بھی مجھ سے ملاقات کی تھی اور کچھ مسائل دریافت کیے تھے۔ میں نے خاتون سے کہا کہ اس سے پہلے آپ کے گھر پر آپ سے میری ملاقات ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں۔ بارے میں انہیں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ مجھے یہ واقعہ بہت عجیب معلوم ہوا۔ اس واقعہ سے میں نے اندازہ کیا کہ ان مسلمانوں کے گھروں میں صرف دنیوی باتوں کا ماحول ہے۔ وہاں دین کا کوئی چرچا نہیں۔ ایک دینی عالم خواہ کسی بھی ملک سے آئے اور لوگوں کو اس کی بات سننے کا موقع ملے تو اس کے بعد گھروں میں اس کا چرچا ہونا چاہیے۔ اس کی باتوں پر ڈسکشن ہونا چاہئے۔ مگر یہاں کے گھروں میں اس قسم کا کوئی ماحول نہیں۔ یہاں کے گھروں میں سوشلاﺌِیزیشن (Socialization) کے چرچے پارٹیاں کرنا اور پارٹیوں میں جانا ان کی دلچسپیوں کا موضوع بنا رہتا ہے۔ وہ ٹی وی اور مووی (movie) کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ فلمی ہیروئوں اور گیم کے کھلاڑیوں پر تبصرہ کرتے ہیں۔ دینی عالم ان کے نزدیک اس قابل نہیں کہ وہ ان کے گھر میں چرچا کا موضوع بنے۔ ہوٹل کے اس فنکشن میں اردن کے ایک اسکالر جناب بیشم احمد بندقجی سے ملاقات گفتگو کے دوران ان سے میں نے پوچھا کہ کہا جاتا ہے کہ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے اپنی ایک تقریر میں اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : نحن ابناء الفراعنة سنرميكم في البحر (ہم فرعونوں کی اولاد ہیں، ہم تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) کیا یہ صحیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ذاتی علم کی بنا پر کہتا ہوں کہ یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمال عبدالناصر سے ایک امریکی صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ نے ایسا کہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں جمال عبدالناصر نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات مطلق نہیں کہی۔ اگر اس قسم کی کوئی بات ثابت
ہو جائے تو اس کے بعد آپ جو بھی کہیں میں اس کو کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ہشام احمد بندجی نے مزید کہا کہ میں نے خود بھی جمال عبدالناصر سے اس کی بابت پوچھا تھا اور خدا گواہ ہے کہ میں نے خود بھی اپنے سوال کے جواب میں اُن سے یہ بات سنی ہے۔
امریکامیں دوسری قوم کے جو لوگ مثلاً ہندو یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں ان میں بہت سے لوگ ہیں جو اپنی قوم کی خدمت کے لیے طرح طرح کے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہی حال مسلمانوں کا بھی یہاں کے مسلمانوں میں بہت سے لوگ ہیں جو مختلف قسم کے مسلم کاموں میں مشغول رہتے مثلاً اسکول اور اسلامک سنٹر بنانا۔ سوشلائزیشن کا انتظام کرنا۔ قومی بہبود کی اسکیمیں چلانا۔ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں کے مسلمانوں کی مالی مدد کرنا۔ قومی مصیبت کے مواقع پر ریلیف کا انتظام، کریکولم میں یا میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف باتوں کو دریافت کر کے صحیح معلومات فراہم کرنا، وغیرہ۔
