کفر اور کافر کا مسئلہ
Al-Risala, December 2003, pp. 74–77
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی میں کمیونسٹ نظریہ بڑے پیمانہ پر ساری دنیا میں پھیلا۔ اس کے تحت انسانی سماج کو دو طبقوں میں بانٹ دیا گیا۔ ایک محنت کش طبقہ (working class) اور دوسرا بورژوا طبقہ۔ بورژوا(bourgeois)ایک فرانسیسی لفظ ہے۔ یہ لفظ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے متوسط طبقہ کے لیے بولا جاتا تھا۔ مگر مارکسی فلسفہ کے زیراثر وہ ایک تحقیری (derogatory) لفظ بن گیا۔ نظریہ کے تحت سماج دو طبقوں میں بٹ گیا۔ ایک محنت کش طبقہ جو ہر اعتبار سے معصوم طبقہ کی حیثیت رکھتا تھا اور دوسرا بورژوا طبقہ جو مارکسی تصور کے مطابق، سرمایہ دار طبقہ (capitalist class) کے ہم معنیٰ تھا اور جو مارکس کے مطابق، ہر قسم کی سماجی اور اقتصادی برائی کی جڑ تھا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ کافر کے لفظ کے ساتھ پیش آیا ہے۔ کافر کا لفظ ابتدائی طور پر صرف ایک سادہ مفہوم رکھتا تھا۔ لغوی اعتبار سے کافر کے معنیٰ ہیں، انکار کرنے والا۔ مگر بعد کے زمانہ میں کافر کا لفظ ایک تحقیری لفظ (derogatory word) بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں نظری اعتبار سے یہ غالباً مسلم اور غیر مسلم کے درمیان سب سے بڑا نزاعی مسئلہ ہے جس سے موجودہ زمانہ کے مسلمان دو چار ہیں۔ ایک مثال سے اس معاملہ کی وضاحت ہوگی۔ اقبال کا خاندان پہلے ایک برہمن خاندان تھا۔ بعد کو وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے اپنے ایک شعر میں
مرا بنگر که در هندوستان دیگر نمی بینی برہمن زاده دانا ئے رمز روم و تبریز است اس شعر میں برہمن زادہ کا لفظ سننے والوں کو برا نہیں لگتا۔ ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے برہمن زادہ اور کافر زادہ دونوں ہم معنیٰ الفاظ ہیں۔ لیکن اگر اقبال کے اس شعر کو بدل کر اس طرح کہا جائے: که کافرزاده دانا ئے رمز روم و تبریز است
اگر شعر میں ایسی تبدیلی لائی جائے تو تمام اقبال پسند لوگ غصہ ہو جائیں گے۔ کیوں کہ برہمن ایک سادہ لفظ ہے جب کہ کافر استعمال کے اعتبار سے ایک تحقیری لفظ بن گیا ہے۔
کمیونسٹ اور بورژوا کی تقسیم نے بیسویں صدی میں غیر کمیونسٹ دنیا کو کمیونسٹ لوگوں سے متنفر کر دیا تھا۔ یہی معاملہ اب مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ مسلمانوں کی طرف سے مومن اور کافر کی تقسیم نے غیر مسلم دنیا کو مسلمانوں سے بیزار کر دیا ہے۔ حتی کہ اب اشوک سنگھل اور پروین تو گڑیا جیسے لوگ یہ مانگ کرنے لگے ہیں کہ اسلام پر نظر ثانی کرو اور کافر کے لفظ کو اسلام کی لغت سے خارج کرو۔ جب تک اسلام میں یہ ریفارم نہ لایا جائے، مسلم اور غیر مسلم معتدل طور پر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اشوک سنگھل اور پروین تو گڑیا جیسے انتہا پسند لوگوں کا نہیں ہے بلکہ اب وہ خود مسلمانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ آج کے صنعتی سماج میں مسلم اور غیر مسلم دونوں ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں تعلیم یافتہ مسلمان عام طور پر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ ’’کافر‘‘ کے روایتی تصور کے ساتھ مشترک سماج میں معتدل طور پر نہیں رہ سکتے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام نے موجودہ زمانہ میں اپنا ریلیونس (relevance) کھو دیا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے اسلام کو لے کر وہ آج کے سماج میں عزت کے ساتھ کس
