Al-Risala · November 2003

Please give me people bag, not doggy bag.

Al-Risala, November 2003, pp. 39–49

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ میں نے سنا تو فوراً میری زبان سے نکلا کہ آپ بلاشبہ ایک بہادر آدمی ہیں۔ آدمی ہی اس قسم کی بات کہہ سکتا ہے۔ اس کی بعد میری سمجھ میں آگیا کہ صغیر اسلم صاحب کے اندر جو غیر معمولی صفات ہیں ان کا راز کیا ہے۔ ان کا راز یہ ہے کہ وہ ایک بہادر انسان ہیں۔ بے برداشت انسان ہوتا ہے۔ وہ ہر بات کو اپنی عزت کا سوال بنا لیتا ہے۔ اس کے برعکس بہادر انسان برداشت والا انسان ہوتا ہے۔ وہ عزت اور بے عزتی کی اصطلاح میں نہیں سوچتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ کوئی بات از روئے واقعہ کیا ہے، نہ یہ کہ اس کی شخصیت سے اس کا کیا تعلق ہے۔ ۲ دسمبر کو ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب مجھ کو اپنے مکان پر لے گئے۔ وہاں میں نے چند گھنٹے ان کے رشتہ دار اور ان کے خاندان کے لوگ سو سے زیادہ کی تعداد میں یہاں قریب قریب چنانچہ بہت سے لوگ ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب کے مکان پر آگئے۔ یہاں اجتماعی انداز میں لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کے دوران میں نے کہا کہ فریڈم بہت اچھی چیز ہے لیکن جب فریڈم انارکی کی حد تک پہنچ جائے تو وہ اتنی ہی زیادہ بری چیز بن جاتی ہے۔ ظہر کی نماز ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب کے مکان پر جماعت کی صورت میں پڑھی۔ نماز کے بعد میں نے انگریزی میں ایک مختصر تقریر کی جس میں نماز کی حقیقت بتائی۔ میں نے بتایا کہ نماز مسلمانوں کے لیے ایک مکمل تربیتی کورس ہے۔

۲ دسمبر کی شام کو اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں افطار کا انتظام تھا۔ یہاں افطار سے پہلے ۱۵ منٹ کی ایک تقریر کی ۔ اس تقریر میں روزہ کی حقیقت کے بارے میں میں نے کہا کہ حدیث میں رمضان

کے مہینہ کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل حقیقت صبر ہے۔ اس بات کی تربیت ہے کہ آدمی تحمل اور برداشت کے ساتھ زندگی گزارے۔ وہ اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ دنیا میں رہ سکے۔

یکم دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کے گھر پر ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں میں نے روزہ کے بارہ میں کچھ باتیں کہیں ۔ میں نے کہا کہ آج کل لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بالقصد سحری میں اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ شام تک انہیں بھوک نہ لگے۔ مگر یہ طریقہ روزہ کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔ کا مقصد قرآن میں تقویٰ اور شکر بتایا گیا ہے۔

روزہ کے ضمن میں تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ صبح سے شام تک نہ کھانے کی وجہ سے آدمی کو بھوک کا تجربہ ہو اور پھر وہ احساس عجز کے ساتھ اللہ کی طرف تضرع کرے۔ وہ کھانے کی اہمیت کا تجربہ کر کے اللہ سے ڈرے کہ اگر وہ مجھ سے کھانا اور پینا چھین لے تو میرا کیا انجام ہوگا۔ شکر کا مطلب یہ ہے کہ شام کے وقت آدمی جب افطار کرے اور حدیث کے الفاظ میں اس کی رگیں پانی سے تر ہو جائیں تو اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو اور وہ سوچے کہ یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اس نے میرے لیے رزق کا انتظام یہ بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگوں کو چاہئے کہ شام کے وقت پورا کھانا کھائیں مگر صبح کے وقت سحری میں ناشتہ کی مانند کم کھائیں تا کہ دن میں آپ کو بھوک کا تجربہ ہو۔

