Al-Risala · December 2003

صا مسل

Al-Risala, December 2003, pp. 77–79

By Maulana Wahiduddin Khan

دراصل مسلم علماء اور رہنماؤں کی اسی قسم کی غیر احتیاطی باتیں ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سخت تناؤ پیدا ہوگیا ہے جس کا نتیجہ مختلف ناخوشگوار صورتوں سامنے آتا رہتا ہے۔

یہی غلطی قرآن کے اردو اور فارسی مترجمین نے بھی کی ہے۔ قرآن کے بہت سے ترجمے شائع مگر غالباً صرف ایک مترجم (شاہ عبدالقادر) کو چھوڑ کر تمام مترجمین نے اس معاملہ میں بے احتیاطی کا انداز اختیار کیا ہے۔ قل یا ایھا الکافرون کے کچھ ترجمے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: بغوائے کا فراں (شاہ ولی اللہ)

کہ اے کافرو (شاہ رفیع الدین)

آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے (اشرف علی تھانوی)

کہہ دو کہ اے کافرو (ابوالاعلیٰ مودودی)

کہہ دو، اے کافرو (امین احسن اصلاحی)

تو کہہ، اے منکرو (شاہ عبدالقادر)

اس قرآنی آیت کے تحت اکثر مترجمین نے اسی قسم کے ترجمے کئے ہیں۔ اس آیت کا ترجمہ درست نہیں ۔ بالفرض وہ خالص لغوی اعتبار سے غلط نہ ہو تب بھی وہ دوسری قوموں کے لیے ایک

قابل اعتراض لفظ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس ترجمہ سے احتراز کیا جائے۔ پھر یہ صرف ترجمہ کی بات نہیں، اسی ترجمہ کی بنیاد پر ذہن بنتا ہے اور تقریر و تحریر میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ترجمہ پوری ملت کی منفی ذہن سازی کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ ترجمہ ہم اور وہ (we and they) کا ذہن پیدا اور اس قسم کا تقسیمی ذہن دعوتی اعتبار سے درست نہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، غالباً ایک ہی عالم ہیں جنہوں نے قرآن کے ان الفاظ کا درست ترجمہ کیا ہے اور وہ شاہ عبدالقادر دہلوی ہیں۔ شاہ عبدالقادر صاحب کا اردو ترجمہ تمام علماء کے نزدیک نہایت مستند مانا گیا ہے۔ انہوں نے مذکورہ آیت کا ترجمہ منکر و کیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۹ میں قل یا ایہا الکافرون (کہو کہ اے منکرو) کے الفاظ آئے یہ طرز خطاب پورے قرآن میں صرف ایک بار اسی سورہ میں استعمال ہوا ہے۔ کافر یا کفار یا کافرون کے الفاظ تو قرآن میں متعدد بار آئے ہیں۔ مگر ایہا الکافرون جیسے متعین خطاب کی صورت میں اس کا استعمال قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوا ہے۔

مفسرین کی رائے کے مطابق، یہاں الکافرون میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ ایک گروہ خاص کے لیے مشخص طور پر آیا ہے، نہ کہ عمومی طور پر ہر اُس شخص کے لیے جو مسلم گروہ سے باہر ہو۔ میں کچھ مفسرین کے اقوال درج کیے جاتے ہیں:

(قل ياايها الكافرون) المخاطبون كفرة مخصوصون قد علم الله انهم لايؤمنون (تفسير النسفي)

و عنى بالكافرين قوماً معينين لا جميع الكافرين (تفسير القرطبي)

خطاب لجماعة مخصوصة (تفسير المظهری)

قل یا ایہا الکافرون ایک مخصوص خطاب ہے، اُس کو عمومی طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ قل یا ایہا الکافرون سے مراد ہمیشہ کے لیے صرف قدیم منکرین قریش رہیں گے جو پیغمبر اسلام کے معاصر تھے اور پیغمبرانہ اتمام حجت کے باوجود، جنہوں نے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کیا۔

نبوت کے بعد کے لوگوں کو ایھا الانسان کے لفظ سے خطاب کیا جائے گا، نہ کہ ایھا الکافرون کے لفظ سے۔ اب یہی انداز خطاب ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ کافر کا مفہوم عربی زبان میں کفر کے معنی انکار کے ہیں اور کافر کا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ مطابق، کافر ایک کردار ہے، کافرکسی قوم کا اجتماعی لقب نہیں:

Kafir is an individual character rather than a group title of a certain race or community. کافر وہ ہے جو منکر ہو (One who refuses to accept)۔ قرآن کے اُردو ترجموں میں سب سے زیادہ صحیح ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی کا مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ترجمہ قرآن میں کافر کا ترجمہ منکر کے لفظ سے کیا ہے۔ یہی اس لفظ کا صحیح ترجمہ ہے۔ قرآن کے انگریزی مترجمین اکثر کافر کا ترجمہ اُن بلیور (unbeliever) کے لفظ سے کرتے ہیں۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں۔ اَن بلیور کا مطلب غیر مومن یا غیر معتقد ہوتا ہے۔ جب کہ کافر کا مطلب صرف غیر معتقد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اتمام حجت کے باوجود ماننے سے انکار کرے۔

دور اول میں جب قرآن کی ابتدائی آیتیں اتریں تو ان میں پیغمبر کے مخاطبین کو کافر نہیں کہا گیا بلکہ ان کے لیے انسان جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ: یا ایھا الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك ....... والله يعصمك من الناس ۔ آیت میں دیکھئے ۔ یہاں يعصمك من الناس (خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا) کے الفاظ آئے ایسا نہیں ہوا کہ یہاں يعصمك من الكفار کا لفظ استعمال کیا جائے۔ قرآن میں کثرت سے اس طرح کی آیتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ ہر گروہ کے لیے اصلاً انسان جیسا عمومی لفظ استعمال کیا جائے گا۔ کافر کا لفظ صرف ان افراد تک مخصوص رہے گا جن کے لیے خدا نے خود کافر کا لفظ استعمال کیا ہو۔ لفظ ایک خدائی اعلان ہے، وہ انسان کا دیا ہوا خطاب نہیں۔

Printed page