اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر
Al-Risala, December 2003, pp. 63–67
By Maulana Wahiduddin Khan
قدم زنانه میں ہوجاتا تا کہ لاحد سے پرانی باری کا توڑنا قدیم زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ الحرب انفی للحرب (جنگ کا توڑ جنگ ہے) یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلا آرہا تھا۔ بدقسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجہ میں خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر اب تک کی مسلم تاریخ میں اس کے نمونے پھیلے ہوئے ہیں۔ ۱۹۴۸ میں فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا جو عملاً پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس وقت بھی تمام مسلم ذہن اسی ڈھنگ پر سوچنے لگے۔ اس سوچ کی نمائندگی ایک عرب شاعر کے شعر میں ان الفاظ میں ملتی ہے :
هات صلاح الدین ثانية فینا جددی حطین أو شبه حطينا اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اٹھ سکے ۔ ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طورپر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر پڑھئے: گفتند جهانِ ما آیا بتو می سازد گفتم که نمی سازد گفتند که برهم زن اسلام اس معاملہ میں انقلابی تبدیلی کا پیغام تھا۔ جنگ کیوں ہوتی ہے۔ جنگ ہمیشہ اختلافات کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔ لوگ اختلاف کو صرف مٹانا جانتے تھے، اس لیے وہ فوراً فریقِ ثانی سے لڑجاتے اسلام نے اس معاملہ میں ایک نئے اُصول کو رواج دیا۔ قرآن میں یہ اُصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: الصلح خیر (النساء ۱۲۸)
اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ صلح بہتر ہے۔ صلح کیا ہے۔ صلح یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دیا جائے بلکہ اختلاف کو گوارہ کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ گویا اس کا نہ کیا جائے۔ بغیر اس کے مسائل کا ازالہ ہورہا ہوتا ہے۔ مطلب ہے، اختلاف کے باوجود اتحاد۔ اس فارمولے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکہ میں ۶۱۰ میں دعوتِ توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطہ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: طهّر الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری کہ : و ثيابك فطهر (اپنے اخلاق کو درست کرو) اس قرآنی اُصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کردی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں واقعہ صلح حدیبیہ ۶۲۸ء کا ہے۔ یہ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ(difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہر حال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امراء اور حکام کے اندر بگاڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باوجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا (ادوا اليهم حقهم واسئلوا الله حقكم)
اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جوابوداؤد، التر مذی ، ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے۔ ایک لمبی روایت ہے ، اس کا آخری حصہ یہ ہے:
و إني لا أخاف على أمتي إلا الأئمة المضلين فإذا وضع السيف في امتى لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة (مسند احمد ۴/ ۱۲۳) یعنی مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے
زیادہ اندیشہ گمراہ کن لیڈروں سے ہے اور جب تلوار میری امت میں داخل ہوگی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔
اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت میں جب اختلافات پیدا ہوں گے تو نااہل لیڈر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول پر اس کو رفع نہ کرسکیں گے بلکہ وہ اختلاف کو دور کرنے کے نام پر لڑائی چھیڑ دیں گے اور جب ایک بار امت میں دین کے نام پر لڑائی کی روایت قائم ہوگئی تو اجتماعی نفسیات کی بناپر وہ قیامت تک جاری رہے گی۔
حدیث کی یہ پیشین گوئی بدقسمتی سے امت کی بعد کی تاریخ کے بارے میں درست ثابت ہوئی۔ امت کے اندر وضع سیف کا یہ معاملہ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کی شہادت کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ اس طرح مسلسل جاری ہوگیا کہ امت کی ہزار سالہ تاریخ میں وہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ چہارم اور دم عثمان کے نام پر اُٹھنے والوں کے درمیان جنگ، حسین اور یزید کے درمیان جنگ، بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگ، سنی اور شیعہ کے درمیان جنگ، مغلوں اور غیر مغلوں کے درمیان جنگ، اسی طرح موجودہ زمانہ میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان جنگ، وغیرہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اختلاف امتی رحمہ (میری امت کا اختلاف رحمت ہے) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف (difference) خدا کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے۔ وہ فطرت کا ایک لازمی جزء ہے اس لیے اختلاف کبھی زندگی سے ختم نہیں ہوتا۔ امت کے اصحاب علم و معرفت اس راز کو سمجھیں گے اور اختلاف کو مٹانے کے بجائے اختلاف کے ساتھ جینے کی کوشش کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلہ کو حل اس طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلاف امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے اختلاف کے ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پرامن سفر کامیابی کے ساتھ طے کرسکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے
جس کو ہم نے آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔ اس اُصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے، کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔
مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں ان کے معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا سادہ اُصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر۔ ان میں سے جس طریقہ کی بھی پیروی کی جائے وہ درست ہوگا (بايهم اقتديتم
اسی طرح علی اور معاویہ کا معاملہ یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث۔ قسم کے معاملات میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق (application) یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالہ کر دیا جائے اور ہر فرقہ اپنی آج کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرا نوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملہ میں ڈیفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرہ میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔ وہ غیر حکومتی دائرہ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں، اپنی کوششیں صرف کریں۔
موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالہ سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کئے ہوئے ہیں۔ مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چیچنیا اور فلپائن ، وغیرہ میں ۔ ان مقامات پر ڈیفرنس مینجمنٹ کے اُصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلمہ پر امن طریق کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔
قرآن کی آیت: الصلح خیر (النساء ۱۲۸) بتاتی ہے کہ ڈیفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔ وہ ہر حال میں قابل عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت نا قابل عمل بن جاتا ہے جب کہ مسلمان تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیں۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا
کرے گا اور پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کرکے وہ صورت حال کو بگاڑ دیں تو خود انہیں کو دوبارہ صورت حال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں تا کہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈیفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔
اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصول فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈیفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق واختلاف والاسماج ہے۔ فرق واختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔
It requires difference management rather than eliminating the difference. فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈیفرنس مینجمنٹ کا آرٹ فرق واختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق واختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔
فرق واختلاف کوئی بُرائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق واختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