Al-Risala · December 2003

کفر کا تحقق

Al-Risala, December 2003, pp. 82–84

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی شخص کے بارے میں کب یہ متحقق (establish) ہوگا کہ وہ منکر یا انکار کرنے والا بن چکا اس سوال کا جواب خود قرآن میں موجود ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن کے نزول کا آغاز ۶۱۰ء میں مکہ میں ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے ذریعہ مکہ کے لوگوں تک توحید کی دعوت پہنچاتے اس دعوتی مہم میں آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنے مخاطبین کو کافر کہہ کر خطاب کریں۔ دوران میں جو آیتیں اتریں ان سب میں انسان جیسے الفاظ تھے۔ آپ نے انہیں اپنی قوم کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا پیغام پہنچایا۔

دعوت کی یہ مہم آپ نے اس طرح چلائی کہ آپ گہرے طور پر ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ نے ان کی ایذاؤں پر یکطرفہ صبر کیا۔ آپ نے ان سے کسی بھی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ آپ نے ان

سے بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے آپ کے اور ان کے درمیان مادی نوعیت کی کوئی نزاع قائم ہو جائے۔ آپ یک طرفہ طور پر ہمیشہ اُن کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کو ان کی طرف سے طرح طرح کی مصیبتیں پہنچیں مگر آپ ہمیشہ ان کے لیے دعا کرتے رہے۔

دعوت کی یہ صبر آزما جد و جہد تیرہ سال تک چلتی رہی۔ تیرہ سال کے بعد بھی پیغمبر اسلام نے اپنی زبان سے ان کے لیے کبھی کافر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت اتری کہ: قل يا ايها الكفرون (تم کہہ دو کہ اے انکار کرنے والو)۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرانہ معیار کی تیرہ سال کی جد و جہد کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ مخاطبین کا انکار ثابت ہو جائے اور ان کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ اے انکار کرنے والو۔ اس قسم کے دعوتی کورس سے پہلے کسی کو منکر یا کافر قرار دینا جائز اب جب کہ پیغمبرانہ معیار کی تیرہ سالہ جد و جہد کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ کسی کو کافر یا منکر قرار دیا جاسکے تو عام لوگوں کے لیے تو ایک سو تیرہ سال کی مدت بھی اس کام کے لیے ناکافی ہوگی۔ کفر کی اصطلاح مکی دور میں قرآن میں بعض ایسی آیتیں اتریں جن کا تعلق بیرون عرب کے غیر مسلموں سے مثلاً قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ کے آغاز میں رومیوں (عیسائیوں) کا ذکر ہے جو وقتی طور پر ایرانیوں سے مغلوب ہوگئے تھے۔ مگر آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ غلبت الکفار فی ادنی الارض (روم کے کفار جو مغلوب ہوگئے ہیں) بلکہ یہ فرمایا کہ غلبت الروم فی ادنی الارض (رومی جو مغلوب اسی طرح سورہ نمبر ۱۰۵ میں یمن کے غیر مسلم حاکم ابرہہ کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں اُس کا ذکر یمن کے ایک کافر حکمران کے طور پر نہیں کیا گیا بلکہ اصحاب فیل کے لفظ سے اُس کا ذکر کیا گیا۔ قدیم مکہ کے منکرین کے لیے قرآن میں کفر اور کافر کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ نہیں ہوا کہ اس کے بعد اُس زمانہ کے اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو کافر کے لفظ سے پکارنے لگیں۔ ہجرت کے بعد رسول اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے تو انہوں نے یہاں کے لوگوں کو کافر کے لفظ سے خطاب نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یثرب پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو جو پہلا خطاب کیا اس

میں آپ نے انہیں اے لوگو (ايها الناس، اتقوا النار ولو بشق تمرة) کے لفظ سے خطاب اسی طرح مدینہ کے باہر ملک کے اطراف میں بہت سے غیر مسلم قبیلے موجود تھے۔ مگر اُن کو بھی کافرانِ عرب یا کافر قبائل کا نام نہیں دیا گیا۔ بلکہ اُن کے معروف نام سے انہیں پکارا گیا۔ سقیف، اہلِ نجران، اہلِ بحرین، وغیرہ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ دورِ اول میں اہلِ اسلام جب عرب سے نکل کر ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف مذہب کے ماننے والے لوگ آباد تھے۔ دورِ اول کے مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا کہ ان غیر مسلموں کو کافر کے نام سے پکاریں۔ انہوں نے ہر ایک کو اُس کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارا۔ مثلاً شام کے مسیحیوں کو مسیحی کہا، فلسطین کے یہودیوں کو یہودی کہا، ایران کے مجوسیوں کو مجوسی کہا، افغانستان کے بودھوں کو بودھ (بوذا) کہا، وغیرہ۔

اسی طرح دورِ اول کے یہ مسلمان جب ہندوستان آئے تو یہاں بھی انہوں نے یہی کیا۔ نے یہاں کے لوگوں کو ہند و کہا جو سندھو کا عربی تلفظ ہے۔ ابو الریحَان البیرونی (وفات ۱۰۴۸ء) نے ہندوستان کا سفر کیا۔ اُس نے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوستان کے بارہ میں ایک عربی کتاب تاریخ الہند اُس میں وہ یہاں کے غیر مسلموں کو ہند و کہتا ہے، نہ کہ کافرانِ ہند۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہی رواج باقی رہا۔ اب بھی کثرت سے ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ بقیہ دنیا میں یہی رواج بالفعل قائم ہے۔ مسلمان امریکا اور یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد وہاں اُن کا سابقہ غیر مسلم قوموں سے پڑتا ہے۔ مگر ہر ایک کو وہ اُن کے اپنے اختیار کردہ نام سے پکارتے ہیں، وہ اُنہیں کافر یا کفار نہیں کہتے۔

Printed page