دہلی میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ ان سے اکثر میری ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ ہیں کہ میری پیدائش اگر چہ مسلمان کے گھر میں ہوئی مگر اب اسلام پر میرا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ ہیں کہ میرا مذہب ڈیموکریسی (جمہوریت) ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام انسانیت کو مومن اور کافر کے دو نامساوی طبقوں میں بانٹتا ہے۔ جب کہ ڈیموکریسی سارے انسانوں کو برابر کا درجہ دیتی ہے۔ نے ایک بار مجھ سے کہا کہ میرے یہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوگا تو میں اس کے کان میں اذان نہیں دلواؤں گا بلکہ کسی پروفیسر کو بلاؤں گا جو بچہ کے کان میں کہے گا ڈیموکریسی، ڈیموکریسی، ڈیموکریسی۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کا مسئلہ صرف غیر مسلم لوگوں کا مسئلہ نہیں۔ اب جدید سماج میں وہ بڑے
پیمانہ پر خود مسلمانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے اور اس کے صحیح مفہوم کو سامنے لایا جائے تا کہ اسلام لوگوں کو وقت کا مذہب معلوم ہو اور مسلم اور غیر مسلم دونوں جدید سماج میں معتدل طور پر دوسروں کے ساتھ رہ سکیں۔
گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سارا معاملہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کافر اور غیر مسلم دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ جو لوگ مسلمان نہیں وہ سب کے سب یہ بلاشبہ ایک غلط تصور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کافر کا لفظ غیر مسلم کے مترادف نہیں: The word Kafir is not synonymous with non-Muslim. داعی اور مدعو کا رشتہ شریعت کے اعتبار سے مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلم کی حیثیت مدعو کی۔ یہ رشتہ لازم کرتا ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ساتھ ہمیشہ معتدل تعلق قائم رکھے۔ کہا جاتا ہے کہ تاجر کو ہمیشہ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) ہونا چاہئے۔ اسی طرح داعی کا فارمولا یہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمیشہ مدعو فرینڈلی ہو۔ Be always Mad'u friendly. مدعو کے حق میں داعی کے اندر خیر خواہانہ جذبات ہونے چاہئیں۔ اگر داعی کے اندر مدعو کے لیے یہ مطلوب جذبات موجود ہوں تو وہ ہر گز اس کو پسند نہیں کرے گا کہ وہ ایسے الفاظ بولے جس سے مدعو کے دل میں اُس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے۔ حتیٰ کہ اگر وہ سچا داعی ہے تو اپنے دل میں بھی وہ ایسی بات نہیں سوچے گا۔ دعوت کا جذبہ نفرت کا قاتل ہے۔ داعی کا دل ایک درد مند دل ہوتا ہے۔ دل کے اندر محبت اور خیر خواہی کے سوا کوئی اور چیز پرورش نہیں پاسکتی۔
قدیم زمانہ میں آرین لوگ جب انڈیا میں آئے تو یہاں کے مقامی لوگوں کو انہوں نے ملیچھ کہا۔ اسی طرح مسیحی علماء نے مسلمانوں کو اپنی کتابوں میں انفڈل (Infidels) لکھا۔ ملیچھ اور انفڈل دونوں تحقیری الفاظ (derogatory words) ہیں۔ کہنے والا ان الفاظ کو بول کر خوش ہوتا ہے مگر جس کے بارے میں یہ لفظ بولا گیا ہے وہ اس کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایسے الفاظ
استعمال کئے جائیں جن میںکوئی تحقیری مفہوم (derogatory sense) نہ ہو بلکہہ وہ سادہ طور پر صرف اظہار واقعہ کے ہم معنی ہو۔
بدقسمتی سے اس معاملہ میں مسلم علماء احتیاط کا پہلو اختیار نہ کر سکے۔ وہ اپنی کتابوں میں اور قرآن کے ترجموں میں کافر کے لیے بے تکلف انفڈل کا لفظ استعمال کرنے لگے۔ مثال کے طور پر مولانا عبد الماجد دریا بادی نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن میں قل یا ایھا الکافرن کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے:
Say thou: infidels (4:535)