اس پر حاضرین میں سے ایک صاحب نے کسی قدر شدت کے ساتھ کہا کہ یہ بات درست سحری میں اگر کم کھایا جائے گا تو دن میں آدمی کام کیسے کر سکے گا۔ میں ابھی خاموش تھا کہ حاضرین میں سے زیادہ عمر کے ایک صاحب نے کہا کہ میں لمبی مدت سے امریکا میں رہتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ روزہ رکھنے والے مسلمان روزہ میں اتنا زیادہ کھاتے ہیں کہ ان کا وزن بڑھ جاتا انہوں نے کہا کہ میں آپ میں سے ہر شخص سے کہتا ہوں کہ وہ آج اپنے کوتول کر اپنا وزن لکھ لے اور پھر روزہ کے بعد وہ دوبارہ اپنے آپ کو تولے مجھے یقین ہے کہ وہ پائے گا کہ اس کا وزن روزہ کے بعد بڑھ گیا ہے۔

میں نے کہا کہ زیادہ کھانا (overeating) عام حالات میں بھی بری ہے۔ اور روزہ کے زمانہ میں زیادہ کھانا تو اور بھی زیادہ برا ہے۔ روزہ میں زیادہ کھانا اس مصلحت کو ختم کر دیتا ہے جس کے لیے رمضان کا روزہ فرض کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ روزہ کے بارے میں اسی قسم کی صورت حال تھی جس کے خلاف فارسی شاعر نے اس طرح احتجاج کیا تھا کہ روزہ کی ریاضت نے لوگوں کی تن پروری کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ چنانچہ رمضان کا مہینہ سحری اور افطار کی دھوم کا مہینہ بن گیا ہے: تن پروری خلق فزوں شد ز ریاضت جز گرمی افطار ندارد رمضان پیچ جناب صغیر اسلم صاحب کے ساتھ کئی دنوں تک رہنے کے بعد میں نے اندازہ کیا کہ وہ غیر معمولی صفات کے آدمی ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں سے مختلف صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ۴ دسمبر ۲۰۰۰ کی صبح کو میں نے ان سے کہا:

God Almighty created you with special qualities. But He is still waiting for you to play a role which is equal to that تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے کچھ بہت غیر معمولی صلاحیت والے انسان پیدا مگر ان میں بہت کم ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا۔ تاریخ کے بیشتر اعلیٰ افراد اپنی صلاحیتوں کا صرف کم تر استعمال کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ مر کر اس دنیا سے چلے گئے۔

صغیر اسلم صاحب کی اہلیہ بشریٰ سلطانہ (عمر ۴۵ سال) پاکستان میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۷۲ سے امریکا میں رہ رہی ہیں۔ میں یہاں کئی بار آیا ہوں اور ان کے گھر پر کئی کئی دن تک ٹھہرا ہوں۔ ایک خوش حال فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور اچھی انگریزی بولتی ہیں اور امریکا کی شہری بن چکی ہیں۔ میں نے ان کے اندر ذرا بھی امریکی پن کا تجربہ نہیں کیا۔ ان کے اندر چار صفتیں نہایت عجیب ہیں— خالص دینی مزاج، خدمت خلق کا گہرا جذبہ، انتہائی سادگی، نو پرابلم خاتون بن کر رہنا۔ ان کی والدہ مرحومہ نے ان کو ایک نصیحت کی تھی، وہ یہ کہ کسی کو تم سے شکایت ہو تو تم کبھی اپنی

طرف سے صفائی مت پیش کرنا، تم نے غلطی نہ کی ہو، تب بھی کہنا کہ مجھے معاف کیجیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نصیحت ایک کلیدی نصیحت ہے۔ اور ہر عورت اور ہر مرد کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ خاندانی یا سماجی زندگی میں بیشتر مسئلے اسی لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ شکایت کے موقع پر صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ صفائی پیش کرنا عملی طور پر بالکل بے فائدہ ہے۔ اجتماعی زندگی کا واحد کامیاب فارمولا یہ ہے کہ اگر آپ نے کوئی غلطی کی ہے تو جب آپ کو غلطی کی طرف متوجہ کیا جائے تو آپ فوراً اپنی غلطی مان کر اس کی اصلاح کر لیں اور اگر آپ نے غلطی نہیں کی ہے تب بھی یہی کہیں کہ میری غلطی کے لیے مجھ کو معاف کیجیے۔ آپ کا اعتماد اس پر ہونا چاہیے کہ میں غلطی سے بری ہوں نہ کہ اس پر کہ میں نے اعتراض کرنے والے کے اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔ جناب عمران احمد چودھری (پیدائش ۱۹۷۷) ایک کمپیوٹر انجینئر ہیں۔ وہ ۱۹۹۶ میں پاکستان سے امریکا آئے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ اپنے ماحول میں کسی وجہ سے غیر آسودہ (uncomfortable) ہیں تو اس کو اپنے لیے کوئی برائی نہ اگر آپ غیر آسودگی کے ساتھ رہنا سیکھ لیں تو غیر آسودگی آپ کے لیے نعمت (boon) بن