اس قسم کے کام کو کچھ لوگ اسلامی دعوت کہتے ہیں اور ایسے افراد کو اسلام کا داعی، مگر یہ درست مذکورہ قسم کے کام بجائے خود مفید کام ہیں مگر ان کا اسلامی دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ کے لیے میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ کمیونٹی ایکٹی وسٹ (community activist) ہیں۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ دوسرے تمام سماجوں کی طرح امریکی سماج میں بہت سی خرابیاں مثلاً نسلی تعصب، معاشی نابرابری، یہودی ایکسپلاٹیشن، خارجہ پالیسی میں دہرا پن، وغیرہ۔ سے لوگ ان چیزوں کی وجہ سے امریکی نظام کے خلاف منفی جذبات اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوتے یہ افراد جب اسلام قبول کرتے ہیں تو اسلام کے اسٹیج کو اپنے جذبات نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنا مسلمان چونکہ خود بھی اسی قسم کے منفی جذبات میں مبتلا ہیں اس لیے وہ ان نومسلموں کی اصلاح نہیں کر پاتے۔ بلکہ وہ اپنی منفی باتوں سے ان کو اسلامی اور نظریاتی بنا دیتے ہیں۔ اس طرح ان نو مسلم افراد کو فوراً ہی اپنے چھپے ہوئے خیالات کے اظہار کا ایک اسٹیج مل جاتاہے امریکامیں یادوسرے
مغربی ملکوں میں یہ جو صورتِ حال ہے وہ میرے نزدیک بیک وقت دو برائیوں کا سبب بن رہی ہے۔ ایک یہ کہ نو مسلم افراد کی صحیح ذہنی تربیت نہیں ہو پاتی۔ اور دوسرے یہ کہ یہ لوگ اسلام کے صحیح مبلغ نہیں حالانکہ نو مسلم لوگ ہی ہر دور میں اسلام کے سب سے بڑے مبلغ ثابت ہوئے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ میں نے آپ کی اکثر کتابیں پڑھی ہیں اور زبانی طور پر آپ سے مجھے سننے کا موقع ملا ہے۔ میں نے پوچھا کہ پھر ہمارے مشن کے بارہ میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تاثر آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہی سوال ایک اور شخص نے مجھ سے کیا تو میں نے ان کو یہ
Maulana Sahab is an Islamic scholar who can interpret things in a modern way without slightest deviation from the Qur’an and Sunnah. موجودہ زمانہ کا ایک عجیب ظاہر ہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان ایسے کام کرتے ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ملی کام ہوتے ہیں مگر وہ اُس کو دعوت کا نام دئے رہتے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کو نماز روزہ سکھاتا ہے اور اس کو دعوت کا کام بتاتا ہے۔ کوئی مسلمانوں کی اقتصادی یا تعلیمی ترقی کے لیے کام کرتا ہے اور اس کو دعوت کا عنوان دئے ہوئے ہے۔ کوئی عوامی رابطہ کے لیے کچھ سرگرمیاں جاری کرتا ہے اور اس کو دعوت کا نام دے دیتا ہے۔ کوئی مسلمانوں کے ملی تشخص کو محفوظ کرنے کے لیے تقریر و تحریر کا ہنگامہ برپا کرتا ہے اور اس کو دعوت قرار دینے لگتا ہے۔
اس قسم کے کام بجائے خود مفید ہو سکتے ہیں لیکن وہ ہر گز وہ کام نہیں جس کو قرآن میں دعوت کہا گیا دعوت در اصل غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا نام ہے۔ اس کام کی پہلی شرط یہ ہے کہ غیر مسلموں کے خلاف نفرت کے جذبات کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ پھر اس کام کو ملی کام سے بالکل الگ ایک کام کی حیثیت سے چلایا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کو نظام کی دعوت کے طور پر نہیں بلکہ آخرت کی دعوت کے طور پر انجام دیا جائے۔
