Al-Risala · December 2003

دعوت عام کی ذمہ داری

Al-Risala, December 2003, pp. 68–69

By Maulana Wahiduddin Khan

بیان کیا جاتا ہے کہ پچھلے انبیاء مقامی آبادیوں کے لیے آئے۔ وہ جس قوم میں پیدا ہوئے وہی قوم اُن کی دعوت کا میدان ہوتی تھی۔ مگر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا تھا اس لیے آپ ساری دنیا کے لیے داعی اور منذر بنا کر بھیجے گیے (الفرقان ۱)۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وما ارسلنٰک الا رحمة للعالمين (الانبیاء ۱۰۷) یعنی ہم نے تم کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

یہ بات اہل اسلام کے لیے فخر یا فضیلت کی بات نہیں ہے بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری کی بات اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے پیغمبروں کی امتوں کی دعوتی ذمہ داری اگر مقامی دائرہ تک محدود رہتی تھی تو امت محمدی کی ذمہ داری سارے عالم تک پھیلی ہوئی ہے۔ اُمت محمدی کا اُمّت محمدی ہونا صرف اُس وقت متحقق ہوسکتا ہے جب کہ وہ تمام دنیا کی قوموں کے اوپر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کرے۔ دعوتی عمل کے بغیر اُس کا اُمت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے (المائدہ ۶۷)

مزید یہ کہ اس دعوتی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُمّت کے لوگ تمام دنیا میں مسلم وار تحریکیں چلائیں بلکہ اُنہیں لازمی طور پر غیر مسلم وار تحریکیں چلانا ہے۔ مسلم وار تحریک یا ملت وار تحریک امت کا داخلی مسئلہ ہے جب کہ غیر مسلم وار تحریک ، خارجی معنوں میں اُمّت کی لازمی ذمہ داری ہے۔ علمائے اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دعوت کے بغیر جہاد نہیں۔ ابن رشد نے الفصل الرابع فی شرط الحرب کے تحت لکھا ہے: فاما شرط الحرب فهو بلوغ الدعوة باتفاق، اعنى انه لا يجوز حرابتهم حتى يكونوا قد بلغتھم الدعوة، وذلك شئ مجتمع عليه من المسلمين لقوله تعالى: وما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً (بداية المجتهد ۱/ ۳۸۶) یعنی جنگ کی شرط متفقہ طور پر یہ ہے کہ ان لوگوں تک دعوت پہنچ چکی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اس

وقت تک جنگ جائز نہیں جب تک کہ انہیں دعوت نہ پہنچ جائے۔

اس معیار کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ پچھلے تقریبا تین سو سال سے مسلم رہنما جہاد کے نام پر غیر قوموں سے جو لڑائیاں لڑ رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی جہاد نہیں۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ یہ لڑائیاں دعوت و تبلیغ کے بغیر لڑی گئیں۔ مثلاً شاہ ولی اللہ دہلوی کی (بالواسطہ) جنگ مراٹھوں سے، شہیدین کی جنگ سکھوں سے، علمائے ہند کی جنگ انگریزوں سے، عربوں کی جنگ اسرائیلیوں سے، پاکستانیوں اور کشمیریوں کی جنگ ہندوؤں سے، فلپائنی مسلمانوں کی جنگ وہاں کے عیسائیوں سے، چیچن مسلمانوں کی جنگ روسیوں سے، وغیرہ۔

یہ اور موجودہ زمانہ کی دوسری لڑائیاں جو مسلم رہنما لڑتے رہے یا لڑ رہے ہیں، ان میں سے کوئی بھی جہاد فی سبیل اللہ نہیں۔ کیوں کہ یہ لڑائیاں دعوت و تبلیغ کی شرط کے بغیر شروع کر دی گئیں۔ ہے کہ موجودہ زمانہ کی یہ تمام لڑائیاں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔ مسلمانوں کی یک طرفہ تباہی کے سوا ان کا اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

کسی غیر مسلم قوم کے خلاف جہاد (بمعنی قتال) چھیڑنے کے لیے یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ اس نے مسلمانوں پر ملک و مال کے اعتبار سے کوئی نقصان پہنچایا ہو۔ ایسے کسی مسئلہ کے حل کے لیے پرامن تدبیر ہے نہ کہ متشددانہ جنگ۔ غیر مسلموں کے سلسلہ میں مسلمانوں کی اول و آخر ذمہ داری دعوت و تبلیغ جہاد (بمعنی قتال) صرف مخصوص اور متعین شرطوں ہی پر جائز ہے، اور موجودہ زمانہ میں یہ شرطیں کسی بھی مقام کے مسلمانوں کے حق میں موجود نہیں۔

کسی قوم کے خلاف دعوت کے بغیر جہاد چھیڑنا نہایت سنگین ذمہ داری ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے صرف یہ کیا تھا کہ دعوت کی تکمیل سے پہلے انہوں نے اپنی مدعو قوم سے ہجرت کا معاملہ کیا۔ لوگ جنہوں نے سرے سے دعوت کا عمل ہی نہ کیا ہو اور پھر صرف مادی نزاع کی بنا پر اپنی مدعو قوم کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دیں، اُن کا معاملہ حضرت یونس کے مقابلہ میں اللہ کی نظر میں کتنا زیادہ سنگین ہوگا، اس کا تصور بھی لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔

Printed page