انہوں نے کہا کہ میں یہاں ایک کمپیوٹر کمپنی میں ٹیکنیشین کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میرا کام چھوٹے کمپیوٹر(Lap Top) کورپیئر کرنا اور بیچنا تھا۔ میرا منیجر جو ایک وہائٹ امریکن تھا، کسی وجہ سے اس کو مجھ سے ضد ہوگئی۔ وہ میری سخت نگرانی کرنے لگا۔ حتیٰ کہ وہ یہ بھی دیکھنے لگا کہ میں باتھ روم میں کتنے منٹ صرف کرتا ہوں۔ جب کہ اسی آفس میں جو دوسرے ٹیکنیشین تھے ان کے ساتھ اس کا رویہ رعایت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک صورت یہ تھی کہ میں منیجر کے متعصبانہ سلوک پر غصہ کروں اور اپنے دل میں اس شکایت کی پرورش کروں کہ وہ میرے ساتھ ایک سلوک کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کچھ اور سلوک تو اس کا انجام یہ ہوتا کہ یا تو میں لڑتا، جھگڑتا یا کمپنی کو چھوڑ کر چلا جاتا۔ دونوں حالتوں میں میرا ہی نقصان تھا۔ اس کے برعکس میں نے یہ کیا کہ منیجر کے نازیبا سلوک کو نظر انداز کرتے ہوئے میں

اپنے کام میں لگارہا۔ مینیجر کی سخت گیری کو گوارا کرنے کا مزید فائدہ یہ ہوا کہ میں اپنے کام میں اور زیادہ چوکوس ہوگیا تا کہ اس کو میرے خلاف شکایت کا موقع نہ ملے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے لوگ جس کام کو تقریباً ۲ سال میں سیکھتے ہیں اس کو میں نے صرف چھ ماہ میں سیکھ لیا۔ اور اب میں دوسری کمپنی میں زیادہ بہتر جاب کر رہا ہوں۔ ۴ دسمبر کو جناب رفیع صاحب کے ہمراہ یہاں کی مختلف چیزیں دیکھیں۔ ان میں سے ایک وہ عالی شان چرچ تھا جسے کرسٹل کیتھیڈرل کہا جاتا ہے۔ وہ ایک عبادت خانہ کے طور پر بنایا گیا ہے مگر وہ اپنی وسعت اور چمک دمک کے اعتبار سے ایک بہت بڑا شوپیں دکھائی دیتا ہے۔ عبادت خانہ کا یہ نمائش تصور بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مگر عیسائی حضرات کے یہاں صدیوں سے یہ چلا آرہا ہے کہ چرچ کو اتنا عالی شان بناؤ کہ اس کی عمارت کو دیکھ کر لوگ ہمارے مذہب کی عظمت کو محسوس کریں۔ امریکا کا یہ کرسٹل کیتھیڈرل اس تصور کی ایک انوکھی مثال ہے۔ اس کیتھیڈرل میں آنے والا شخص انسانی کاریگری کی وقتی عظمت سے اتنا زیادہ مسحور ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی حقیقی اور ابدی عظمت کا سرے سے خیال ہی نہیں آتا۔

چرچ کے وسیع احاطہ میں پختہ راستے (path ways) بنے ہوئے ہیں۔ ان پر بائبل کے اقتباسات قیمتی پتھروں پر کندہ کرکے راستہ میں نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں سے اکثر اقتباسات میں خدا (God) کا لفظ بھی شامل تھا۔ مثال کے طور پر :