ایک برطانی نو مسلم حامد الگرنے کہاکہ بہت سے لوگ دعوت کے نام پر یہاں ایسے لٹریچر تقسیم
کرتے ہیں جن میں اسلام کو بہتر سیاسی اور اقتصادی نظام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ انداز سراسر غیر مؤثر ہے۔ امریکا کا انسان تو یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس جو اقتصادی اور سیاسی نظام ہے وہ مسلمانوں کے نظام سے بہت زیادہ بہتر ہے پھر اس قسم کا انداز ان کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ البتہ ایک اور مقام ہے جہاں مغربی انسان اپنے اندرکمی پاتاہے یہ روحانی خلا (spiritual vacuum) ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام کی دعوت اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کے داعیوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کو روحانی انداز میں پیش کریں۔
میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس طرح اسلامی دعوۃ کا کام کر رہے ہیں وہ خود ہی روحانی اسلام سے خالی ہیں۔ وہ سیاسی باتوں کے سواکسی اور بات کو جانتے ہی روحانی انداز میں اسلام کو پیش کرنے کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کو خود روحانیت کا رزق ملا روحانیت سے محروم لوگ اس کام کو کرنے کے اہل ہی نہیں۔
یہاں میں صغیر اسلم صاحب کے مکان پر مقیم تھا۔ میں اپنے ساتھ سفر میں ہمیشہ پیلو کی مسواک رکھتا ہوں ۔ میں نے باتھ روم میں مسواک کی اور واش بیسن پر اس کو رکھ دیا۔ حالانکہ عام طور پر میں مسواک اپنی جیب میں رکھتا ہوں۔ صفائی کرنے والی خاتون آئی تو اس نے مسواک کو بے فائدہ قسم کا لکڑی کا ٹکڑا سمجھ کر اس کو کوڑے میں ڈال دیا۔ شام کو جب میں نے مسواک کرنا چاہا تو باتھ روم میں مسواک موجود نہ تھی۔
مسواک کو پھینکنا میرے لیے ایک پریشانی کی بات تھی۔ کیوں کہ یہاں عام طور پر برش کا رواج ہے اور میں برش نہیں کر پاتا۔ جو چیز میرے لیے نعمت تھی وہ صفائی کرنے والی خاتون کو کوڑا نظر آئی۔ چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہے کہ کس طرح نا واقفیت ایک صحیح کو غلط اور ایک درست کو نادرست سمجھ لیتی ہے۔ یکم دسمبر ۲۰۰۰ء کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کی مسجد میں یہ مسجد ایک چرچ کو خرید کر بنائی گئی ہے۔ مسلمان کبھی اپنی مسجد کو فروخت نہیں کر سکتے۔ دوسرے مذہب کے عبادت خانے کے لیے ہو یا کسی اور کام کے لیے۔ مگر عیسائی لوگ اپنے غیر آباد
چرچ کو نہایت آسانی سے فروخت کر دیتے ہیں۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ عیسائی لوگوں میں مذہبی اسپرٹ کی کمی ہے بلکہ یہ عبادت خانہ کے معاملہ میں تصور کا فرق ہے۔ مسیحی تصور کے مطابق زمین یا بلڈنگ کا نام چرچ نہیں ہے بلکہ اس تنظیم کا نام چرچ ہے، جو عبادت کے لیے بنائی گئی ہو: A body of Christians organized for worship and religious work. اس تصور کے مطابق ، کوئی چرچ اسی وقت تک چرچ ہے جب تک اس میں عبادتی تنظیم موجود جب وہاں عبادتی تنظیم باقی نہ رہے تو وہ بلڈنگ چرچ کی حیثیت کھودیتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عام بلڈنگ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر آباد چرچ کو عیسائی لوگ نہایت آسانی سے فروخت کر دیتے ہیں۔
