دارالاسلام، دارالحرب
Al-Risala, December 2003, pp. 59–62
By Maulana Wahiduddin Khan
دارالاسلام اور دارالحرب کی اصطلاح زمانہ نبوت کے ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں بنی۔ الفاظ قرآن اور حدیث میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ دونوں اصطلاحیں مبتدعانہ اصطلاحیں تھیں۔ ان کو قرآنی اصطلاح یا مسنون اصطلاح نہیں کہا جا سکتا۔ فقہاء کے نزدیک دارالاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ دارالحرب سے مراد وہ ملک ہے جو مسلمانوں کے لیے معاند ملک کی حیثیت رکھتا ہو، جس سے مسلمان امکانی طور پر جنگ (potentially at war) کی حالت میں ہوں۔ دونوں اصطلاحیں ذاتی قیاس کے تحت بنائی گئیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ اتنی اہم اصطلاح خالص قرآن کی روشنی میں بنائی جائے۔
اس نظر سے قرآن کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دو قسم کے علاقوں کے اس فرق کو بتانے کے لیے زیادہ درست الفاظ دوسرے ہیں۔ اور وہ دار الخوف اور دار الامن کے الفاظ ہیں۔ اس رائے کا مآخذ قرآن کی وہ آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن کی حالت سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی بھی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، دور اول کے مسلمان اپنے ابتدائی دور میں خوف کی حالت
پھر اللہ نے ان کو امن کی حالت میں پہنچا دیا۔ یعنی وہ پہلے دار الخوف میں رہ رہے تھے، پھر اللہ نے ان کو دار الامن عطا فرمایا۔
وسیع تر تقسیم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دار الخوف سے مراد بنیادی طور پر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مکی دور کہا جاتا ہے اور دار الامن سے مراد بنیادی طور پر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مدنی دور کہا گیا ہے۔
گویا کہ وہ چیز جس کو بعد کے فقہاء نے دار الحرب سے تعبیر کیا، اس کو قرآن میں دار الخوف کہا اس طرح ان فقہاء نے جس حالت کو دار الاسلام سے تعبیر کیا، اس کے لیے قرآن میں دار الامن کا لفظ استعمال کیا گیا۔
مذکورہ حالت اسلام کے ظہور کے تقریباً بیس سال بعد تک رہی۔ اُس کے بعد خدا کی مزید پیغمبر اسلام کے آخری زمانہ میں وہ اہم اعلان کیا گیا جو قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں موجود اُس کا ترجمہ یہ ہے:
آج انکار کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، اور تم صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا۔ قرآن کی یہ آیت اس بات کا ایک خدائی اعلان ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے بعد دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا ہے جس نے ہمیشہ کے لیے اس امکان کو ختم کر دیا ہے کہ زمین کا کوئی حصہ اہل اسلام کے لیے دوبارہ دار الخوف بن جائے۔ اب قیامت تک کے لیے اہل اسلام کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اب ساری دنیا میں اہل اسلام کے لیے ایک ایسا دور آچکا ہے جس میں اُن کے لیے خشیت انسانی کا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب انسانی تاریخ خشیت الہی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ گویا اب ساری دنیا ہمیشہ کے لیے دار الامن ہے، اب وہ اہل اسلام کے لیے کبھی دار الخوف بننے والی نہیں۔ اب اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کریں، نہ کہ وہ
مفروضہ خوف کے نام پر اہلِ عالم سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں۔
اب مسلمانوں کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ دار الاسلام یا دارالامن قائم کرنے کے نام پر غیر مسلم قوموں سے لڑائی کریں۔ اس کے برعکس اب اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں دارالامن کے محافظ بنے رہیں۔ اب مسلمانوں کو اُس نادانی سے بچنا ہے جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :
عن حذيفة عن النبی صلی الله عليه وسلم قال : لا ينبغي لمسلم ان يذل نفسه، قيل و كيف يذل نفسه قال يتعرض من البلاء لما لا يطيق (مسند احمد، ۵/ ۴۰۵)
حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق ، دنیا کا ہر ملک اب اہل اسلام کے لیے دارالامن بن چکا دارالامن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پر امن دینی عمل کے مواقع موجود ہوں۔ اب جب کہ خدا نے تمام دنیا کو مسلمانوں کے لیے دارالامن بنا دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اہل اسلام کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنا ملی اور دینی عمل مکمل طور پر امن کے حدود میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اب اُن کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ پر امن طریق کار کو چھوڑ کر پُر تشدد طریق کار اختیار کریں۔
پُر امن طریق کار کی یہ فرضیت صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے۔ نے پیغمبر اسلام کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ اختیار فرماتے)۔
اس حدیث کے مطابق ، پرتشدد طریقہ کار ایک مشکل طریقہ کار ہے اور پرامن طریقہ کار ایک آسان طریقہ کار ۔ اب سنّت رسول کی پیروی میں اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ پرتشدد طریقہ کار سے مکمل طور پر بچیں ، اور پرامن طریقہ کار پر سختی کے ساتھ کاربند رہتے ہوئے اپنا دینی اور ملّی مقصد حاصل اب پرتشدد طریقہ کار کو استعمال کرنا سنّت رسول کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اور جو لوگ سنّت رسول کی خلاف ورزی کریں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں ۔
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات حتمی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے جس متشددانہ سلوک کا تجربہ ہو رہا ہے وہ دوسری قوموں کے ظلم کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اُس کا سبب تمام تر یہ ہے کہ مسلمانوں نے سنّتِ رسول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ کیا کہ انہوں نے پرامن طریقہ کار کو چھوڑ کر پرتشدد طریقہ کار کو اختیار کر لیا۔ اب وہ جس ہلاکت کا تجربہ کر رہے ہیں اُس کا سبب خود اُن کا مسنون طریقہ کار سے انحراف ہے ، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی طرف سے سازش یا ظلم کا معاملہ۔