I will dwell in the House of the Lord forever. God has spoken to us by His son. ان پتھروں پر لوگ جوتا پہنے ہوئے اطمینان کے ساتھ چل رہے تھے۔ یہ بھی عیسائیت کا انوکھا مزاج ہے۔ ڈاکٹر حبیب اللہ خاں صاحب کی بیگم، شمیم حبیب اللہ نے اپنے مکان پر ایک اجتماع کیا جس میں ان کے وسیع خاندان کے عورت اور مرد شریک ہوئے۔ ۴ دسمبر کو میں نے اس میں شرکت کی۔ سوال وجواب کی صورت میں دیر تک اسلام کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوتی رہی۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان اسلام میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے کا شقیقہ کہا گیا ہے، یعنی ایک کُل کے دو برابر نصف حصے۔ مگر برابری کے ساتھ زندگی میں ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ عورت اور مرد کے درمیان ہی نہیں بلکہ عورت اور عورت، مرد اور مرد کے درمیان بھی ضروری ہے۔ ایڈجسٹمنٹ نہ کیا جائے تو زندگی گزارنا ہی ممکن نہ رہے گا۔

ایک مجلس میں کچھ تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان یہ گفتگو ہوئی کہ صاحب بصیرت انسان (man of vision) کون ہے۔ میں نے کہا کہ صاحب بصیرت انسان وہ ہے جس کی بصیرت کی مستقبل تصدیق کرے۔ جس کی بصیرت کی مستقبل کے حالات تصدیق نہ کریں وہ ایک خواب دیکھنے والا (dreamer) تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں صاحب بصیرت انسان۔

میں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں برصغیر کے اکثر مقبول لیڈر صرف ڈریمر ثابت پاکستان کے اقبال اورجناح اورہندستان کے گاندھی اور نہرو سب اس کی مثالیں ہیں۔ پاکستان سے آئے ہوئے ایک مسلمان نے بتایا کہ چالیس سال پہلے وہ امریکا میں آئے۔ وقت وہ نو جوان تھے۔ ایک دن وہ اپنے مقامی ساتھی کے ہمراہ ایک سڑک سے گزرے۔ ایک مقام پر اس سڑک کے کنارے ایک خوبصورت عمارت تھی۔ اس کے سامنے بہت بڑا سر سبز اور خوب صورت اس میں ہرے بھرے درخت اور پھولوں کے دلکش مناظر تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ جب میں پیسہ کمالوں گا تو امریکا میں اسی قسم کا ایک مکان اپنے لیے خریدوں گا۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ اس کو تمہیں خریدنا نہیں پڑے گا۔ وہ تو تم کو خریدے بغیر ہی مل جائے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ ساتھی نے کہا کہ یہ تو یہاں کا قبرستان ہے۔ اس قبرستان کا نام روز گارڈن ہے۔ ۳ دسمبر ۲۰۰۰ کو مجھے بھی یہاں کا ایک قبرستان دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قبرستان کا نام ملروز اے (Melrose Abbey) تھا۔ میں جب وہاں پہنچا تو یہ میرے لیے ایک نیا مشاہدہ تھا۔ نہایت وسیع پارک کی مانند تھا۔ اس کے اندر عمدہ سڑکیں بنی ہوئی تھیں۔ ایک کنارے ایک شاندار

عمارت کھڑی ہوئی تھی۔ مگر وہ کوئی محل نہ تھا بلکہ وہ عمودی (vertical) قبرستان تھا۔ یہ قبرستان دیکھنے میں ایک اعلیٰ درجہ کی تفریح گاہ معلوم ہوتا تھا۔ اتوار کا دن تھا۔ چنانچہ کئی لوگ کاروں پر سفر کر کے یہاں آئے تھے تاکہ مرے ہوئے عزیزوں کی یاد تازہ کر سکیں۔ یہاں موت کے سناٹے کے بجائے زندگی کی تازگی دکھائی دے رہی تھی۔

میں نے سوچا کہ پہلے قبرستان کا تصور یہ تھا کہ وہاں کے ماحول میں موت اور دنیا کی ناپائیداری یاد آتی تھی۔ مگر امریکہ کے قبرستان میں تو قبرستان بھی ایک راحت کدہ بن گیا ہے۔ میں قبرستان کا نام عیش باغ ہے۔ مگر حقیقت میں یہ امریکہ ہے جہاں قبرستان کو عیش باغ کی صورت دے دی گئی ہے۔