جمعہ کی اذان یہاں کے قاعدہ کے مطابق، مسجد کے اندر ہوئی۔ مسجد کی چھت کے اوپر لاؤڈاسپیکر لگے ہوئے نہ تھے جو اذان کی آواز کو دور تک پہنچائیں۔ یہ ایک علامت ہے کہ کس طرح موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے دو قسم کا اسلام دریافت کر رکھا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں اگر مسجدوں کے اوپر سے لاؤڈاسپیکر اتار دیے جائیں تو اسلام خطرے میں پڑ جائے گا مگر امریکا میں کسی مسجد کے اوپر کوئی لاؤڈاسپیکر نہیں۔ اس کے باوجود یہاں اسلام اتنا زیادہ محفوظ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان اس کے منتظر رہتے ہیں کہ کب انہیں موقع ملے اور بھاگ کر امریکا پہنچ جائیں۔
امریکا میں مقیم پاکستانی لوگ کئی اردو اخبار نکالتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہفت روزہ اردو ٹائمنز ہے جو نیویارک سے چھپتا ہے۔ اس کا شمارہ ۲۹ نومبر ۲۰۰۰ دیکھا۔ اس کے صفحہ ۲ پر دو مضامین ایک مضمون کا عنوان تھا: بھارت اپنا رویہ کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ دوسرے مضمون کا عنوان تھا: امت مسلمہ کو درپیش مسائل۔ میں نے اس کو پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ امت مسلمہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہر مسئلہ کے لیے کسی نہ کسی ” بھارت “ کو دریافت کیے ہوئے ہے۔ خود ساختہ نمائندے اپنی تحریر و تقریر سے امت کو مسلسل یہ یقین دلا رہے ہیں کہ تمہارے تمام مسائل کا
سبب فلاں فلاں خارجی لوگ ہیں اور وہ اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ وہ اپنا رویہ بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی منفی رہنمائی امت کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ پوری امت کا ذہن یہ بنا دیا گیا ہے کہ تمہارے مسائل کا سبب تمہارے اندر نہیں ہے بلکہ تمہارے باہر ہے۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے اندر بیک وقت دو تباہ کن نفسیات پیدا ہوگئی ہے— اپنے بارے میں معصومانہ حد تک بے قصور ہونے کا احساس، اور دوسروں کے بارے میں مجرمانہ حد تک قصور وار ہونے کا احساس۔ اس نفسیات کا یہ مہلک نتیجہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں حقیقت پسندی اور خود تعمیری کا مزاج ختم ہوگیا۔ اسباب کی موجودہ دنیا میں حقیقت پسندی اور خود تعمیری کامیابی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ایک امریکی پبلشنگ ہاؤس برجسٹون بکس (Bridgestone Books) نے ۲۴ صفحہ کی ایک کتاب ۱۹۹۶ میں چھاپی تھی جس کا نام مسلم ہولی ڈیز (Muslim Holidays) ہے۔ اس کے مصنف کا نام فیتھ ونچسٹر (Faith Winchester) ہے۔
اس کتاب میں ان تمام "تہواروں" کا ذکر ہے جو موجودہ مسلم سماج میں رواجی طور پر منائے حالانکہ واقعی معنوں میں اسلامی تہوار صرف دو ہیں۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔ اس کتاب میں ایک پورے صفحہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خود ساختہ تصویر چھاپی گئی اس تصویر میں آپ کا جو چہرہ دکھایا گیا ہے وہ روحانی چہرہ کے بجائے جنگجو آدمی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں قرآن کے بجائے تلوار دکھائی دے رہی ہے۔ اس تصویر پر کونسل آن اسلامک ایجوکیشن نے اعتراض کیا۔ انہوں نے اس پر پبلشنگ ہاؤس سے خط وکتابت کی۔ آخر کار پبلشنگ ہاؤس اس صفحہ کو بدلنے پر راضی ہوگیا۔ چنانچہ کتاب کے اگلے ایڈیشن ۱۹۹۹ میں کتاب کے مذکورہ صفحہ پر تصویر کے بجائے جلی حرفوں میں صرف محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے۔
