Al-Risala · December 2003

فعل اور فاعل کا فرق

Al-Risala, December 2003, pp. 80–81

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۹ کی پہلی آیت یہ ہے: قل يا ايها الكافرون (الكافرون ۱) اس آیت میں الکافرون سے مراد قدیم مکہ کے منکرین قریش ہیں۔ ان الفاظ میں قریش کے منکرین کے بارہ میں اتمام حجت کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ تم لوگ اللہ کی نظر میں کافر ہو چکے ہو۔ قرآن میں اس طرح تعین اور تشخص کی زبان میں کسی اور گروہ کے کافر ہونے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ قرآن میں دوسرے مقامات پر کفر اور کافر کے الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً فرمایا: فمنكم كافر ومنكم مومن (التغابن (۲) اسی طرح ارشاد ہوا ہے: فمنهم من آمن و منهم من كفر (البقرہ (۲۵۳) ان دوسری قسم کی آیتوں میں فعل کا ذکر ہے مگر مشخص طور پر فاعل کا ذکر نہیں۔ یعنی یہ تو کہا گیا ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب کفر ہے یا فلاں فعل کا ارتکاب کرنے والا خدا کی نظر میں کافر بن مگر ان دوسری قسم کی آیتوں میں ایسا نہیں کیا گیا ہے کہ کسی گروہ کو مشخص اور متعین کر کے اُس کے بارہ میں یہ اعلان کیا جائے کہ فلاں فلاں گروہ کافر ہیں۔

قرآنی بیان میں اس فرق سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے اور وہ اصول یہ ہے کہ یہ کہنے کا حق ہر داعی کو ہے کہ فلاں فعل کا ارتکاب کفر ہے۔ مگر یہ حق کسی بھی داعی یا عالم کو نہیں کہ وہ مشخص طور پر یہ اعلان کرے کہ فلاں گروہ یا فلاں قوم کافر ہے۔

ایک متوازی مثال سے اس معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: من ترك الصلاة متعمداً فقد كفر۔ دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ بين العبد و بين الكفر ترك الصلاة - اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کر مسلسل نماز ترک کرے تو وہ شریعت کے مطابق ، کافر ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کو لے کر کوئی مصلح اگر یہ کرے کہ وہ عمومی طور پر ترغیب و ترہیب کے انداز میں مسلمانوں کو نماز کی طرف متوجہ کرے اور ترک صلاۃ کی وعید بتائے تو اُس کا ایسا کرنا بالکل جائز ہوگا۔ لیکن اگر کوئی مصلح ایسا کرے کہ وہ نماز نہ پڑھنے والے مسلمانوں کی نام بنام ایک فہرست تیار کرے اور اس فہرست کو لے کر مشخص طور پر یہ اعلان کرے کہ فلاں فلاں مسلمان

ترک صلاۃ کی بنا پر کافر ہو چکے ہیں تو اُس کا ایسا کرنا بالکل غلط ہو گا۔ ٹھیک اِسی طرح کوئی داعی یا مصلح قرآن کی آیتوں کو لے کر یہ مسئلہ بیان کر سکتا ہے کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کا ارتکاب کرنے سے کوئی شخص اللہ کی نظر میں کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن اُس کا ایسا کرنا اپنی حد سے تجاوز ہو گا کہ وہ غیر مسلم افراد یا گروہوں کے نام لے کر یہ اعلان کرے کہ فلاں فلاں غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔

اس معاملہ میں فعل اور فاعل کے درمیان فرق کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کہ وہ مشخص طور پر فاعل کا اعلان کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان صرف ایک بار قدیم منکرینِ قریش کے بارہ میں کیا ہے جن کے اوپر پیغمبر نے براہ راست اتمام حجت کیا تھا۔ بقیہ انسانوں کے بارہ میں وہ آخرت میں اعلان فرمائے گا۔ ہمارا کام صرف دعوت دینا ہے، نہ کہ لوگوں کے کافر ہونے کا

Printed page