ایک مجلس میں میں نے کہا کہ کام کی دو قسمیں ہیں۔ کمیونٹی ورک اوردعوہ ورک۔ کمیونٹی ورک وہ ہے جو کمیونٹی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آئے۔ اوردعوہ ورک وہ ہے جو خالص اللہ کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے شروع کیاگیاہو۔ دونوں دونوں کے فرق کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مکہ میں دعوہ ورک تو پوری طرح ممکن تھا چنانچہ دور اول کے صحابہ رات دن اس میں مصروف رہتے تھے مگر وہاں کمیونٹی ورک کا کوئی امکان نہ تھا۔ کیوں کہ کمیونٹی ابھی وجود ہی میں نہ آئی تھی۔ موجودہ زمانہ میں کمیونٹی ورک نہایت اعلیٰ پیمانہ پر کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ آج مسلمان ایک بلین سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ ان کے پاس ہر قسم کے وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ وہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو ایک عظیم انسانی مارکیٹ بنا دیا ہے۔ ان کے درمیان جو کام بھی کیا جائے اس میں شہرت، لیڈری، مادی منافع اور عوامی مقبولیت فوراً مل اس بنا پر آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس عظیم مسلم ملت کے درمیان جو بھی کمیونٹی ورک کیا جائے وہ کامیابی کا زینہ بن جائے گا۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو بے شمار کام ہو رہے ہیں وہ زیادہ تر کمیونٹی ورک ہیں نہ کہ دعوہ ورک۔

کمیونٹی ورک اور دعوت ورک کا فرق بے بنیادی فرق ہے۔ اس فرق کو خود اسلام کی تاریخ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مکہ میں نبوت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مقیم رہے۔ وقت دعوت ورک اپنی کامل تربیتی صورت میں جاری تھا۔ اسی دعوت ورک کے نتیجہ میں اکثر بڑے بڑے صحابہ حاصل ہوئے۔ مگر اس وقت کے مکہ میں کمیونٹی ورک سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ جب کہ موجودہ دور کے مسلمانوں میں کمیونٹی ورک بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے۔ بلکہ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر جو کام مسلمانوں کے درمیان ہو رہے ہیں وہ تقریباً سب کے سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے کمیونٹی

اس سے معلوم ہوا کہ دعوت ورک تو ہر حال میں ہوتا ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ ساری دنیا میں صرف ایک مسلمان موجود ہو۔ مگر کمیونٹی ورک اس وقت ہوتا ہے جب کہ خود کمیونٹی وجود میں آچکی جتنی بڑی کمیونٹی اتنا ہی بڑا کمیونٹی ورک۔

موجودہ زمانہ میں ایک بلین سے زیادہ مسلمان ہیں۔ ان کے پاس ہر قسم کے اقتصادی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔ قدیم مکہ میں کوئی مسجد یا مدرسہ بنانا ہی ناممکن تھا۔ آج جب ایک شخص مسجد اور مدرسہ بنانے کی مہم چلاتا ہے تو اس کو ملین اور بلین ڈالر کا تعاون حاصل ہو جاتا ہے۔ اس فرق سے مزید یہ معلوم ہوا کہ دعوت ورک صرف اللہ کی رضا ہی کے لیے کرنا ممکن ہوتا ہے۔ جب کہ کمیونٹی ورک ایک ایسا کام ہے جس میں ہر قسم کے دنیوی اور مادی فائدے اعلیٰ پیمانہ پر شامل ہوجاتے ہیں۔ اس میں لیڈری بھی شامل ہے اور مقبولیت بھی اور اقتصادی فائدے بھی۔ کمیونٹی ورک عام حالات میں صرف قومی ورک ہوتا ہے، اس کو لوگ قوم کے عنوان سے کرنے کے بجائے اسلام کے نام پر اس لئے کرتے ہیں کہ لوگوں کا تعاون زیادہ سے زیادہ حاصل ہو۔ ساڑھے چار بجے دن میں جناب صغیر اسلم صاحب کے ساتھ روانہ ہو کر لاس اینجلس ایر پورٹ پہنچا۔ یہاں کی معمول کی کارروائی میں کچھ وقت گزرا۔ میرے ٹکٹ پر مسلم میل لکھوا دیا گیا تھا جو عام طور پر یہودی ذبیحہ کوشر (kosher) پر مشتمل ہوتا ہے جو میرے ذوق کے

میں نے اسے بدلوا کر اسٹیشن وجینیٹرن لکھوایا۔ میرا یہ سفر جرمن ائر لائن لفٹھانزا کے ذریعہ میرے تجربہ کے مطابق جرمن لوگ کسی قدر غیر نرم ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں سوئس ائر کے لوگ مجھے زیادہ نرم اور متواضع دکھائی دیے۔