یکم دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے گھر پر اجتماعی افطار کا پروگرام تھا۔ اس میں کافی لوگ افطار اور نماز کے بعد مجھ سے تقریر کے لیے کہا گیا۔ میں نے کہا کہ روزہ کے متعلق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبح سے شام تک نہ کھایا جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ اور
زیادہ کھایا جائے ۔ یعنی مادی غذا کو کم کیا جائے تا کہ روحانی غذا زیادہ حاصل ہو سکے۔ قرآن میں دو چیزوں کو روزہ کا مقصد بتایا گیا ہے ۔ تقویٰ اور شکر ۔ روزہ رکھنے سے تقویٰ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور بھوک پیاس کے بعد شام کو جب آدمی کھاتا اور پیتا ہے تو اس کے اندر شکر کا جذبہ ابھرتا ہے ۔ عام حالات میں آدمی جلد جلد کھاتا رہتا ہے۔ اس لیے اس کو نہ سچی بھوک کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ اس بات کا تجربہ کہ کھانا کیسی عجیب نعمت ہے ۔ میں نے بتایا کہ تاتاریوں نے جب عباسی سلطنت کو ختم کیا تو آخری سلطان کو ایک کمرہ میں قید کر دیا۔ مسلسل کئی وقت اس کو کھانا نہیں ملا اور وہ بھوک سے تڑپنے لگا تو اس نے تاتاری سردار کے پاس پیغام بھیجا کہ میں بہت بھوکا ہوں، مجھے کھانے کے لیے کچھ بھیج دو۔ تاتاری سردار نے حکم دیا کہ محل کے تہہ خانے میں جو ہیرے اور جواہرات ملے ہیں ان کو ایک طشت میں سجا کر سلطان کے پاس لے جاؤ۔ سلطان نے جب طشت کو دیکھا تو وہ رو پڑا۔ نے روتے ہوئے کہا کہ : ان الجواهر لا تؤکل (ہیرے جواہر کھائے نہیں جاتے)۔
روزہ میں وقتی طور پر کھانا اور پینا بند کر کے آدمی کے اندر اس کیفیت کو بیدار کیا جاتا ہے کہ غذا کیسی عجیب نعمت ہے۔ دولت کی بڑی سے بڑی مقدار آدمی کے لیے غذا کا بدل نہیں بن سکتی۔ امریکہ کے موجودہ سفر میں میرا قیام زیادہ تر صغیر اسلم صاحب کے گھر پر رہا۔ ان کی باتیں اور ان کے کام مجھے عام لوگوں کے مقابلہ میں بہت مختلف نظر آئے۔ ان میں ایک انوکھی صفت میں نے یہ پائی کہ ان کے خلاف اگر کوئی سخت بات کہی جائے یا ان پر تنقید کی جائے تو وہ اس پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ نہایت معتدل انداز سے سنتے ہیں۔ ان کے اس مختلف مزاج کا راز کیا ہے، اس کا اندازہ مجھے ان کے ایک واقعہ سے ہوا۔
امریکی ریستوران میں یہ رواج ہے کہ ان کے ہاں ایک ڈاگی بیگ (Doggy Bag) ہوتا یعنی کتے کا پیکٹ۔ جو لوگ ریستورینٹ میں کھانے کے لیے آتے ہیں، جب ان کا کھانا بچ جاتا ہے تو ان کو یہ بیگ دیا جاتا ہے کہ اپنا کھانا اس میں رکھ لیں اور گھر جا کر اپنے کتے، بلی کو دے دیں تا کہ کھانا ضائع نہ ہو۔
تقریبا ۲۰ سال پہلے کا واقعہ ہے، صغیر اسلم صاحب نے نیویارک کے ایک ریسٹورینٹ میں کھانابچ گیاتوحسب قاعدہ ہوٹل کے ویٹر نے انہیں ایک خالی ڈاگی بیگ دیا اور کہا کہ اپنا بچا ہوا کھانا اس میں رکھ لیجیے اور واپس جا کر اپنے کتے کو کھلا دیجیے۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ یہ میرے لیے انسانی بیگ ہے نہ کہ ڈاگی بیگ۔ میں جا کر اس کو خود ہی کھاؤں گا۔