لاس اینجلز سے لفتھانزاکی فلائٹ سے فرینک فرٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ تقریباً ساڑھے دس گھنٹے کا نان اسٹاپ سفر تھا۔ مگر راستہ میں نیند آ گئی جس نے سفر کو آسان کر دیا۔ نیند ایک عجیب نعمت ہے جو طویل مدت کو مختصر کر دیتی ہے۔

فرینک فرٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ ۶ دسمبر کی صبح کا وقت ہو چکا تھا۔ فرینک فرٹ سے دہلی کا سفردوبارہ لفتھانزاکے جہاز سے ہوا۔ تقریباً آٹھ گھنٹے کا تھا۔ دوبارہ یہ سفر بھی زیادہ تر نیند کی حالت نہیں ہوا۔ اس پورے سفر میں کھانے اور نماز کے علاوہ زیادہ تر وقت سوتے ہوئے گزرا۔ جہاز اپنے وقت پر دہلی پہنچ گیا۔ یہ شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے ۷ دسمبر کو صبح ڈیڑھ بجے کا وقت تھا، یعنی ۶ دسمبر کا دن گزار کر رات کو ڈیڑھ بجے ۔ امریکا جاتے ہوئے تاریخ دیر میں بدلتی ہے اور واپسی میں تیزی سے بدل جاتی ہے۔ دہلی ائیر پورٹ پر چلتے ہوئے وہاں پہنچا جہاں پاسپورٹ کی چیکنگ ہوتی ہے۔ میرے ساتھی کے ہاتھ میں تھا۔ چیک کرنے والے شخص نے ان سے میرا پاسپورٹ لیا اور اس کو کھول کر دیکھنے کے بعد کہا: کیا یہ وہی مولانا صاحب ہیں جو لکھ لکھتے ہیں۔ میرے ساتھی نے کہا کہ ہاں۔ نے کہا کہ اچھا جائیے اور ہم بلا روک ٹوک چلتے ہوئے باہر آگئے۔

ماہنامہ الرسالہ کا ہندی اور انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ہندی ایڈیشن کا نام الرسالہ (ال-رسالا) ہے اور انگریزی ایڈیشن کا نام اسپرپچول میسیج (Spiritual Message) دونوں کی تفصیل یہ ہے:

ہندی الرسالہ فی کاپی 10 روپے، سالانہ -/110 روپے ۔ اسپر پچول میسیج، فی کاپی 15 روپے ، سالانہ -/165 روپے ۔ دونوں کا پتہ یہ ہے:

E-4, Marian House, 29th, Road, T.P.S. III Opp. Waterfield Road, Bandra (W), Mumbai- 400 050 Tel.: 2834 1654/ 2834 6079/ 2821 8609 Fax: 2823 6323 Manager Spritual Message Published and edited by Haroon B. Shaikh 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India) Tel.: 2834 1654/ 28346079/.2821 8609, Fax: 2823 6323 حیدر آباد میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتوں پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جا سکتی ہیں:

حافظ عبد الغفار صاحب مولا نا اکبر الدین قاسمی مکان نمبر 663-8-16 (بی کلاس 168) مکان نمبر 198/A/275/A-7-18 فٹبال گراؤنڈ، جدید ملک پٹھ نیومغل پورہ، حیدر آباد 500264 حیدر آباد 500036

شتم رسول کا مسئلہ طلاق اسلام میں اسلام کا تعارف علما اور دورِ جدید سفر نامہ اسپین و فلسطین مارکسم : تاریخ جس کو رد کر چکی ہے سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ یکساں سول کوڈ اسلام کیا ہے؟

میوات کا سفر منزل کی طرف ڈائری ۱۹۹۰ - ۱۹۸۹ قال اللہ وقال الرسول اسلام : ایک عظیم جد و جہد تاریخ دعوتِ حق مطالعہ سیرت (کتابچہ) ڈائری (جلد اول)

تعمیر کی طرف قرآن کا مطلوب انسان دین کیا ہے؟

اسلام دینِ فطرت تاریخ کا سبق فسادات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان اسلام پندرہویں صدی میں راہیں بند نہیں سبق آموز واقعات حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے تذکیر القرآن (مکمل ، جلد) تذکیر القرآن (پیپر بیک) سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد اول سفر نامہ غیر ملکی اسفار، جلد دوم اسلام : ایک تعارف مذہب اور جدید چیلنج سوشلزم اور اسلام اسلام اور عصرِ حاضر اسلام اور جدید کا خالق

Printed page